ہیڈلائنز


دنیا میں ایک ملک ایسا بھی ہے کہ جہاں قانون طلاق کی اجازت ہی نہیں دیتا

Written by | روزنامہ بشارت

منیلا : مغربی ممالک میں طلاق کی شرح ہوش ربا ہے جبکہ اسلامی ممالک میں اسکی ناپسندیدگی کی وجہ سے شرح نہایت کم ہے مگر دنیا میں ایک ملک ایسا بھی ہے کہ جہاں قانون طلاق کی اجازت ہی نہیں دیتا۔ فلپائن اس منفرد قانون کا حامل واحد ملک ہے جہاں شادی ہو جائے تو طلاق کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ دراصل یہ

قانون پانچ صدیاں قبل اس ملک پر ہسپانوی عیسائیوں کے قبضے کی نشانی ہے۔ کٹر کیتھولک عیسائیت کے مطابق شادی ساری عمر کیلئے ہوتی ہے لہٰذا طلاق کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ ساری دنیا میں طلاق کا کوئی نہ کوئی طریقہ رائج ہو چکا ہے لیکن فلپائن اب بھی طلاق کی اجازت نہیں دیتا۔ عوام کو اس قانون کی وجہ سے بے پناہ مسائل کا سامنا بھی رہا ہے۔ اکثر جوڑوں میں اختلافات کی وجہ سے علیحدگی ہو جاتی ہے مگر طلاق نہ ہونے کی وجہ سے وہ دوبارہ مذہبی طور پر شادی نہیں کر سکتے۔ عوام کے پرزور مطالبے پر 1991ءمیں شادی کے خاتمے کا قانون متعارف کروا دیا گیا لیکن طلاق کی اجازت نہ دی گئی اس تبدیلی کا نتیجہ یہ ہے کہ شادی کے خاتمہ کے بعد اگرچہ دوبارہ شادی کی جا سکتی ہے لیکن اسے چرچ کی آشیرباد حاصل نہیں ہوپاتی اور مذہبی لحاظ سے اسے گناہ کا فعل قرار دیا جاتا ہے۔ فلپائن کی 80 فیصد آبادی کیتھولک عیسائی ے اور کل آبادی میں سے تقریباً نصف یہ چاہتی ہے کہ علیحدہ ہو جانے والے جوڑوں کو طلاق کا حق دیا جائے تاکہ وہ دوبارہ شادی کر سکیں

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ