ہیڈلائنز


اکانومی ریٹ کو تیز رفتاری پر ترجیح دی جاتی ہے

Written by | روزنامہ بشارت

مائیکل ہولڈنگ کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں فاسٹ بولرز کی تیز گیند کرنے پر حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی اور اکانومی ریٹ کو تیز رفتاری پر ترجیح دی جاتی ہے۔
’اگر آپ وکٹیں لے رہے ہیں تو یہ ایک اہم عنصر ہے، مگر تقریباً گذشتہ دس سالوں میں میں نے یہ دیکھا ہے کہ بظاہر انگلینڈ میں یہ سوچ نہیں ہے۔‘
حالیہ ایشز سیریز میں آسٹریلیا کے مچل سٹارک کی گیندوں کی اوسطً رفتار 89.1 میل فی گھنٹہ تھی، اور ان کے ساتھیوں جاش ہیزل وڈ 88.8 میل فی گھنٹہ اور پیٹ کمنز 88.1 میل فی گھنٹہ رہی۔ دوسری جانب انگلینڈ کے تیز ترین بولر کرس ووکس کی اوسط 85.6 میل فی گھنٹہ تھی۔
جب مائیکل ہولڈنگ سے پوچھا گیا کہ کیا انگلینڈ فاسٹ بولرز پیدا کرنے سے ڈرتے ہیں، تو ان کا جواب تھا، ’ہاں بالکل!‘
’ایشز میں انگلینڈ کا یہی مسلہ تھا کہ ان کے پاس کوئی بھی بہت تیز بولر نہیں تھا۔‘
مائیکل ہولڈنگ نے خود 60 ٹیسٹ میچوں میں 249 وکٹیں لیں تھیں۔
’انگلینڈ کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو 90 میل فی گھنٹہ سے گیند کریں اور فٹ بھی رہ سکیں۔ ماضی میں انگلینڈ کے پاس ایسے لوگ آئے تھے اور کوئی وجہ نہیں کہ ایسا دوبارہ نہیں ہو سکتا۔‘
سٹیون فن کو ایک ایسے بولر کی مثال کے طور پر پیش کیا جس کی تیز رفتاری کوچنگ کی وجہ سے کم کر دی گئی۔
28 سالہ سٹیون فن انگلینڈ کے ایشز سکواڈ کا حصہ تھے مگر نو روز بعد ہی گھٹنے کی انجری کی وجہ سے واپس آگئے۔
39 ٹیسٹ میچوں میں 125 وکٹیں لینے والے سٹیون فن نے اکتوبر 2016 سے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا۔
مائیکل ہولڈنگ کا کہنا تھا کہ ’انگلینڈ میں فاسٹ بولروں کو تیز گیند کرنے کی حوصلے افزائی نہیں کی جاتی کیونکہ جب آپ تیز گیند کرتے ہیں تو آپ کسی اچھے کنٹرول والے میڈیئم فاسٹ بولر سے زیادہ رنز دے دیتے ہیں۔ مجھے سٹیون فن کے بارے میں کئی بار کہا گیا کہ وہ چار رنز فی اوور کی اوسط سے رنز کھا رہا ہے مگر وہ وکٹیں حاصل کر رہا تھا اور بڑے نام والے بولرز سے زیادہ حاصل کر رہا تھا۔‘

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ