ہیڈلائنز


امریکا کے فوجی اقدام کا ساتھ نہ دینے والے محفوظ رہیں گے

Written by | روزنامہ بشارت

شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان لفظی جنگ میں مزید شدت آ گئی، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کمیٹی میں شمالی کوریا کے نمائندے کا بڑا بیان، کم ان ریانگ کا کہنا ہے کہ کسی ملک کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ نہیں۔ امریکا کے فوجی اقدام کا ساتھ نہ دینے والے محفوظ رہیں گے۔ شمالی کوریا کے نمائندے کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کا کوئی بھی حصہ ان کی دسترس سے باہر نہیں، ہمارے ملک پر بری نظر ڈالی تو دنیا بھر میں اسے نشانہ بنایا جائے گا۔ دوسری جانب روس کی تناؤ میں کمی کی کوششوں کو بھی دھچکہ لگا ہے۔ شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ ماسکو میں براہ راست مذاکرات سے انکار کر دیا۔ امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان سمندری علاقوں میں مشترکہ فوجی مشقوںکے بعدشمالی کوریا کا کہنا ہے کہ امریکی خطرات کی وجہ سے اسے ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان جنگی مشقوں کا نیا سلسلہ جاری ہو گیا ہے جس کے بارے جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ان مشترکہ فوجی مشقوں کاآغاز پیر سے ہوا ہے اور رواں مہینے کی بیس تاریخ تک جاری رہیں گی- ان فوجی مشقوں میں رونالڈ ریگن طیارہ بحری بردار بیڑوں سمیت چالیس فوجی بیڑے حصہ لے رہے ہیں-شمالی کوریا نے ان جنگی مشقوں کو اپنے خلاف جنگ کی مشق قرار دیا ہے۔ امریکہ اور جنوبی کوریا نے گذشتہ اگست میں بھی مشترکہ فوجی مشقیں انجام دی تھیں ۔ جزیرہ نمائے کوریا میں ہونے والی ان فوجی مشقوں میں ستر ہزار فوجیوں نے شرکت کی تھی ۔چین کی وزارت خارجہ نے بھی ان فوجی مشقوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے تباہ کن قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے جزیرہ نمائے کوریا میں کشیدگی بڑھے گی-امریکی صدر ٹرمپ کے نئے جنگ پسندانہ رویے کے باعث شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہوگیا ہے- درایں اثنا روس کے شہر سن پیٹرزبرگ میں عالمی پارلیمانی یونین آئی پی یو کے ایک سو سینتیسویں اجلاس سے خطاب میں شمالی کوریا کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کو امریکی دھمکیوں کے باعث ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت ہے- شمالی کوریا کے ڈپٹی اسپیکر آن تان

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ