ہیڈلائنز


جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ، نئے آرمی چیف کیلئے امریکا میں قیاس آرائیاں شروع

Written by | روزنامہ بشارت

واشنگٹن: امریکی میڈیا میں جنرل راحیل شریف کی رواں سال نومبر میں ریٹائرمنٹ کے بعد ممکنہ نئے فوجی سربراہ کے نام سے متعلق قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ اس حوالے سے دو نام سامنے آ رہے ہیں۔ ان میں موجودہ چیف آف جنرل اسٹاف کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات اور ملتان کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم احمد ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ جنرل زبیر محمود حیات کا نام جنرل راحیل شریف کے جانشین کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ جنرل زبیر حیات کی شہرت اعتدال پسند کی حیثیت سے سامنے آئی ہے جو ماضی کے رہنماوں کے متعلق اس لئے فکرمند تھے کہ انہوں نے انتہا پسند گروپوں کے خلاف زیادہ کچھ نہیں کیا۔ ایک اور اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے جنرل زبیر محمود حیات کے علاوہ جنرل اشفاق ندیم احمد کا بھی ذکر کیا ہے۔ امریکی اخبارات نے پاک فوج کے 15 ویں سربراہ جنرل راحیل شریف کی اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کے بیان پر اپنی خصوصی رپورٹ میں لکھا ہے کہ جنرل راحیل شریف کے مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کے اعلان سے امریکی حکام حیران ہو جائیں گے۔

اخبار نے جنرل راحیل شریف کو پاکستان کا ایک طاقتور فوجی سربراہ اور مقبول شخص قرار دیا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ انہیں طالبان کے خلاف جنگ کرنے اور دہشت گردانہ حملوں میں کمی کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔ گزشتہ سال پر تشدد کارروائیوں کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور دہشت گرد حملوں سے پچاس فی صد ہلاکتیں کم ہوئیں۔ 2006ء کے بعد 2015ء پاکستان میں سب سے محفوظ سال تھا۔ سیکورٹی خدشات میں کمی سے معیشت بھی بہتر ہوئی۔ ستمبر میں کراچی میں جگہ جگہ لگے بل بورڈز پر کراچی کو بچانے کیلئے جنرل راحیل شریف کے لئے شکریہ کے الفاظ تحریر تھے۔ اخبار کے مطابق جنرل راحیل شریف کا اعلان دو حوالوں سے پاکستان کے مستقبل کیلئے اہم ہوسکتا ہے۔ ایک عسکریت پسند گروپوں کے خلاف جنگ اور دوسرا افغان حکومت و طالبان کے درمیان امن مذاکرات۔ ان مذاکرات جنرل شریف کا ایک اہم کردار ہے۔ کابل کے ساتھ طالبان کے رسمی مذاکرات کی کوششوں میں جنرل راحیل شریف کو پاکستان کی طرف سے انتہائی اہم خیال کیا جاتا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ جنرل راحیل شریف کے اوباما انتظامیہ کے ساتھ ساتھ افغانستان میں امریکی فوجی کمانڈروں سے بھی اچھے تعلقات ہیں۔ مغربی حکام کے نزدیک جنرل کیانی سمیت ماضی کے فوجی حکمرانوں کے مقابلے میں جنرل راحیل زیادہ ایماندار اور پرعزم پارٹنر کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ راحیل شریف کے اعلان کی ٹائمنگ کچھ امریکی رہنماؤں کو حیران کرے گی۔ ممکنہ طور پر جاری فوجی آپریشن مختصر ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کے آئین کے تحت، فوجی سربراہ تین سال کی معیاد کیلئے مقرر کیا جاتا ہے تاہم اس مدت میں توسیع کی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ ان کے پیشرو جنرل اشفاق پرویز کیانی چھ سال اس عہدے پر رہے۔ راحیل شریف کے اعلان سے ملک کے مستقبل کے بارے میں ایک غیر یقینی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے نزدیک جنرل راحیل شریف کو بجا طور پر اس حقیقت کا ادراک تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ فرنٹ سے لڑے جانے کی ضرورت ہے۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک راحیل شریف کا توسیع نہ لینے کا فیصلہ ظاہر کرتا کہ وہ اداروں کو افراد کے مقابلے میں بڑا سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک ریاست، ادارے کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے۔

Sunny

30°C

اسلام آباد

Sunny
Humidity: 63%
Wind: NW at 11.27 km/h
Saturday 25°C / 30°C Thunderstorms
Sunday 23°C / 29°C Thunderstorms
Monday 22°C / 28°C Thunderstorms
Tuesday 23°C / 28°C Thunderstorms
Wednesday 23°C / 28°C Thunderstorms
Thursday 22°C / 26°C Thunderstorms
Friday 21°C / 26°C Thunderstorms

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ