ہیڈلائنز


عبدالرزاق جیسا آل راؤنڈ کسی دوسرے ملک میں ہوتا تو اب بھی ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا ہوتا

Written by | روزنامہ بشارت

ٹی وی پر کابل اسٹیڈیم کے باہر دھماکے کی خبر دیکھی تو دل دہل گیا، ایسے واقعات کہیں بھی ہوں افسوس تو ہوتا ہے مگر مجھے زیادہ تشویش عبدالرزاق کے حوالے سے تھی جن سے میرا بہت پرانا تعلق ہے، میں نے انھیں فون کیا تو کوئی جواب نہ ملا مگر بعد میں خود کال کی اور اپنی خیریت سے آگاہ کیا، انھوں نے واقعے کی تفصیلات بتائیں کہ وہ میچ کھیل کراسٹیڈیم سے ہوٹل آئے تھے پھر ٹی وی پر دوسرا میچ دیکھتے وقت ہی زوردار دھماکے کی آواز سنی، جس سے سب سہم گئے، عبدالرزاق نے فوری واپسی کا فیصلہ کر لیا تھا مگر منتظمین کے کہنے پر مزید ایک میچ کھیلنے کیلیے رک گئے، شاہد آفریدی کو بھی اس ایونٹ میں شرکت کیلیے جانا تھا، میں نے جب انھیں روکنے کی کوشش کی تو وہ نہ مانے اور کہنے لگے ’’میں امن کا پیغام لے کر کابل جانا چاہتا ہوں، میرے اس دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے میں مدد ملے گی‘‘، بعد میں کسی نجی وجہ سے وہ نہ جا سکے اور ایونٹ میں واحد پاکستانی عبدالرزاق ہی رہ گئے، ان کو میں جب دیکھتا ہوں تو افسوس ہی ہوتا ہے کہ انھیں کوئی اعلیٰ آفیشل لفٹ ہی نہیں کراتا شاید یہاں ملک کا نام ڈبونے والے سابق پلیئرزکی ہی زیادہ عزت ہے، ٹیم کیلیے سو فیصد پرفارم کرنے والوں کو پوچھا تک نہیں جاتا۔

 

آج بھی کرکٹ سے محبت کرنے والے لوگ مجھ سے یہ سوال پوچھتے رہتے ہیں کہ عبدالرزاق کہاں ہیں، پورے کیریئر میں ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوا، کبھی کھلاتے کبھی بٹھا دیتے،اوپنر بنا دیا پھر آٹھویں نمبر پر بھیجا، شاید اسی وجہ سے اعداوشمار ان کے حقیقی ٹیلنٹ کی درست عکاسی نہیں کر پاتے، عبدالرزاق نے اس دور میں ملکی کرکٹ میں مقام بنایا جب وسیم اکرم، وقار یونس جیسے بولرز ٹیم میں ہوا کرتے تھے، وہ بہت زیادہ تیز بولنگ تو نہیں کرتے تھے مگر میڈیم پیس سے سوئنگ انھیں خطرناک بولر بنا دیتی تھی، دنیا بھر کے کم ہی بیٹسمینوں میں وہ خوبی ہوگی جو عبدالرزاق میں تھی، وہ وقت آنے پر اپنا انداز بالکل تبدیل کر لیتے تھے، جب جارحانہ بیٹنگ کی ضرورت ہو تو ان کے زوردار چھکے دیکھنے سے تعلق رکھتے، جب محتاط انداز درکار ہو تو بولرز سر پٹختے رہ جاتے مگر عبدالرزاق کی وکٹ ہاتھ نہ آتی، وہ شاہد آفریدی اور اظہر محمود تینوں آل راؤنڈز ساتھ کھیلتے اور ٹیم کے پاس نویں نمبر تک منجھا ہوا بیٹسمین موجود ہوتا، بدقسمتی سے اب اس پائے کا ایک آل راؤنڈر بھی ہمیں دستیاب نہیں۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ عبدالرزاق کو وہ مقام کیوں نہ ملا جس کا وہ حقدار تھا تو یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ حد سے زیادہ صاف گوئی اور کسی لابی کا حصہ نہ بننا ان کیلیے نقصان دہ ثابت ہوا، کوئی بات غلط لگے تو عبدالرزاق یہ دیکھے بغیر کہ سامنے والا کتنا بااثر شخص ہے صاف بات کہہ دیتے، اسی لیے بعض لوگوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے لگے جنھیں جیسے ہی موقع ملا انھیں ٹیم سے باہر کردیا، مگر مخالفین ان کو لوگوں کے دل سے نہ نکال سکے جہاں آج بھی عبدالرزاق کیلیے محبت باقی ہے، اب ان کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کا کوئی امکان نہیں، دیگر کرکٹرز کی طرح وہ بھی چاہتے تھے کہ بورڈ خدمات کوتسلیم کرے اس لیے باقاعدہ طور پر ریٹائرمنٹ کا اعلان بھی کر دیا مگر افسوس کسی اعلیٰ حکام کو آج تک یہ زحمت نہیں ہوئی کہ انھیں فون کر کے یا کسی بیان سے خراج تحسین پیش کرتا، بورڈ میں کئی لوگ بغیر کام کیے لاکھوں روپے تنخواہ لے رہے ہیں، سفارشی کوچز کی بھی بھرمار ہے، کوچنگ کورسز میں فیل ہونے والے قومی ٹیموں سے منسلک ہو کر عالمی ایونٹس میں بھی چلے جاتے ہیں مگر عبدالرزاق جیسے لوگوں کو کوئی نہیں پوچھتا، انھوں نے پیشکش کی کہ آل راؤنڈرز کی تلاش کیلیے کیمپ لگاتا ہوں کسی کے کان پرجوں تک نہ رینگی، شاید یہی وجہ ہے کہ ہم مسائل کا شکار ہیں، ان کے دور کے بیشتر کرکٹرز نے بورڈ سے دوستی کرلی۔

محمد یوسف نے آئی سی ایل والے دور میں ہونے والے کیس کے وکیل کی بھاری فیس معاف کرالی، اب ان کی نظر میں پاکستانی کرکٹ میں دودھ کی نہریں بہنے لگی ہیں، جلد ہی کوئی ذمہ داری بھی مل جائے گی، شعیب اختر نے جرمانے کے غالباً 70 لاکھ روپے واپس لے لیے ان کیلیے بورڈ حکام سے اچھا اب کوئی نہیں رہا، وسیم اکرم نے بھی نجم سیٹھی اینڈ کمپنی سے ہاتھ ملا لیا، اظہر محمود برطانوی شہریت کے حامل ہوگئے تھے، انھوں نے تیزی سے قومی کرکٹ کے اعلیٰ حلقوں میں تعلقات بنائے، اب وہ ٹیم کے بولنگ کوچ ہیں، عبدالرزاق پیچھے رہ گئے، ان میں کرکٹ کا تو بہت ٹیلنٹ ہے مگر چالاکیاں موجود نہیں، ثقلین مشتاق کا بھی یہی مسئلہ ہے، آج کے دور میں ترقی کرنے کیلیے ضروری ہے کہ میڈیا میں اِن رہا جائے، یا تو بالکل مخالف ہو جائیں تو بورڈ والے رابطہ کریں گے یا نجم سیٹھی سے اچھا کوئی چیئرمین نہیں آیا، وہ پاکستان کرکٹ کو آسمان کی بلندیوں پر لے گئے وغیرہ وغیرہ ایسے بیانات دیں شاید پھر ہاتھوں ہاتھ لیا جائے، ممکن ہے کچھ لوگ کہیں کہ اظہر نے کوچنگ کورسز کیے مگر عبدالرزاق اس شعبے میں پیچھے ہیں۔

چلیں مان لیتے ہیں مگر ثقلین تو غالباً لیول تھری کوالیفائیڈ کوچ ہیں، انگلش ٹیم سے منسلک بھی ہو چکے انھیں ملک میں کوئی کیوں نہیں پوچھتا، بات وہی ہے لابنگ، پسند ناپسند، ابھی آپ دیکھیے گا یونس خان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا، وہ دس ہزار ٹیسٹ رنز بنانے والے واحد پاکستانی بیٹسمین ہیں مگر تقریب میں نہ جا کر بورڈ کو ناراض کر لیا، اب انھیں بھی نہیں پوچھا جائے گا، باقی رہی عوام اس کی یادداشت تو ویسے ہی بہت کمزور ہے، یہاں جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے، جب تک اسکرین پر چوکے چھکے لگا رہے یا لفظی گولہ باری کر رہے ہیں لوگ آپ کو یاد رکھیں گے ورنہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والا معاملہ ہے، اگر عبدالرزاق جیسا آل راؤنڈ کسی دوسرے ملک میں ہوتا تو اب بھی ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا ہوتا مگر ہم نے اپنا قیمتی ٹیلنٹ قبل از وقت ضائع کر دیا۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ