ہیڈلائنز

Reporter HA

Write on جمعہ, 23 فروری 2018

نتہائی اہمیت کے حامل گیس پائپ لائن منصوبے کی افتتاحی تقریب جمعے کو افغانستان میں منعقد کی گئی جس میں پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، افغان صدر اشرف غنی، ترکمانستان کے صدر قربان گلی بردی محمد وف اور انڈیا کے خارجہ امور کے ریاستی وزیر مبشر جواد اکبر نے شرکت کی۔
ان شخصیات کے علاوہ نیٹو اور امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس تقریب میں مجود تھے۔
افغان صدر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ہر رکاوٹ کو ہٹائے گا۔
دوسری جانب افغان طالبان نے بھی اس منصوبے کی مخالفت نہ کرتے ہوئے اسے خطے کے لیے اہم معاشی منصوبہ قرار دیا ہے۔
افغان طالبان کی جانب سے ان کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تاپی منصوبہ خطے کے لیے اہم معاشی اہمیت رکھتا ہے جسے افعان طالبان کے دور میں شروع کیا گیا تھا لیکن افغانستان میں امریکی یلغار کی وجہ سے اس منصوبے کی تکمیل تاخیر کا شکار ہے۔‘
بیان میں طالبان کی جانب سے ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں اس منصوبے کو فعال بنانے کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
پاکستان، افغانستان، انڈیا اور ترکمانستان کے سربراہان نے دس ارب ڈالر لاگت کے توانائی کے اس منصوبے 'تاپی گیس پائپ لائن' کا سنگ بنیاد 2015 میں رکھا تھا۔
یہ پائپ لائن ابتدائی طور پر 27 ارب مکعب میٹر سالانہ گیس فراہم کر سکے گی جس میں سے دو ارب افغانستان اور ساڑھے 12 ارب مکعب میٹر گیس پاکستان اور بھارت حاصل کریں گے۔

Write on جمعہ, 23 فروری 2018

فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا پیرس میں اجلاس جاری ہے اور پاکستان کا نام اس ادارے کی 'واچ لسٹ' میں شامل کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں حتمی اعلان جمعہ کی شام تک متوقع ہے۔
امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے پاکستان کا نام دہشت گرد تنظیموں کے مالی معاملات پر کڑی نظر نہ رکھنے اور ان کی مالی معاونت روکنے میں ناکام رہنے یا اس سلسلے میں عدم تعاون کرنے والے ممالک کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی قرارداد پیش کر رکھی ہے جس پر اس اجلاس میں غور کیا جا رہا ہے۔
برسلز میں موجود صحافی خالد حمید فاروقی نے تنظیم کے ترجمان الیکزندر دانیالے سے بات کر کےبتایا کہ ابھی تک حتمی اعلان نہیں کیا گیا ہے اور ذرائع ابلاغ میں جو خبریں گردش کر رہی ہیں وہ محض قیاس آرائیاں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے علاوہ ایران اور شمالی کوریا کا نام بھی اس 'گرے لسٹ' میں شامل کرنے کی قرار داد زیر غور ہے لیکن حتمی اعلانیہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔
دریں اثنا پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے ایک ٹوئٹ میں پاکستان کی حمایت کرنے پر ترکی کا شکریہ ادا کیا۔ دو دن قبل پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے ایک بیان میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ تنظیم کی طرف سے حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ انھوں نے اس پیغام میں یہاں تک کہا کہ ان کی کوششیں رنگ لے آئیں۔
لیکن جمعہ کی صبح ایک بھارتی اخبار کا حوالہ دے کر برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے یہ خبر دی کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل کر لیا گیا ہے جس سے پاکستانی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے مقامی ذرائع ابلاغ کو ان خبروں کے رد عمل میں ایک محتاط بیان دیتے ہوئے کہا کہ ابھی حتمی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا کہ اس اجلاس کے نتیجے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کو فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس کے نئے طریقہ کار پر اعتراضات ہیں اور امریکہ کی جانب سے جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ان میں سے بیشتر پر پاکستان پہلے ہی اُس وقت عمل کر چکا ہے جب اسے جون 2015 میں گرے لسٹ سے نکالا گیا تھا۔
پاکستان 2012 سے 2015 تک بھی اس فہرست میں شامل رہ چکا ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فہرست میں شمولیت کی وجہ سے پاکستان کو جن مالی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے ان کا نفاذ جون سے ہو گا۔
تاہم امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوریٹ نے منگل کو بھی اس کی تصدیق سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے پاس کوئی مصدقہ اطلاع نہیں کہ فیصلہ وقت سے پہلے کیا گیا ہے۔
فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس کے اس اجلاس سے قبل پاکستان میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ان تمام تنظیموں کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا جنھیں اقوامِ متحدہ نے دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔
اس آرڈیننس کے نفاذ کے بعد ملک میں انڈیا اور امریکہ کو مطلوب شدت پسند رہنما حافظ سعید سے منسلک تنظیم جماعت الدعوۃ اور اس کے فلاحی ونگ فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف کریک ڈاؤن بھی کیا گیا۔
فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سنہ 2012 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے تحت کالعدم قرار دی گئی تھی لیکن پاکستان میں اس تنظیم کے تحت سینکڑوں ایمبولینسز ملک کی مختلف علاقوں میں کام کر رہی ہیں۔
فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا۔
اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔
اس تنظیم کے 35 ارکان ہیں جن میں امریکہ، برطانیہ، چین اور انڈیا بھی شامل ہیں، البتہ پاکستان اس تنظیم کا رکن نہیں ہے۔
اس ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ایک 'پالیسی ساز ادارہ' ہے جو سیاسی عزم پیدا کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔
اس کے ارکان کا اجلاس ہر تین برس بعد ہوتا ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے۔
اس معاملے پر مالیاتی و اقتصادی امور کے ماہر عابد سلہری نےبات کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'اس گرے لسٹ میں نام آنا پاکستان کے لیے اقتصادی، سفارتی اور سماجی دھچکا ہو گا۔
'سب سے بڑا اثر تو پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات پر پڑے گا، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ، پاکستانی کی مالی ساکھ، ان سب کو بڑا دھچکا لگے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے تاثر کو بھی نقصان پہنچے گا۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان امن بحال ہونے کے بعد سرمایہ کاروں کو اپنے یہاں لانے کی جو کوشش کر رہا ہے، انھیں زک پہنچے گی۔ اس کے علاوہ پاکستان کی طرف جو بھی ادائیگیاں، یا نرم شرائط پر قرضے ملنے والے ہوں گے اس کی زیادہ کڑی چھان بین ہو گی۔ اس موقعے پر اس فہرست میں آنے کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔'
عابد سلہری کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سال جولائی میں نیپال میں ایشیا پیسیفک گروپ کا اجلاس ہو گا جس میں پاکستان میں پاکستان رکنیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں آیا تو شمولیت خطرے میں پڑ جائے گی۔

Write on جمعہ, 23 فروری 2018

اشتیاق احمد اپنے وکیل کے ہمرا پیش ہوئے اور میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ مجھے جے آئی ٹی میں شامل افسران کی نیت پر شک نہیں ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں بھی اللہ کو جواب دینا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ لوگوں کے تعاون سے امید ہے انصاف ضرور ملے گا تاہم انھوں نے کارروائی کی تفصیلات سے آگاہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ آن کیمرہ سیشن کی کارروائی شائع نہیں کی جاسکتی۔
جے آئی ٹی ممبران پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی تمام معاملے کو بڑی باریکی سے دیکھ رہی ہے اور تحقیقات میں واضح ہوگیا ہے کہ واقعہ غفلت نہیں تھا۔
اشتیاق احمد نے اکلوتے بیٹے کے قتل پر انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر انصاف نہ ملا تو ہمارا دنیا میں رہنے کا کوئی مقصد نہیں ہوگا کیونکہ انتظار ہم چار بہن بھائیوں کی واحد اولاد تھی۔
انھوں نے کہا کہ انصاف نہ ملنے پر یا تو قبرستان میں بیٹھ جائیں گے یا تنہائی اختیار کر لیں گے تاہم لائحہ عمل انصاف نہ ملنے کے بعد ہی طے کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ صرف ہماری موجودگی میں ہی نہیں بلکہ غیر موجودگی میں بھی جے آئی ٹی کام کرتی رہتی ہے۔
انتظار قتل کیس کی تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی کے دوسرے سیشن میں مدیحہ کیانی اور ایس ایس مقدس حیدر بھی موجود رہے۔
جے آئی ٹی کو اپنی تفتیش مکمل کرنے کے لیےمزید تین دن رہ گئے ہیں تاہم تحقیقات کی تکمیل کے لیے مزید وقت لگ سکتا ہے۔
انتظار کے قتل کیس کی تحقیقات کے لیے رواں ماہ نئی جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی تھی جس میں آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلیجنس(ایم آئی)، انٹیلی جنس بیورو(آئی بی)، رینجرز اور اسپیشل برانچ کے افسران شامل ہیں۔
انتظار احمد کو ڈیفنس کے علاقے خیابان اتحاد میں 13 جنوری 2018 کی شب کو اے سی ایل سی اہلکاروں کی جانب سے ایک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تھا، جس کے نہ رکنے پر اہلکاروں نے فائرنگ کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے تھے۔
ابتدائی طور پر پولیس کی جانب سے اس واقعے کو دہشت گری کا واقعہ قرار دیا جارہا تھا تاہم بعد ازاں درخشاں تھانے میں اس کا مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد مقتول انتظار کے والد اشتیاق احمد کی جانب سے چیف جسٹس اور آرمی چیف سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی گئی تھی جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملوث اہلکاروں کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔
14 جنوری کو اس کیس میں 6 اے سی ایل سی اہلکاروں کو حراست میں لیا تھا، جس میں 2 انسپکٹر، 2 ہیڈ کانسٹیبل اور 2 افسران بھی شامل تھے۔

Write on جمعہ, 23 فروری 2018

مغربی سفارتکاروں نے روس پر سلامتی کونسل کا وقت ضائع کرنے کا الزام لگایا ہے۔ فرانس نے کہا کہ عمل کرنے میں ناکامی سے خود اقوام متحدہ کا اختتام ہو جائے گا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ پانچ دنوں کے دوران تقریباً 400 افراد دمشق کے قریبی علاقے
غوطہ میں مارے گئے ہیں۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جانب سے جمعے کو اس قرارداد پر ووٹنگ ہونی ہے۔
روس جو کہ ان پانچ عالمی طاقتوں میں شامل ہے جو اس قرارداد کو ویٹو کر سکتی ہیں، روس خانہ جنگی دوران شامی صدر بشار الاسد کا اہم حمایتی رہا ہے۔
مغربی طاقتوں کے خیال میں روس اپنے اتحادی کو اتنا وقت دینا چاہتا ہے کہ وہ باغیوں کے ساتھ ایک آخری بڑی ڈیل طے کر لے۔
دوسری جانب امریکہ، برطانیہ اور فرانس بنا کسی تاخیر کے اس قرارداد کو منظور کرانا چاہتے ہیں۔
کویت اور سویڈن کی جانب سے پیش کیے جانے والے مسودے میں اس قرارداد کے منظور کیے جانے کے 72 گھنٹوں بعد 30 دن کے لیے ملک بھر میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس کے 48 گھنٹوں بعد طبی بنیادوں پر انخلا اور امدادی سامان کی ترسیل کا آغاز کیا جائے گا۔ مسودے کے مطابق پانچ عشاریہ چھ ملین لوگوں کو امداد کی شدید ضرورت ہے۔
روس کا کہنا ہے کہ اس نے قرارداد کے مسودے میں چند تبدیلیاں کی تھیں لیکن سویڈن کے اقوام متحدہ میں سفیر اولاف سکوگ نے  بتایا ہے کہ مشرقی غوطہ میں امداد پہنچانا سب سے بنیادی مقصد ہے۔
جمعرات کو شامی حکومت نے پانچویں روز بھی فضائی کارروائی اور بھاری اسلحے کا استعمال کیا۔
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نامی ادارے کا کہنا ہے کہ جمعرات کو 46 مزید افراد مارے گئے ہیں جبکہ اتوار سے اب تک مارے جانے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 403 تک پہنچ گئی ہے۔
بیرل بموں اور شیلوں سے اس علاقے کو نشانہ بنایا گیا جسے اقوام متحدہ نے ’زمین پر جہنم‘ قرار دیا ہے جہاں 393000 افراد پھنسے ہوئے ہ ں۔
اقوام متحدہ کے شام میں انسانی حقوق کے کوآرڈینیٹر پینوز مومتز نے بھی جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
انھوں نے مشرقی غوطہ کی دل دہلا دینے والی تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہ بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کو جنگ بندی کے لیے قائل نہیں کر سکتی تو پھر ہم نہیں جانتے کہ کیا چیز انھیں قائل کر سکتی ہے۔

Write on جمعہ, 23 فروری 2018

پارک لینڈ میں واقع ہائی اسکول میں فائرنگ کے 17 افراد کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر نے تجویز پیش کی ہے کہ جو اساتذہ اسکولوں کی حفاظت کے لئے اسلحہ رکھنا چاہتے ہیں انہیں اسلحے کے ساتھ اضافی مراعات بھی دی جائیں گی۔
اسکولوں میں حالیہ پیش آنے والے واقعات کے بعد وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کی زیرِصدرات اجلاس ہوا جس میں کابینہ کے ارکان سمیت ریاستی و مقامی حکام نے شرکت کی، اجلاس میں اسکولوں میں حفاظتی انتظامات کی بہتری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم امریکی اسکولوں کو اتنا ہی محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں جتنا امریکی بینک محفوظ ہیں، جب تک ہم جارحانہ حکمتِ عملی نہیں بنائیں گے ایسے واقعات پیش آتے رہیں گے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم شرح کے اعتبار سے بہت کم اساتذہ کو اسلحہ دینے کی حمایت کر رہے ہیں لیکن تعداد کے اعتبار سے یہ لوگ زیادہ ہوں گے۔ اسکولوں کی 40 فی صد جماعتوں میں ایسے اساتذہ رکھے جاسکتے ہیں جو اسلحہ چلانے کی اہلیت رکھتے ہوں، ہتھیار چلانے کی صلاحیت کے حامل اساتذہ کو کچھ اضافی مراعات بھی دی جاسکتی ہیں اور اگر ایسا ہوگیا تو لوگ دیکھیں گے کہ اسکولوں میں فائرنگ کی یہ ہولناک وبا فوراً ہی رک جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکولوں کے جو اساتذہ اسلحہ لینا چاہتے ہیں انہیں اس کی اجازت دے دینی چاہیے تاکہ امریکی اسکولوں میں ہونے والی فائرنگ کے واقعات کا توڑ کیا جاسکے۔

Write on جمعہ, 23 فروری 2018

تازہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں ملنے والی ٹائیفائیڈ کی ایک ایسی نئی قسم کے جائزے سے معلوم ہوا ہے اس پر مدافعتی ادویات کا اثر نہیں ہو رہا ہے اور ماہرین اس پر قابو پانے کے لیے نئی حکمت عملی کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
آغا خان یونیورسٹی اور برطانیہ کی کیمبرج یونیوسٹی کے طبی ماہرین کی تحقیق کے مطابق اس نئی قسم پر بہت کم اینٹی بائیوٹکس اثر کرتی ہیں اور یہ دوبارہ خوبخود جنم لے لیتا ہے۔
ٹائیفائیڈ کا یہ جراثیم 14 ماہ قبل سب سے پہلے صوبہ سندھ میں دریافت ہوا تھا اور اب ملک کے کئی مقامات اور برطانیہ تک بھی پھیل چکا ہے۔
محققین کے مطابق پاکستان کے صوبہ سندھ میں یہ مزاحمتی ٹائیفائیڈ بیکٹیریا حیدرآباد کے متصل اضلاع تک پھیل گیا ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ پورے پاکستان میں بھی پھیل سکتا ہے کیونکہ اس کا علاج مہنگا اور پیچدہ ہے۔
صوبائی ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر محمد اخلاق خان نےبتایا کہ حیدرآباد کے علاوہ ٹنڈو الہ یار، بدین اور جام شورو اضلاع میں بھی یہ ٹائیفائیڈ بیکٹیریا رپورٹ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹائیفیڈ نومبر 2016 کو پہلی مرتبہ رپورٹ ہوا تھا اور اس میں تین سے پانچ سال کی عمر کے بچے متاثر ہو رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ اب آغا خان یونیورسٹی کی مدد سے اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کی جارہی ہیں اور یونیورسٹی نے ڈھائی لاکھ ویکیسین فراہم کی ہیں۔ اس کے علاوہ محکمۂ صحت نے بھی آگاہی کی مہم شروع کی ہے اور عالمی ادارے صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تعاون سے کلورین کی ٹیبلٹس بھی فراہم کی جارہی ہیں۔
آغا خان یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد اور قاسم آباد اس ٹائیفائیڈ جراثیم سے سب سے زیادہ متاثرہ تعلقے ہیں جن کے تقریباً 250,000 بچوں کو نئی ٹائپ بار۔ ٹی وی سی ویکسین دی جارہی ہے۔
یہ ویکسین اس قسم کے ٹائیفائیڈ کی روک تھام کا موثر ترین حل ہے کیونکہ اینٹی بائیوٹکس ادویات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث دیگر موجودہ ادویات اس کے علاج میں غیر موثر ثابت ہو رہی ہیں۔
حیدرآباد کی متاثرہ تحصیل قاسم آباد کے سرکاری ہسپتال میں بچوں کے امراض کی ماہر ڈاکٹر غزالہ شیخ کا کہنا ہے کہ مئی 2017 سے انھوں نے اس ٹائیفائیڈ کو نوٹس کیا۔ اُن دنوں اگر ان کے پاس روزانہ دس مریض آرہے تھے تو ان میں سے آٹھ ٹائیفائیڈ کے بخار میں مبتلا تھے۔
'یہ سلسلہ نومبر تک جاری رہا لیکن اب ب روزانہ ایک دو مریض آرہے ہیں۔ ان مریضوں کی عمر 3 سال سے لے کر 12 سال کے درمیان میں ہوتی ہیں اور زیادہ تر لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔‘
بیکٹیریا کے بارے میں معلوم کیسے ہوا؟
ڈاکٹر غزالہ شیخ کا کہنا ہے کہ اینٹرک فیور( ٹائیفائیڈ کا بخار) میں جو عام طور پر اینٹی بائیوٹکس استعمال کرتے ہیں مریضوں کو وہ ہی دی گئیں لیکن چار روز گزرنے کے باوجود بھی اس کا کوئی اثر نہیں ہوا تو پھر انھوں نے مریضوں کے ٹیسٹ کرائے جس کے نتائج پازیٹو آئے۔
’بلڈ اور کلچر ٹیسٹ مہنگا ہے اس لیے ہم نے آغا خان ہسپتال حیدرآباد کو بھی شامل کیا۔ ان ٹیسٹوں کی رپورٹس سے ہمیں پتہ چلا کہ جو معمول کی اینٹی بایوٹکس ہیں وہ اس پر اثر نہیں کر رہی ہیں۔‘
آغا خان یونیورسٹی کے پیتھالوجی شعبے کی ڈاکٹر رومینہ حسن کا کہنا ہے کہ بیکٹیریا ڈی این اے میں تبدیلی لاسکتے ہیں اور اس تبدیلی کے نتیجے میں وہ خود کو اینٹی بایوٹکس سے محفوظ کرلیتے ہیں اور ان پر یہ دوائیں اثر نہیں کرتی۔
آغا یونیورسٹی کی تحقیق میں اس ٹائیفائیڈ کی وجہ آلودہ پانی قرار دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر رومینہ حسن کا کہنا ہے کہ ٹائیفائیڈ کا بیکٹیریا مریض کے فضلے میں نکلتا ہے جو پانی میں شامل ہوجاتا ہے۔ اگر یہ پانی استعمال ہو یا اسے دیگر اشیا میں استعمال کیا جائے تو یہ بیکٹیریا انسان میں منتقل ہوجاتا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر محمد اخلاق خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں وہ سہولیات موجود نہیں جس سے پانی میں موجود جراثیم کی شناخت کی جاسکے، امکانات کی بنیاد پر تو کچھ کہہ سکتے ہیں لیکن حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ بیکٹیریا پانی کی وجہ سے پھیلا۔
ڈاکٹر غزالا شیخ کا کہنا ہے کہ ویسے تو ٹائیفائیڈ پانی سے جنم لینے والی بیماری ہیں لیکن اس کی دیگر وجوہات بھی ہیں لہذا انھوں نے والدین کو کہا ہے کہ وہ غیرمعیاری منرل واٹر کی بوتلوں والا پانی استعمال نہ کیا کریں اور پانی ابل کر پیئیں، صفائی ستھرائی رکھیں اور بچوں کو بازار کی چیزیں نہ دلائیں۔
یاد رہے کہ حیدرآباد اور آس پاس میں پینے کی فراہمی کے لیے مہیا کیے جانے والی پانی کے معیار پر شکایات سامنے آتی رہی ہیں اور عدالت کے احکامات پر اس کی تحقیقات بھی کی جارہی ہے۔
آغا خان یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ 2016 اور 2017 کے 10 ماہ کے مختصر وقت میں صرف حیدرآباد میں ادویات کے خلاف مزاحمتی ٹائیفائیڈ کے 800 سے زائد کیسز ایک خطرناک اشارہ ہے کیونکہ 2009 سے 2014 کے پانچ سالہ عرصے کے دوران پاکستان بھر میں ایسے صرف 6 کیسز کی نشاندہی ہوئی تھی۔
آغا خان یونیورسٹی کے پیڈیاٹرک اینڈ چائلڈ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر فرح قمر کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں یہ اینٹی بائیوٹکس ادویات کے خلاف مزاحم ٹائیفائیڈ کی پہلی وبا ہے۔

Write on جمعہ, 23 فروری 2018

ٹی وی سٹار کائیلی جینر کی جانب سے سوشل نیٹ ورکنگ ایپ سنیپ چیٹ استعمال نہ کرنے کے اعلان کے بعد بازارِ حصص میں کمپنی کی قدر میں 1.3 ارب ڈالر کی کمی دیکھی گئی ہے۔
ریالٹی سٹار کم کارڈیشیئن کی سوتیلی بہن کائیلی جینر نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’کیا کوئی اور بھی سنیپ چیٹ اب نہیں استعمال کرتا؟ یا ایسا صرف میں ہی کرتی ہوں، یہ بہت افسوس ناک ہے۔‘
کائیلی جینر کے ٹوئٹر پر تقریبا دو کروڑ 45 لاکھ فالوورز ہیں اور ان کی ایک ٹویٹ کے بعد سنیپ چیٹ کے حصص گرنا شروع ہوگئے۔
 سنیپ چیٹ نے حال ہی میں اپنی ایپ کا ڈیزئن تبدیل کیا ہے اور اس ڈیزائن کی تخفیف کے لیے تقریباً دس لاکھ افراد ایک آن لائن پٹیشن دائر کر چکے ہیں۔
سنیپ چیٹ کے حصص میں تقریباً آٹھ فیصد کمی کے بعد وال سٹریٹ میں دن کا اختتام چھ فیصد کمی پر ہوا، اور اب وہ دوبارہ 17 ڈالر کی اسی قیمت پر پہنچ گیا ہے جو کمپنی کے سٹاک مارکیٹ میں قدم رکھنے کے وقت تھی۔
سنیپ چیٹ کو فیس بک کی ملکیتی ایپ انسٹاگرام سے پہلے ہی سخت مقابلے کا سامنا ہے اور کائیلی جینر کا یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرمایہ کار پہلے ہی اس بارے میں پریشان تھے۔
تاہم کائیلی جینر نے اس کے بعد ایک اور ٹویٹ کیا جس میں انھوں نے کہا کہ ’پھر بھی مجھے سنیپ چیٹ سے پیار ہے،میرا پہلا پیار۔‘
سنیپ چیٹ نے نومبر میں کی جانے والی ڈیزائن کی تبدیلی سے متعلق شکایات کو رد کر دیا ہے، اور اس کے سربراہ ایون سپیگل کا رواں ماہ کے آغاز میں کہنا تھا کہ صارفین وقت کے ساتھ اس کے عادی ہوجائیں گے۔

Write on جمعہ, 23 فروری 2018

جوش ملیح آبادی 5 دسمبر 1898ء میں اترپردیش ہندوستان کے علاقے ملیح آباد کے ایک علمی اور متمول گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام شبیر حسن خان تھا۔ جوش کے والد نواب بشیر احمد خان، دادا نواب محمد احمد خاں اور پر دادا نواب فقیر محمد خاں گویا سبھی صاحبِ دیوان شاعر تھے۔
جوش نے نو برس کی عمر میں پہلا شعر کہا ابتدا میں عزیز لکھنوی سے اصلاحِ سخن لی پھر یہ سلسلہ منقطع ہوگیا اور خود اپنی طبیعت کو رہنما بنایا عربی کی تعلیم مرزا ہادی رسوا سے اور فارسی اور اردو کی تعلیم مولانا قدرت بیگ ملیح آبادی سے حاصل کی۔
انہوں نے 1914ء میں آگرہ سینٹ پیٹرز کالج سے سینئر کیمرج کا امتحان پاس کیا۔ جوش ملیح آبادی انقلاب اور آزادی کا جذبہ رکھنے والے روایت شکن شاعر تھے انہوں نے 1925ء میں عثمانیہ یونیورسٹی میں مترجم کے طور پرکام شروع کیا اور کلیم کے نام سے ایک رسالے کا آغاز کیا اور اسی دوران شاعر ِانقلاب کے لقب سے مشہور ہوئے۔

ملا جو موقع تو روک دوں گا جلال روزِ حساب تیرا
پڑھوں گا رحمت کا وہ قصیدہ کہ ہنس پڑے گا عتاب تیرا

تقسیمِ ہند کے چند برسوں بعد ہجرت کرکے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ جوش نہ صرف اردو میں ید طولیٰ تھے بلکہ عربی، فارسی، ہندی اورانگریزی پربھی دسترس رکھتے تھے۔ اپنی انہیں خداداد لسانی صلاحیتوں کے باعث انہوں نے قومی اردو لغت کی ترتیب و تالیف میں بھرپورعلمی معاونت کی۔

عشاقِ بندگانِ خدا ہیں خدا نہیں
تھوڑا سانرخِ حسن کو ارزاں تو کیجئے

جوش ملیح آبادی کثیر التصانیف شاعر و مصنف ہیں۔ ان کی تصانیف میں نثری مجموعہ ’یادوں کی بارات‘،’مقالاتِ جوش‘، ’دیوان جوش‘اور شعری مجموعوں میں جوش کے مرثیے’طلوع فکر‘،’جوش کے سو شعر‘،’نقش و نگار‘ اور’شعلہ و شبنم‘ کولازوال شہرت ملی۔

رُکنے لگی ہے نبضِ رفتارِ جاں نثاراں
کب تک یہ تندگامی اے میرِشہسواراں

اٹھلا رہے ہیں جھونکے، بوچھار آرہی ہے
ایسے میں تو بھی آجا، اے جانِ جاں نثاراں

کراچی میں 1972ء میں شائع ہونے والی جوش ملیح آبادی کی خود نوشت یادوں کی برات ایک ایسی کتاب ہے جس کی اشاعت کے بعد ہندو پاک کے ادبی، سیاسی اور سماجی حلقوں میں زبردست واویلا مچا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ جوش کو ان کی خود نوشت کی وجہ سے بھی بہت شہرت حاصل ہوئی کیونکہ اس میں بہت سی متنازع باتیں کہی گئی ہیں۔

اس دل میں ترے حسن کی وہ جلوہ گری ہے
جو دیکھے وہ کہتا ہے کہ شیشے میں پری ہے

ستر کی دہائی میں جوش کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوگئے۔ 1978ء میں انہیں ان کے ایک متنازع انٹرویو کی وجہ سے ذرائع ابلاغ میں بلیک لسٹ کردیا گیا مگر کچھ ہی دنوں بعد ان کی مراعات بحال کردی گئیں۔
22 فروری 1982ء کو جوش نے اسلام آباد میں وفات پائی اور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔ ان کی تاریخ وفات معروف عالم اورشاعر نصیر ترابی نے ان کے اس مصرع سے نکالی تھی۔

میں شاعرِآخرالزماں ہوں اے جوش

صفحہ نمبر 1 ٹوٹل صفحات 276
Cloudy

13°C

اسلام آباد

Cloudy
Humidity: 68%
Wind: N at 17.70 km/h
Sunday 10°C / 17°C Partly cloudy
Monday 13°C / 21°C Cloudy
Tuesday 15°C / 21°C Partly cloudy
Wednesday 13°C / 21°C Mostly cloudy
Thursday 12°C / 19°C Rain
Friday 10°C / 17°C Partly cloudy
Saturday 13°C / 18°C Partly cloudy

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ