ہیڈلائنز


خالصتان کی آزادی

Written by | روزنامہ بشارت

نیویارک: خالصتان تحریک کے حامی ہزاروں سکھوں نے نیویارک کے ٹائمز سکوائر میں بھارت مخالف ریلی نکالی۔ اس موقع پر انہوں نے بھارت مخالف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر آزادی کے نعرے بھی درج تھے۔ سکھوں نے اپنے مظاہرے کے دوران نہ صرف آزادی کا مطالبہ کیا بلکہ بھارت کودہشتگرد ریاست اور سکھوں کی قاتل سٹیٹ قرار دیا ۔سکھ مظاہرین نے عالمی برداری سے مطالبہ کیا کہ ان پر جاری بھارتی مظالم کا سلسلہ بند کرایا جائے اور 1984 کے گولڈن ٹیمپل سانحے میں مارے جانے والے سکھوں کے اہلخانہ کی انصاف کی فراہمی میں مدد کی جائے۔سکھ قوم فطرتاً امن پسند ہے، لیکن وہ ایک مدت سے ظلم کا شکار ہے۔ تقسیم سے قبل سکھوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے آل انڈیا نیشنل کانگریس کے راہ نماؤں نے سکھوں کو الگ ریاست کے خواب دکھائے، بعدازانہوں نے سکھوں ہی کو قانون شکن قراردے دیا۔ ان تمام عوامل نے سکھوں کو خالصتان تحریک چلانے پر مجبور کیا۔خالصتان تحریک سکھ قوم کی بھارتی پنجاب کو، بھارت سے الگ کر کے ایک آزاد سکھ ملک بنانے کی تحریک ہے۔ 1980 کی دہائی میں خالصتان تحریک اپنے عروج پر تھی جس کو بیرون ملک مقیم سکھوں کی مالی اور اخلاقی امداد حاصل تھی۔ تاہم 1984میں اُس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے آپریشن بلیو اسٹار کرکے اس تحریک کو منتشر کردیا تھا۔ سکھوں کی جانب سے خالصتان تحریک کے ساتھ پنجابی صوبے کا مطالبہ بھی عروج پر رہا۔ خالصتان تحریک اور اس کا پس منظر جانے کے لیے ہمیں سکھ مذہب کی تاریخ کا عمومی جائزہ لینا پڑے گا۔ سکھ مذہب کا آغاز تو پندرھویں صدی میں بابا گرُو نانک نے کیا۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ