ہیڈلائنز


ہمیں ایسا فوجی اتحاد نہیں چاہیے

Written by | روزنامہ بشارت

استنبول : مصطفی کمال اتاترک اور طیب اردگان کی تصاویر دشمن چارٹ میں استعمال کرنے پر ترکی نے احتجاجا نیٹو کی مشترکہ فوجی مشقوں سے اپنے دستے واپس بلانے کا اعلان کردیا ہے،فوجیوں کی واپسی کا اعلان طیب اردگان نے آرمی چیف ایچ اکبر
اور یورپی معاملات کے وزیر عمر زیلک سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔استنبول میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے صوبائی سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر طیب اردگان کا کہنا تھا کہ ترکی نے نیٹو اتحاد کی ناروے میں جاری مشترکہ فوجی مشقوں سے اپنے فوجی دستے واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ نیٹو حکام کی جانب سے مصطفی کمال اتاترک اور طیب اردگان کی تصاویر کو دشمن چارٹ میں استعمال کرنے کے بعد احتجاج کے طور پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے خطے میں بد امنی اور انتشار پھیلانے میں انتہا پسند تنظیم پی وائی ڈی اور وائی پی جی کی حمایت کرنے پر مغربی طاقتوں کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ طیب اردگان کا مزید کہنا تھا کہ تصاویر کے معاملے پر انہیں آرمی چیف ایچ اکبر اور یورپی معاملات کے وزیر عمر زیلک نے اطلاع دی اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ترکی ناروے میں جاری فوجی مشقوں سے اپنے 40فوجی واپس بلا لے ، میں نے انہیں کہا کہ وہ فوری اپنے فوجیوں کو واپس بلالیں کیوں کہ ہمیں ایسا فوجی اتحاد نہیں چاہیے ۔ دوسری جانب نیٹو اتحاد کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مصطفی کمال اتاترک اور طیب اردگان کی تصاویر استعمال کرنے والے آفیسر کو معطل کردیا گیا ہے

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ