ہیڈلائنز


فلسطینیوں کے احتجاج کو کچلنے کے لیے اسرائیلی فوج کا طاقت کا اندھا دھند استعمال

Written by | روزنامہ بشارت

قابض اسرائیلی کی طرف سے فلسطینی شہریوں کے خلاف اشتعال انگیزی روز کا معمول ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا صدر مقام تسلیم کرنے کے رد عمل میں فلسطین میں عوامی غم وغصے کی شدید لہر اٹھی ہے۔ فلسطینیوں کے احتجاج کو کچلنے کے لیے قابض اسرائیلی فوج طاقت کا
اندھا دھند استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔  ایمبولینسوں، رضاکاروں اور طبی عملے کو نشانہ بنانے کے لیے صہیونی فوج کی طرف سے کئی طرح کے بہانے تراشے جا رہے ہیں۔ ایمبولینسوں کو حملوں کا نشانہ بنانے کے لیے یہ الزام عاید کیا جا رہا ہے کہ نقاب پوش فلسطین مظاہرین ایمبولینسوں کو اپنی سواریوں کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔ وہ ایمبولینسوں کے ذریعے اسرائیلی فوج پر دھاوے بولتے، سنگ باری کرتے، پٹرول بم پھینکتے، ٹائر جلاتے اور اسرائیل کیقریب پہنچنے پر ایمبولینسوں پر سوار کوبھاگ جاتے ہیں۔اسرائیلی فوج کی طرف سے ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں کچھ فلسطینیوں کو ایمبولینسوں سے اترتے کر اسرائیلی فوج پر سنگ باری کرتیدکھایا گیا ہے۔ صہیونی فوج نے اس واقعے کو ایمبولینسوں کے خلاف کارروائی کے لیے جواز کے طور پرپیش کیا ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی درعی نے سوشل میڈیا پر ایک فوٹیج پوسٹ کی ہے۔ اس میں فلسطینی ہلال احمر کی ایک ایمبولینس کو فوکس کیا گیا ہے جس سے فلسطینی نقاب پوشوں ایک گروپ اترتا
ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’ہم اس طرح جرائم بے نقاب کرت ہیں، اس کے بعد ہم کیسے ہلال احمر کی طرف سے زخمیوں کی بیان کردہ تعداد کی تصدیق کرسکتے ہیں۔دوسری طرف العربیہ چینل کی جانب سے بھی اسی واقعے کی فوٹیج حاصل کی ہے۔ اس فوٹیج میں اسرائیلی فوج کے دھاوے کا بھانڈہ پھوٹ گیاہے۔ العربیہ کی طرف سے حاصل کی گئی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے اسرائیلی فوجی ترجمان نے جس ایمبولینس کو فلسطینی مزاحمت کاروں کو لانے کا دعویٰ کیا ہے وہ قابض فوج کی کارروائیوں میں زخمی والے فلسطینیوں کیو طبی امداد فراہم کرنے اور اسپتالوں میں لے جارہی ہے۔ فوٹیج سے پتا چلتا ہے کہ قابض فوج نے ایک فلسطینی لڑکی کو گولیاں ماریں جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئی۔ اس کی ساتھیوں نے اسے اٹھایا اور ایمبولینس میں ڈالا، اسے ابتدائی طبی امدا فراہم کی اور ایمبولینس کی مدد سے اسپتال منتقل کیا گیا جب کہ قابض فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایمبولینس کی مدد سے فلسطینی تخریب کاروں کو لایا جاتا ہے۔دوسری طرف ہلال احمر فلسطین نے بھی ایمبولینسوں کو تخریب کاروں ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کرنے کا الزام قطعی بے بنیاد ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قابض فوج کے ترجمان کا یہ بیان قطعی بے بنیاد ہے کہ سوموار کے روز البیرہ کے علاقے میں اسرائیلی فوجیوں پر حملوں کے لییہلال احمر کی گاڑیوں کے ذریعے فلسطینی نوجوانوں کو لایا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جن فلسطینیوں کو نقاب پوش نوجوان قرار دیا وہ لڑکیاں تھیں جو اپنی ایک زخمی ساتھی کو طبی امداد فراہم کررہی تھیں۔ ہلال احمر کے طبی عملے نے زخمی فلسطینی لڑکی کو فوری طبی امداد فراہم کی جس کے بعد اس کی ساتھی اسے اسپتال لے گئی تھیں۔خیال رہے کہ حالیہ چند ایام کے دوران اسرائیلی فوج کی کی وحشیانہ کارروائیوں کے دوران 1300 سے زاید فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ