ہیڈلائنز


پیپلزپارٹی منافقت اوردوہرے معیارکی سیاست کررہی ہے،چودھری نثار

Written by | روزنامہ بشارت

اسلام آباد:  وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں جنرل مشرف کے ساتھ این آر او والی دوستی نبھانے والی جماعت کی جانب سے مشرف کے بیرون ملک جانے کی سب سے زیادہ مخالفت کرنا منافقت اور دوہرے معیار کی انتہا ہے  جنرل مشرف پی پی کے دورِ حکومت میں چار دفعہ بیرون ملک گئے کیا اس وقت حکمرانوں کا جمہوری پن سویا ہوا تھا؟۔اپنے ایک بیان میں وزیرداخلہ نے کہاکہ  2009میں تحقیقاتی کمیٹی نے یہ سفارش دی کہ بی بی قتل کیس میں جنرل مشرف ملوث ہو سکتے ہیں مگر حکمرانوں نے آنکھ اٹھا کر بھی جنرل مشرف کی طرف نہیں دیکھا۔ حد تو یہ ہے کہ 2011 میں ایف آئی آر میں نام آنے کے باوجود پی پی کی حکومت نے مشرف کا نام ای سی ایل پر نہیں ڈالا اور نہ ہی انکے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی کی اور وہ کھلے عام ملک میں آتے جاتے رہے۔ یہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے کہ جنرل مشرف کو گارڈ آف آنر دیکر رخصت کرنے والے اور پھر انکے لیے باقی سیاسی جماعتوں سے عام معافی کی استدعا کرنے والے آج سیاسی ڈرامہ بازی پر اتر آئے ہیں۔ وزیرِداخلہ نے کہا کہ ایک دفعہ پھر کہتا ہوں کہ سپر یم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جنرل مشرف کا نام ای سی ایل سے ہٹایا ہے اگر کسی کو یہ فیصلہ نظر نہیں آتا تو اس کے لیے صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ 2008 کے الیکشن کے بعد مسلم لیگ ن وہ واحد جماعت تھی جس نے جنرل مشرف کو عام معافی دینے کی مخالفت کی ورنہ آصف علی زرداری نے تمام جماعتوں کو عام معافی پر راضی کر لیا تھا۔ جنرل مشرف کے مواخذے پریہ مسلم لیگ ن کا ہی دباؤ تھا کہ بالآخر انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑا ورنہ پیپلز پارٹی کا تو سرے سے ایسا کوئی پروگرام نہیں تھا۔ اپنے پانچ سالہ طویل دورِ اقتدار میں پیپلز پارٹی کو نہ تو بے نظیر بھٹو کا قتل کیس یاد آیا اور نہ ہی جنرل مشرف کی 2007کی ایمرجنسی کا جرم بلکہ وہ تو اس جرم میں شریک جسٹس ڈوگر اور پی سی او کی عدلیہ کو قائم دائم رکھنا چاہتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ آصف علی زرداری میاں نواز شریف کو پرویز مشرف کی غلطیاں درگزر کرنے کے لئے مسلسل کہتے تھے۔ یہ عجیب منطق ہے کہ آج پیپلز پارٹی والوں کو اپنا سارا کیا بھول گیا ہے۔ دراصل یہ اپنی تیزی سے گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو بحال رکھنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ حقیقت میں ان قلابازیوں سے پیپلز پارٹی کی ساکھ بحال ہونا تو دور کی بات یہ اور تیزی سے گرنے کا احتمال ہے۔ پاکستانی قوم کی یاد اتنی محدود نہیں کہ ان کو وہ سب کچھ بھول جائے۔ جہاں تک موجودہ حکومت کا تعلق ہے تو ہمارا ریکارڈ اس سلسلے میں واضح ہے۔کوئی اسے نظر انداز کرنا چاہے تو یہ اسکی سوچ کا مظہر ہے ورنہ جب غداری کیس کی سپیشل کورٹ نے جنرل مشرف کے باہر جانے کا دروازہ کھولا تو حکومت نے اس وقت بھی مخالفت کی۔ سندھ ہائی کورٹ نے اجازت دی تو اسکی بھی مخالفت کی گئی اور یہ سارا سلسلہ دو سال چلتا رہا۔ سپریم کورٹ بہر حال اپیل کی آخری عدالت ہے اسکا فیصلہ حتمی ہوتا ہے اور اسی تناظر میں جنرل مشرف کا نام ای سی ایل سے خارج کیا گیا۔

Sunny

29°C

اسلام آباد

Sunny
Humidity: 31%
Wind: WNW at 11.27 km/h
Thursday 21°C / 29°C Sunny
Friday 21°C / 29°C Sunny
Saturday 21°C / 28°C Sunny
Sunday 20°C / 28°C Mostly sunny
Monday 18°C / 26°C Mostly sunny
Tuesday 18°C / 25°C Sunny
Wednesday 21°C / 27°C Sunny

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ