ہیڈلائنز


شمالی کوریااورامریکہ کامعاملہ ،روس بھی میدان میں کودپڑا

Written by | روزنامہ بشارت

ماسکو:روس کے وزیر خارجہ سرگئی لیوروف نے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظوں کی جنگ پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نقصانات 'بہت زیادہ' ہوں گے۔ماسکو میں ایک یوتھ فورم سے خطاب کرتے ہوئے سرگئی لیوروف نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں خاص طور پر اس وقت

جب براہ راست دھمکیوں پر مشتمل الفاظ استعمال ہورہے ہوں'۔انھوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان کا حوالہ دیے بغیر کہا کہ امریکا کی جانب سے ملٹری ایکشن کی دھمکی پر ماسکو 'چوکنا' ہے۔روسی وزیرخارجہ نے کہا کہ شمالی کوریا کے مقابلے میں امریکا ایک طاقت ور ریاست ہے اس لیے معاملات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے پہل کرنی چاہیے۔ماسکو نے اس معاملے میں چین کی حمایت کرتے ہوئے شمالی کوریا کو میزائل کے تجربوں سے باز رکھنے کے لیے ساتھ دیا تھا تا کہ امریکا خطیمیں فوجی مشقیں ختم کرے۔خیال رہے کہ امریکی صدر نے حال ہی میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی فوج لڑائی کے لیے تیار ہے جبکہ شمالی کوریا کو براہ راست سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔نیو جرسی میں اپنے گالف کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے لیے بہتر ہے کہ وہ اب امریکا کو مزید دھمکیاں نہ دے ورنہ اسے ایسے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا جو آج تک دنیا نے نہیں دیکھا۔دوسری جانب شمالی کوریا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 'نامعقول' شخص قرار دے کر بحرالکاہل میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کے منصوبے پر ڈٹے رہنے کا اعلان کیا تھا۔اے ایف پی کے مطابق شمالی کوریا کا کہنا تھا کہ امریکی جزیرے گوام کو ہدف بنانے کا مقصد واشنگٹن کو خبردار کرنا ہے کیونکہ ایک مکمل فورس ہی امریکی صدر پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ