ہیڈلائنز


کوئی اہم فیصلہ پارلیمنٹ میں نہیں کیا جاتا ہے,خورشید شاہ

Written by | روزنامہ بشارت

اسلام آباد :  قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم پارلیمنٹ میں آتے ہیں نہ ہی کوئی اہم فیصلہ پارلیمنٹ میں کیا جاتا ہے‘ جب کسی بحران میں پھنس جائیں پھر انہیں پارلیمنٹ یاد آتی ہے‘ پارلیمنٹ کو اہمیت نہ دینے سے خطرناک سازشیں جنم لیتی ہیں‘ ہم نے پارلیمنٹ کو اہمیت دیکر پانچ سال کی مدت اقتدار پوری کی‘ قطر میں بیٹھا شخص ایل این جی کی ڈیل کروا رہا ہے‘ تاپی اور ایران گیس پائپ لائن کا آغاز ہم نے کیا کریڈٹ (ن) لیگ لے رہی ہے‘ پی آئی اے کی نجکاری کا بل آئی ایم ایف کے حکم پر عجلت میں منظور کراکر پارلیمنٹ کو مذاق بنایا گیا‘ کامردیڈ وزیر کہتا ہے کہ ہم آٹے پر سبسڈی کھاتے ہیں ہم نے آٹے پر سبسڈی نہیں کھائی (ن) لیگ کی صوبائی حکومت نے سستے تندور کے نام پر اربوں روپے کا آٹا کھایا شکر آج ان کے وزیر نے اعتراف کرلیا‘ پی آئی اے پی پی پی دور میں 2010 تک منافع میں تھی آخری دو سال تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے خسارہ ہوا‘ ہمارے دور میں خسارہ 12ارب روپے تھا (ن) لیگ کے اڑھائی سالوں میں خسارہ 270 ارب ہوگیا‘ پی آئی اے کے پاکستان میں موجود عمارتوں اور اثاثوں کا تخمینہ صرف چھ ارب لگایا گیا جبکہ صرف کراچی کی بلڈنگ 10ارب سے زائد کی ہے‘ غیر ملکی عمارتوں سمیت کل تخمینہ 89 ارب لگایا گیا ہے۔ جمعہ کو قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی طرف سے پی آئی اے کی نجکاری اور ہڑتالی ملازمین پر تشدد اور ہلاکتوں بارے پیش کی گئی تحریک پر بحث کا آغاز کررہے تھے ان کا خطاب پیر کو بھی جاری رہے گا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ کو کوئی اہمیت نہیں دیتی پارلیمنٹ کے تقدس کے لئے تمام اہم فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں وزیراعظم کا انتخاب بھی پارلیمنٹ کرتی ہے موجودہ حکومت گڈ گورنس کے دعوؤں پر برسراقتدار آئی حکمران غریبوں کے نام پر برسراقتدار آکر غریبوں کا استحصال کرتے ہیں وزیراعظم کی طرف سے پی آئی اے کے نام پر سیاست کرنے کا الزام قابل افسوس ہے اگر ہم سیاستدان سیاست نہ کریں تو کیا کریں۔ ہمارا کام ہی سیاست کرنا ہے یہ ملک سیاست کی پیداوار ہے یہ ملک کسی ڈکٹیٹر نے قائم نہیں کیا ہم سیاستدانوں نے آمروں سے لڑ کر ملک میں جمہوریت کو بحال کرایا مجھے سیاست دان ہونے پر فخر ہے سیاست کی ہے اور سیاست کرتا رہوں گا۔ وزیراعظم کی مرضی کہ وہ سیاستدان نہیں کہلوانا چاہتے وزیراعظم جب پھنستے ہیں تو انہیں پارلیمنٹ کی یاد آتی ہے ورنہ ان کی کرسی ایوان میں خالی رہتی ہے۔ اگر وزیراعظم ایوان میں نہ آئے تو پھر اس کی پارٹی کے ارکان بھی ایوان میں نہیں آتے۔ پارلیمنٹ کو اہمیت نہ دینے سے خطرناک سازش بنتی ہے ہم نے پارلیمنٹ کو اہمیت دیکر اپنے اقتدار کے پانچ سال پورے کئے اس پارلیمنٹ میں ملک کے بڑے بڑے فیصلے کئے گئے اہم اداروں کے سربراہ اس ایوان میں آئے اور بریفنگ دی دولت کی طاقت سے یہ ادارے خریدے نہیں جاسکتے عوام کی طاقت سے فیصلے ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کو اپوزیشن محسوس کرتی ہے حکومت محسوس نہیں کرتی یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کی تعداد بھرپور اور حکومتی ارکان کی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایل این جی بارے ایوان کو کچھ بتایا نہیں جارہا ایل این جی کی درآمد کے لئے آغاز ہم نے کیا تھا مگر اس وقت کی سپریم کورٹ نے پابندی لگائی آج قطر ممیں کون بیٹھا ہے جو ای کپرائیویٹ کمپنی سے ڈیل کروا رہا ہے تاپی اور ایران پائپ گیس کا معاملہ بھی پی پی پی کی حکومت نے شروع کیا تھا آج کریڈٹ ن لیگ لے رہی ہے آج وزیراعظم کو ریکوزٹ اجلاس میں موجود ہونا چاہئے تھا ان کی موجودگی سے پارلیمنٹ کی اہمیت بنتی پی آئی اے بارے بل اسمبلی سے عجلت میں منظور کرانے کی وجہ سے عوام میں شکو و شبہات پیدا ہوئے پی پی کے دور میں 129 بل اتفاق رائے سے منظور ہوئے ڈکٹیٹر سے سیاست سیکھنے والے اتفاق رائے کی سوچ پیدا نہیں کرسکتے لگتا ہے کہ یہ بل آئی ایم ایف کے حکم پر منظور کرایا گیا آئی ایم ایف کو خوش کرنے کے لئے اپنی پارلیمنٹ کا مذاق اڑایا گیا وزیراعظم نے پی آئی اے ایکشن کمیٹی کو یقین دلایا کہ نواز شریف پی آئی اے کی نجکاری کرنے والا آخری شخص ہوگا لیکن اسمبلی سے بل کی منظوری سے اشتعال پیدا ہ وا کہا جاتا ہے کہ قرضے اتارنے کے لئے اداروں کی نج کاری کی جارہی ہے لیکن ماضی میں جو ادارے بیچے گئے ان سے تو خرچ کم ہونے کی بجائے قرضوں میں اصافہ ہوا ن لیگ نے ماضی میں سستے تندور کا اربوں روپے کا آٹا کھایا اورنج ٹرین اور میٹرو چلانے والی حکومت کہتی ہے کہ ادارے چلانا حکومت کا کام نہیں میٹرو کو چار ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ملتان کے عوام میٹر بس منصوبے سے خوش نہیں یوسف رضا گیلانی کی تعمیر و ترقی کے نشان مٹانے کے لئے ملتان میں میٹرو شروع کی گئی حکومت نے پی آئی اے کو اپنی انا کا مسئلہ بنا دیا ہے پی پی پی کے دور میں وزیراعلیٰ پنجاب بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے کرواتے تھے لیکن اپنے دور میں مظاہرین پر تشدد کروایا لازمی سروس ایکٹ حکومت نے اپنی ہی یونین ایئرلیگ کے خلاف لگا دیا ہڑتال ختم ہونے کے باوجود پی آئی اے کے 64ملازمین کو شوکاز نوٹس دیدیا گیا پی پی پی نے پی آئی اے میں ملازمین کو بارہ فیصد حصص کا مالک بنایا تھا مزدور کے منہ سے روٹی نہیں چھینی تھی ہم نے لوگوں کو روزگار دیا ن لیگ انہیں بے روزگار کررہی ہے 2011 میں پی آئی اے کا ریونیو 112 ارب روپے تھا 2015 میں یہ کم ہو کر صرف 92کروڑ رہ گیا 2009 بارہ ارب کا خسارہ تھا 2008 میں پی آئی اے کا خسارہ آٹھ ارب پچاس کروڑ تھا حکومت نے چھ ایسے جہاز خریدے جو دبئی تک پرواز نہیں کرسکتے حکومت اداروں کو نقصان میں دکھا کر نج کاری کرنا چاہتی ہے جبکہ دوسری طرف نوے لاکھ پر ایڈوائزر رکھے جارہے ہیں پی آئی اے کی عمارتوں اور اثاثوں کی کم قیمتیں لگائی جارہی ہیں کراچی میں ایک بلڈنگ دس ارب کی ہے جس کی قیمت ستر کروڑ ‘ صدر پنڈی کی ایک بلڈنگ 32کروڑ قیمت لگائی گئی ہے پی آئی اے کی پاکستان میں تمام عمارتوں کی قیمت صرف چھ ارب 89کروڑ روپے لگائی گئی ہے جبکہ غیر ملکی عمارتیں بھی ملا کر کل 89ارب قیمت لگائی گئی ہے آج پی آئی اے 270ارب کے خسارے کا مالک ہے۔

Clear

20°C

اسلام آباد

Clear
Humidity: 39%
Wind: NNW at 11.27 km/h
Wednesday 20°C / 29°C Sunny
Thursday 22°C / 29°C Sunny
Friday 22°C / 29°C Sunny
Saturday 21°C / 29°C Sunny
Sunday 21°C / 27°C Sunny
Monday 19°C / 25°C Scattered thunderstorms
Tuesday 18°C / 25°C Sunny

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ