ہیڈلائنز


رابرٹ موگابے نےبطور صدر مستعفی ہونے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی

Written by | روزنامہ بشارت

صدر موگابے نے کہا کہ وہ حکمران جماعت کے دسمبر میں ہونے والی کانگریس کی صدارت کریں گے۔

اس خطاب سے قبل ان کی جماعت زمبابوے افریقین نیشنل یونین پی ایف نے انھیں پارٹی کی صدارت سے برطرف کر دیا تھا اور انھیں کہا کہ وہ چوبیس گھنٹوں کے اندر استعفی دیں یا پھر مواخذے کے لیے تیار رہیں۔

زمبابوے میں اس بات پر سیاسی بحران ہے کہ صدر رابرٹ موگابے کا جانشین کون ہو گا؟

بدھ کو فوج کی جانب سے مداخلت کے بعد سے اقتدار پر ان کی گرفت کمزور ہو گئی ہے۔ یہ بحران اس وقت شروع ہوا جب 93 سال کے صدر موگابے نے اپنے نائب صدر ایمرسن منگاگوا کو برطرف کر دیا جس پر فوج کے کمانڈر ناراض ہوئے کیونکہ انھیں لگا کہ صدر موگابے بطور جانشین اپنی اہلیہ کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔

حکمران جماعت افریقین نیشنل یونین پی ایف نے اپنے اجلاس میں رابرٹ موگابے کو سنہ 2018 کے عام انتخابات کے لیے اپنا نیا رہنما نامزد کیا تھا۔

حکمران جماعت کے اس اجلاس میں ان کی 52 برس کی بیوی گریس ماروفو کو دیگر سینئیر اہلکاروں سمیت برطرف کر دیا گیا۔

تاہم اتوار کی شام کو اپنی تقریر میں رابرٹ موگابے نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی۔

زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے میں فوج کے سینئیر فوجی اہلکاروں کے ساتھ قوم سے خطاب کرتے ہوئے رابرٹ موگابے نے کہا کہ وہ حکمران جماعت کے دسمبر میں ہونے والی کانگریس کی صدارت کریں گے۔

رابرٹ موگانے نے حکمران جماعت افریقین نیشنل یونین پی ایف، فوج اور عوام کی جانب سے ان کے خلاف کی جانی والی تنقید کو تسلیم کرتے ہوئے ملک میں معمول کی زندگی واپس لانے کی ضرورت پر زور دیا۔

فوج کی جانب سے مداخلت کے حوالے سے رابرٹ موگابے کا کہنا تھا 'کمانڈر انچیف کی حیثیت سے میں (فوج) کی تشویش تسلیم کرتا ہوں۔'

اپنے بیس منٹ کے خطاب میں صدر موگابے نے عوام اور اپنی جماعت کی جانب سے بطور صدر مستعفی ہونے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ انھوں نے اعلان کیا کہ فوج نے اقتدار پر قبضہ اور انھیں گھر تک محدود کر کے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

 

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ