ہیڈلائنز


بہترین تعلیمی ریکارڈ کے مدنظر طالبہ کی سزا مؤخر

Written by | روزنامہ بشارت

آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک ذہین طالبہ کو اس وقت جج نے سزا دینے سے انکار کردیا جب اسے طالبہ کے بہترین تعلیمی ریکارڈ کا علم ہوا۔ طالبہ نے اپنے دوست پر چاقو سے حملہ کیا تھا جس کی پاداش میں اسے کئی ماہ جیل میں گزارنے پڑ سکتے تھے۔
برطانیہ کی قدیم ترین درسگاہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی 24 سالہ طالبہ لیونیا ووڈ ورڈ میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہی تھی جو صرف چند ماہ بعد مکمل ہونے والی تھی جس کے بعد لیوینا سرجن بن جاتی۔
تاہم اس سے قبل ہی اسے اپنے دوست پر چاقو سے حملے کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا۔ لیونیا نے معمولی تلخ کلامی کے بعد اپنے دوست پر چاقو کے پے در پے کئی وار کیے جس سے اس کی ٹانگ زخمی ہوگئی۔
لیونیا کو گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا تاہم جج نے اس کے بہترین تعلیمی ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی سزا کو مؤخر کردیا۔
آکسفورڈ کراؤن کورٹ کے جج آئن پرنگل کا کہنا تھا کہ اس وقت طالبہ کو سزا دینا اس کا پورا کیرئیر خراب کرنے کے مترادف تھا جس کے بعد طب کا شعبہ ایک قابل سرجن سے محروم ہوجاتا۔
انہوں نے کہا کہ طالبہ نے اپنے پورے تعلیمی سفر کے دوران بہترین ذہانت اور بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور اس دوران میڈیکل جرنل میں اس کے کئی مقالے بھی شائع ہوئے۔
انہوں نے یہ غیر معمولی فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سزا کو 4 ماہ کے لیے مؤخر کیا جارہا ہے۔ 4 ماہ بعد جب لیونیا اپنے امتحانات سے فارغ ہوجائے گی تب اسے سزا دی جائے گی۔
پولیس کے مطابق لیونیا نشے کی عادی ہے اور ماضی میں وہ اپنے سابق مرد دوستوں اور گھر والوں کی جانب سے تشدد کا نشانہ بھی بن چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کا رویہ جارحانہ ہوگیا ہے، تاہم وہ ایک ذہین طالبہ ہے اور اس کی اسی ذہانت کو دیکھتے ہوئے جج نے یہ فیصلہ کیا۔


Read Basharat Online

 

 

PentaBuilders

روزنامہ بشارت ٹویٹر


Follow Daily_Basharat on Twitter

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ