ہیڈلائنز

Reporter ZJ

Write on بدھ, 12 جولائی 2017

تحریر: عابد حسین (ریسرچ اسکالر و تجزیہ کار)


دہشتگرد تنظیم داعش کا عراق میں آخری گڑھ موصل کے آپریشن کے اختتام کا اعلان کر دیا گیا اور اس اعلان کے ساتھ عراق میں داعش کے ٹھکانوں کی کہانی کا اختتام ہوچلا ہے۔ ظاہر ہے کہ ابھی آبادی میں چھپے دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف عراق فورسز کی تلاش جاری رہے گی تاکہ امن و امان کی صورت حال بالکل بہتر بنائی جا سکے۔ داعش کی کہانی صرف عراق میں ہی اختتام پذیر نہیں ہو رہی، بلکہ شام میں بھی اس دہشتگرد تنظیم کے آخری ٹھکانے ”رقہ“ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں اس کی وحشی اور بربری کہانی اختتام کی جانب گامزن ہے۔ دل چسب بات یہ ہے کہ جوں جوں اس دہشتگر دتنظیم کا اثرورسوخ عراق اور شام میں ختم ہوتا جا رہا ہے تو خطے میں بعض قوتوں، خاص طور پر اسرائیل اور امریکا کی پریشانی میں اضافہ نظر آرہا ہے۔ ”شام داعش کے بغیر “ وہ عنوان ہے، جو ان قوتوں کے لیے کافی پریشانی کا باعث ہے۔ مشرق وسطی پر گہری نگاہ رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے تل ابیب کے زرائع کہتے ہیں کہ اسرائیل کے لیے اس وقت سب سے بڑی پریشانی ”شام داعش کے بغیر“سے ہے، جس کا وہ برملا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ معروف اسرائیلی اخبار ہاآرٹس نے گذشتہ ہفتے جمعرات کے شمارے میں یہ خبر دی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے روسی صدر پیوٹن سے ٹیلی فونک گفتگو میں اس مسئلے پر بات چیت کی کہ شام میں اسرائیلی سرحد کے ساتھ جولان کے علاقے میں ”پرامن علاقوں “کے قیام کے لیے اسرائیل راضی بھی ہے اور اس میں پیش رفت ہونی چاہیے۔ اسرائیل اپنی سرحد کے ساتھ شام کے اندر ایسے علاقوں کا قیام چاہتا ہے کہ اس میں اس کی اپنی بھی شمولیت رہے تاکہ اس کا سرحدی علاقہ ان قوتوں کے ہاتھوں میں نہ چلا جائے، جو اسرائیل مخالف ہیں اور جسے مزاحمتی بلاک کہا جاتا ہے اور یہ بلاک شام کی حکومت، لبنان کی جماعت حزب اللہ، فلسطینی جماعت حماس اور ایران و عراق سے تشکیل پاتا ہے۔ گرچہ، اس بلاک کے عالمی سطح پر چین اور روس بھی حامی سمجھے جاتے ہیں۔

اسرائیل کی کوشش یہ ہے کہ اس کی سرحد کے ساتھ شام کے اندر ایسے دو علاقے بنائیں جائیں، جن کا کنٹرول مشترکہ ہونے کے ساتھ ساتھ روس امریکا اردن بھی اس میں شامل ہوں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس بات سے سخت پریشان تھا کہ شام کی سرکاری فورسز کہیں اس کی سرحد کے ساتھ علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل نہ کرلیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ چار برسوں سے سرحدی علاقہ داعش و دیگرد دہشت گردوں کی سپلائی لائن بنا رہا ہے، جنہیں مسلسل اسرائیل سے مدد ملتی رہی ہے۔ اسرائیل کے لیے سب سے بڑی پریشانی اس وقت شروع ہوئی، جب عراق اور شام نے اپنا زمینی رابطہ بحال کردیا تھا۔ تجزیہ نگار اس زمینی رابطے کو کام یابی کی بڑی وجہ اور گیم چینجر کے نام سے یاد کررہے ہیں، کیوں کہ اس زمینی رابطے کے بعد ایران، عراق، شام لبنان اور دیگر ممالک تک کا زمینی رابطہ بحال ہوچکا ہے کہ جس میں اردن سعودی عرب کے علاوہ شام کے ساحلی شہر لازقیہ کی بندرگاہ کے توسط سے بحیرہ روم تک رسائی حاصل ہوجاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ تہران سے دمشق و بیروت اور بحیرہ روم تک رسائی دلانے والا یہ زمینی پل ہر اعتبار سے انتہائی اہم بن گیا۔ اسرائیل سمجھتا ہے کہ اس زمینی پل کے بعد اس خطے میں اس کی معلوماتی رسائی محدود ہوکر رہ جائے گی اور وہ درست انداز سے اس خطے کی مانیٹرنگ نہیں کرپائے گا، جب کہ اس کے سامنے اقتصادی اور تجارتی برتری کے چیلنجز الگ ایک مسئلے کے طور پر کھڑے ہوں گے۔ سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے نارمل سے دوستی کی جانب بڑھتے تعلقات نے اسرائیل کو دو اور ایسے مواقع فراہم کیے ہیں، جسے وہ خطے میں بدلتی اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ برطانوی اخبارات کے مطابق اسرائیل نے کچھ عرصہ قبل سعودی عرب سے انچی اڑان والے ان طیاروں کے لیے فضائی حدود کے استعمال کی بات کی تھی، جو اسرائیلی بن گورین ائرپورٹ سے اڑتے ہیں۔ گرچہ، اسرائیل اخبار معاریف کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے اپنی عدم تیاری کا کہہ کر اس موضوع کو مؤخر کردیا، لیکن اس کے باوجود بہت سے طیارے سعودی فضائی حدود کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیل میں داخل ہوتے ہیں اور اسرائیل سے سعودی فضائی حدود کے توسط سے آگے بڑھتے ہیں۔ ان ملکوں میں سے ایک ہندوستان ہے کہ جس کے طیارے اسرائیلی بن گورین ائرپورٹ آنے جانے کے لیے سعودی فضائی حدود استعمال کرتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل عرب دوست ممالک کے تعاون سے ایک ایسی ٹرین پٹری بچھانے کا بھی منصوبہ رکھتا ہے، جو اسرائیلی شہر حیفا سے لے کر اردن کے ملک حسین پل تک رسائی حاصل کرے۔ یوں، اردن اور سعودی عرب سمیت امارات بھی اس ٹرین کی پٹری کے توسط سے اسرائیل کے ساتھ جڑ جائے گا اور اگر شام میں اسرائیل کے لیے حالات سازگار ہوجاتے ہیں تو وہ شام سے ترکی اور عراق تک رسائی حاصل کرسکتا ہے اور یہی نہیں، ترکی سے وہ یونان اور یورپ تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح اسرائیل یہ بھی چاہتا ہے کہ العفولہ شہر سے لے کر جنین کی الجملہ گزرگاہ تک ایک شاہراہ بنائی جائے، جو ٹرین کی پٹری کے ساتھ متصل ہو۔ یوں، فلسطینی اتھارٹی کو بھی اس میں حصہ مل سکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت اسرائیل حیفا پورٹ سے تجارتی سامان ٹرکوں اور کنٹینرز کی مدد سے آگے بھیجتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس منصوبے کے بارے میں اسرائیل عربوں، خاص طور پر اردن کے ساتھ گذشتہ تین برسوں سے بات چیت کررہا ہے، لیکن اب جاکر جب سے سعودی عرب میں شاہ عبداللہ کے بعد بادشاہ سلمان کی بادشاہت شروع ہوئی ہے تو اس کے واضح امکانات روشن ہوئے ہیں۔ اسرائیلی اس منصوبے کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ شام کی بدلتی صورت حال ہے، جس میں شام کی سرکاری افواج اپنے اتحادیوں کے مدد سے دن بہ دن ان تمام علاقوں میں اپنا کنٹرول بحال کرنے میں کام یا ب ہوتی جارہی ہے کہ جس میں پہلے مختلف شدت پسند گروہ کا کنٹرول تھا۔ خاص طور پر اس سلسلے میں عراق و شام کا سرحدی علاقہ اور اردن واسرائیل کے ساتھ ملحق علاقہ شامل ہے۔

تہران سے غزہ تک زمینی پل سے تعبیر کیا جانے والا عراقی شامی سرحدی علاقہ اس وقت اسرائیلی منصوبوں کے آگے سب سے بڑی ر±کاوٹ ہونے کے ساتھ ساتھ خطے میں اسرائیل مخالف قوت یا مزاحمتی بلاک کی مضبوطی کی بھی ضمانت بن چکا ہے۔ ایسے میں داعش دہشت گردوں کا خاتمہ اس بلاک کو مکمل طور پر اگلے اقدامات کی جانب غور فکر کرنے کے لیے آزاد کردے گا۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اسرائیل اس بات کے پیش نظر گھبرارہا ہے کہ کہیں ”داعش کے بعد کے شام “کو امریکا مکمل طور پر روس، ایران اور بشار الاسد کے حوالے نہ کردے؟ گرچہ، اس وقت زمینی حقائق ایسے ہیں کہ امریکی اس سلسلے میں کسی بھی قسم کا خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہیں کرپارہے، باجود اس کے کہ اس کی دوہزار کے قریب افواج اور بیس ہزار سے زائد حمایت یافتہ مسلح جنگجو شام میں سرگرم ہے۔ کہا جارہا ہے کہ شام کی سرزمین کو ٹرانزٹ کے طور پر قطر بھی اپنی گیس کی ترسیل کے لیے استعمال کرناچاہتا ہے۔ گرچہ، تجزیہ نگار شام کے بحران کے اسباب میں ان تمام منصوبوں کا ذکر کرتے ہیں، لیکن ہم طوالت کے پیش نظر ان تمام تھیوریز کو نظر انداز کرتے ہوئے عرب میڈیا میں نشر ہونے والی اس خبر پر اکتفا کرتے ہیں کہ حالیہ قطری سعودی اماراتی بحران کی وجوہ میں سے ایک وجہ قطر کے اسی ٹرانزٹ منصوبے کو قراردیتے ہیں کہ قطر نے اپنی گیس کی یورپ تک ترسیل کی خاطر شامی صدر بشار الاسد کے ساتھ خفیہ ڈیل کی ہے اور اس ڈیل کے بعد قطر نے شام میں ان مسلح گروہ کی حمایت چھوڑ دی ہے، جو اس پہلے قطری حمایت حاصل کرتے تھے۔

Write on ھفتہ, 17 جون 2017

تحریر: عابد حسین (اسکالر و مضمون نگار)

قطر کوئی دودھ کا دھلا نہیں ،قطر نے سعودی عرب کی شروع کردہ ہر جنگ اور ہرفیصلے کا ساتھ دیا ہے۔ شام ،لیبیا عراق اور یمن ہر جگہ قطر بھی اتنا ہی ملوث ہے، جتنا سعودی عرب ،یہاں تک کہ بعض ممالک میں دونوں میں اس بات کو لیکر دوڑ رہی ہے کہ کون زیادہ اثرو رسوخ پیدا کرے اور ان ممالک میں اپنے حامی مسلح گروہ زیادہ سے زیادہ بنائے تاکہ کنٹرول حاصل کیا جاسکے۔ قطر کا الجزیرہ چینل بھی لیبیا سے لیکر یمن تک سعودی اور قطری جرائم کی پردہ پوشی کرتے ہوئے حقائق کو مسخ کرتا رہا ہے۔ لیکن ان تمام تر حقائق کے باوجود قطر کے سیاسی محاصرے کی حمایت نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی اسے شام لیبیا ویمن کی طرح تباہ ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔ سعودی عرب کو اسلامی و عرب ممالک کے بارے میں اپنی پالیسی بدلنا ہوگی ،افغانستان سے لیکر یمن اور لیبیا تک اسے ماضی کی تباہ کن پالیسی سے سیکھنا ہوگا کہ ان ممالک کی تباہی کسی بھی طور خود اسکے اور امت مسلمہ کے حق میں نہیں اور ان میں سے کوئی بھی ملک سعود خاندان کی سلطنت کے لئے خطرہ بھی نہیں ہے اور نہ پہلے تھا، سعود خاندان کا خطرہ خود ان کی اپنی ”غیروں سے دوستی اپنوں سے دشمنی “کی پالیسی سے ہے۔ سعودی عرب کو اپنے ماضی کے کردار سے یہ بھی سیکھنا ہوگا کہ جہاں جہاں بھی اس کی اس پالیسی کے سبب آگ بھڑک اٹھی ہے اس کی چنگاریوں نے خود اسے بھی متاثر کیا ہے اور آج یہ آگ اس کے دورازے پر دستک دے رہی ہے۔

اس کی تازہ مثالی یمن جیسے غریب ملک پر مسلط کردہ جنگ ہے کہ جیسے انتہائی غلط اندازوں کے ساتھ شروع کردیا گیا اور خیال تھا کہ چند ماہ میں یمن پر کنٹرول حاصل کیا جائے گا لیکن آج یہ جنگ دوسال بعد اس کے اپنے گلے پڑ گئی ہے کہ اب جان چھڑائے نہیں چھڑ رہی، جبکہ لاکھوں یمنی بے گناہ عوام ناگفتہ بہ حالت اپنی ایک الگ دل ہلادینے والی دستان رکھتی ہے۔ ابھی قطر کیخلاف اقدامات کو ہی لے لیجئے جو صرف اڑتالیس گھنٹوں کے اندر ہی نہ صرف ناکامی سے دوچار ہوچکے تھے بلکہ اب اس کا ردعمل خود سعودی عرب کو اسلامی و عرب عوام اور ممالک کی نفرت کے محاصرے میں ڈال رہا ہے یہاں تک کہ آج سعودی وزیر خارجہ عادل جبیر کو کہنا پڑرہا ہے کہ ”وہ قطر ی عوام کے لئے امدادی اشیا بھیجنے کے لئے تیار ہے “۔ یہ بات واضح ہے کہ اس وقت قطر کو غذائی امداد سے زیادہ سیاسی تعاون اور حالات کو نارمل کرنے کی ضرورت ہے، قطر جس کے مالی ذخائر خطے میں سب سے زیادہ ہیں جو قریب ساڑھے تین سو ارب ڈالر کو چھو رہے ہیں۔ اگر کچھ اسلامی و عرب ممالک نے غذائی امداد بھیجی بھی ہے تو وہ ہمدردی اور اسلای اخوت و بھائی چارے کے جذبے کے سبب ہے تو دوسری جانب سعودی عرب اور امارات کو پیغام دینا ہے کہ ان کی برداری کشی کی پالیسی کو وہ قبول نہیں کرتے۔ بدترین پابندیوں اور سخت سزا کے اعلان کے باوجود عرب اور مسلم عوام کی جانب سے سعودی اور اماراتی اس اقدام کی سوشل میڈیا کے توسط سے مذمت اور خود سعودی عوام کے بڑے حلقے کی جانب سے قطر کے ساتھ ہمدردی کا اظہار اس بات کا واضح اور کھلا پیغام ہے کہ سعودی عرب کو بردار کشی کی پالیسی ترک کردینی چاہیے۔

سعودی عرب کو سمجھنا ہوگا کہ سابق امریکی جنگ پسند صدر بش کی پالیسی کہ ”جو ہمارے ساتھ نہیں ہے پس وہ ہمارے خلاف ہے “کو اپنانے کے نتائج ملت اسلامیہ سمیت خود اس کے اپنے حق میں بھی اچھے نہیں نکلے گے۔ اگر سعودی عرب سمجھتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے تعلقات کے سبب وہ محفوظ ہوچکا ہے اور ہر جگہ آگ بڑھکا سکتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی اور بچگانہ حرکت ہوگی، اسرائیل کہ جس کا نعرہ دریائے فرات سے دریائے نیل تک قبضہ ہے اور جو سمجھتا ہے خندق اور خیبر اس کی آبائی میراث ہے اس سے کسی بھی قسم کی اچھائی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ گذشتہ ایک ہفتہ سعودی اور اماراتی عقلمندوں کے لئے کافی ہونا چاہیے کہ ان کے اقدامات کی حمایت میں صرف سعودی آشرباد سے چلنے والی بحرینی بادشاہت اور امداد پر چلنے والی مصری حکومت کے علاوہ کسی بھی قابل الذکر ملک نے ان کی حمایت نہیں کی ہے یہاں تک کہ یمن جنگ میں ہزاروں فوجیوں کو جونکنے والا سوڈان جیسا غریب ملک بھی سعودی موقف کی حمایت سے کترارہا ہے شائد سوڈان کی حکومت کو دیر سے ہی سہی سمجھ میں آگئی ہے کہ امداد کے بدلے برداری کشی کے نتائج اچھے نہیں نکلتے۔ خلیجی عرب ممالک میں سے دو انتہائی اہم ملک کویت اور سلطنت عمان بھی تیار نہیں کہ سعودی اس برداکش پالیسی کو اپنائیں یہاں تک سعودی امداد کا مرہون منت اردن نے بھی صرف قطری سفیر کی جگہ نائب کو بیٹھانے پر اکتفا کیا اور مکمل تعلقات ختم کرنے کا انکاری ہوا۔

افریقہ کے غریب ممالک کی جن کا کوئی وزن کسی بھی حوالے سے نہیں رہا ہے اور نہ شمار کیا جاسکتا ہے جیسے اریٹریا، جبوتی، چاڈ، موریطانیہ وغیرہ نے سعودی عنایتوں کے بوجھ تلے بادل نخواستہ قطر سے تعلقات ختم کئے جس کا قطر کے بجائے خود ان کی صحت پر برا اثر پڑے گا کیونکہ یہ غریب ممالک خلیجی امیرملکوں کی اس چپقلش میں اپنا ہی نقصان کربیٹھے گے۔ اس وقت سعودی عرب کی اس تباہ کن روش کیخلاف قطرکو غذائی امداد سے زیادہ اسلامی اخوت کی ضرورت ہے باوجود اس کے کہ قطر بھی اب تک بردار کشی میں برابر کا شریک رہا ہے اور ہمیشہ مسلم امت مخالف بلاک کا حصہ رہا ہے لیکن اگر آج اس روش کو نہ روکا گیا تو کل کسی اور کی باری آئے گی اور شائد وہ دن زیادہ دور نہ ہو خود سعودی عرب کی بھی باری آئے۔

Write on منگل, 11 اپریل 2017

لاہور : ساہیوال جیل میں دو دہشت گردوں کو پھانسی دے دی گئی ہے، آئی جی جیل خانہ جات کے مطابق دونوں دہشت گردوں کو منگل کی صبح پھانسی دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق  ساہیوال کی جیل میں دو دہشت گردوں کو منگل کی علی الصبح پھانسی دی گئی۔ آئی جی جیل خانہ جات کے مطابق سزا پانے والے دونوں دہشت گرد سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے۔ آئی جی جیل خانہ جات کا مزید کہنا ہے کہ دونوں دہشت گرد فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ تھے، جن پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد موت کی سزا سنائی گئی۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز ’را‘ ایجنٹ کلبھوشن یادیو کو بھی آئی ایس پی آر کے مطابق پیر کے روز سزائے موت سنائی گئی ہے۔

Write on منگل, 11 اپریل 2017

کراچی: حکومت سندھ کو ٹف ٹائم دینے کیلئے ایم کیو ایم پاکستان نے بھی میدان میں آنے کی ٹھان لی ہے۔ جلد احتجاج کا اعلان کیا جائے گا۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی سربراہی میں رابطہ کمیٹی پاکستان کا پی ائی بی میں اجلاس ہوا جس میں ملکی اور  تنظیمی طور پر انتہائی اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایم کیو ایم وائٹ پیپر کے تسلسل میں عوامی  احتجاج کرے گی، لیکن احتجاج کب اور کیسے ہوگا اس کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ رابطہ کمیٹی اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سندھ بھر کے تنظیمی ڈھانچوں میں تبدیلی لائی جائے گی، پورے سندھ باالخصوص کراچی میں ضلعی ذمہ داران پر مشتمل کمیٹیاں بھی قائم کی جائے گی۔ شرکا نے اجلاس میں کئے جانے والے تمام فیصلوں کی مکمل حمایت کی۔

Write on منگل, 11 اپریل 2017

اسلام آباد: واپڈا نے نیپرا کو پن بجلی کے نرخوں میں اضافے کی درخواست کو دے دی ہے۔ واپڈا کی جانب سے نیپرا کو دی جانے والی درخواست میں پن بجلی کے نرخوں میں 1 روپیہ 73 پیسے تک اضافے کی درخواست کی ہے، نیپرا کی جانب سے درخواست منظور ہونے کی صورت میں پن بجلی کے نرخ 1 روپیہ 88 پیسے سے بڑھا کر 3 روپے 61 پیسے فی یونٹ ہوجائیں گے۔ واپڈا کی جانب سے درخواست میں کہا گیا ہے کہ پن بجلی کے نرخوں میں اضافہ مالی سال2017-18  کے لیے طلب کیا گیا کیونکہ مالی سال 2017-18  کے دوران واپڈا نے صوبوں اور ارسا کو 33 ارب سے زائد کی ادائیگی کرنی ہے جب کہ خیبر پختوانخواہ کو 25 ارب 74 کروڑ اور  پنجاب کو 9 ارب 52 کروڑ سے زائد ادا کرنے کی تجویز ہے۔

Write on منگل, 11 اپریل 2017

ریاض: سعودی عرب میں گزشتہ 10 سالوں كے دوران پہلی بار رمضان المبارک کے مہینے میں بھی اسکول کھلے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سعودی وزارت تعلیم كے مطابق رمضان كی آمد پر اسكولوں میں گرمیوں كی چھٹیاں ملتوی كردی گئی ہیں جب کہ سالانہ امتحانات بھی رمضان میں ہی لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، امتحانات ختم ہونے کے بعد 24 رمضان سے اسکولوں میں گرمیوں کی چھٹیاں دی جائیں گی۔

Write on پیر, 10 اپریل 2017

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پانامہ کیس کا فیصلہ ہمارے خلاف آیا تو عوام اسے تسلیم نہیں کریں گے، جنوبی پنجاب میں کوئی نوگو ایریا نہیں ہے اور تمام مدارس کی بھرپور نگرانی کی جا رہی ہے، پنجاب سے پی پی کا جنازہ نکل چکا ہے جبکہ پی ٹی آئی کو منفی سیاست نے بہت پیچھے دھکیل دیا ہے۔ نجی ٹی وی کیساتھ انٹرویو میں صوبائی وزیر نے کہا مسلم لیگ (ن) کو سپریم کورٹ پر مکمل اعتماد ہے اور پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے بنچ کے تمام ججز صاحبان قابل ایماندار اور باصلاحیات ہیں، وہ جو بھی فیصلہ کریں مسلم لیگ (ن) اور وزیراعظم نواز شریف اسے تسلیم کریں گے، تاہم ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر پانامہ کیس کا فیصلہ میاں نواز شریف کے خلاف آیا تو عوام کی اکثریت اسے تسلیم نہیں کرے گی، کیونکہ عوام نے انہیں تیسری دفعہ وزیراعظم منتخب کیا ہے اور اگر کسی عوامی لیڈر کو غیر عوامی اور غیر جمہوری طریقے سے ہٹانے کی کوششیں کی گئیں تو عوام اس پر ردعمل ظاہر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ پانامہ کیس کا فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا اور اس کے نتیجے میں ہی لہر اٹھے گی، مخالفین کو 2018 کے انتخابات میں اپنی انتخابی مہم چلانا مشکل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ مال روڈ خودکش حملے کے دہشتگرد طورخم کے راستے سے آئے تھے ان کا جنوبی پنجاب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Write on پیر, 10 اپریل 2017

سی ٹی ڈی نے زیرحراست دہشت گردوں کی جانب سے ملنے والی معلومات پر سکھرمیں کارروائی کی اور مقابلے میں سابق ایس پی چوہدری اسلم پرحملے سمیت متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں مبینہ طور پر ملوث دہشت گرد کو ہلاک کر دیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ ڈاکٹر ثنااللہ عباسی نے کہا کہ سی ٹی ڈی سے مقابلے میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد کا تعلق لشکر جھنگوی نعیم بخاری گروپ سے تھا۔ ہلاک دہشت گرد کراچی ائرپورٹ حملے، پی اے ایف مہران بیس حملہ، ایس پی چوہدری اسلم کے قتل اور نیوی کی بسوں پر حملوں میں بھی مبینہ طور پر ملوث تھا۔ ثنااللہ عباسی کا کہنا تھا کہ ہلاک دہشت گرد، امجد صابری کے قتل میں ملوث عاصم عرف کیپری سے رابطے میں تھا اور پاک فوج، رینجرز اور پولیس اہلکاروں کے قتل میں بھی ملوث تھا۔ سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ہلاک دہشت گرد کی شناخت کامران جمشید بھٹی کے نام سے ہوئی ہے جن پر نعیم بخاری کی گرفتاری کے بعد لشکر جھنگوی کی تمام مالی اور عسکری ذمہ داریاں تھیں۔

اعلامیے کے مطابق ملزم اسحاق بوبی اور عاصم عرف کیپری کے ذریعہ دہشت گرد کارروائیاں کر رہا تھا اور انھیں مالی مدد فراہم کر رہا تھا۔ سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ ہلاک ملزم 2013ء میں کراچی ائرپورٹ حملے میں سہولت کار اور 2013ء میں ہی دیگر بڑی کارروائیوں میں بھی ملوث تھا جن میں ایس ایچ او شفیق تنولی پر حملہ، ایس ایچ او اعجازخواجہ پر حملہ، کورنگی کے علاقے میں پاک فوج کی گاڑی پر بم دھماکا اور انچولی میں امام بارگاہ کے باہر دو موٹرسائیکلوں کے ذریعے دھماکے شامل ہیں۔ سی ٹی ڈی کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ہلاک ملزم 2014ء میں کورنگی کراسنگ پر پولیس ٹرک پر حملہ، وکیلوں اور مخالف مسلک کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ اور جناح ہسپتال کراچی کی ایمرجنسی کے باہر بم دھماکوں میں بھی ملوث تھا۔ خیال رہے کہ امجد صابری کے قتل میں ملوث مبینہ دہشت گرد عاصم عرف کیپری کو گزشتہ سال کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔

صفحہ نمبر 1 ٹوٹل صفحات 1127
SP_WEATHER_BREEZY

15°C

کراچی

SP_WEATHER_BREEZY
Humidity: 40%
Wind: NE at 46.67 km/h
Monday 18°C / 26°C SP_WEATHER_BREEZY
Tuesday 17°C / 28°C Sunny
Wednesday 17°C / 29°C Sunny
Thursday 18°C / 30°C Cloudy
Friday 18°C / 29°C Partly cloudy
Saturday 16°C / 25°C Sunny
Sunday 16°C / 24°C Sunny

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ