ہیڈلائنز


القاعدہ اور اسکے نیٹ ورک کے خاتمے میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے، امریکی صدر

Written by | روزنامہ بشارت

واشنگٹن: امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب نے انتہا پسندوں کی منصوبہ بندی اور ان کی عمل کی صلاحیت کو کم کردیا ہے جب کہ القاعدہ اور اس کے نیٹ ورک کے خاتمے میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔
وزیراعظم نوازشریف اور امریکی صدر براک اوباما کے درمیان وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات ہوئی، دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کا وقت ڈیڑھ گھنٹے مقرر تھا تاہم ملاقات 2 گھنٹے تک جاری رہی، اس اہم ملاقات میں وزیراعظم نوازشریف کے ہمراہ وفاقی وزرا چوہدری نثار، خواجہ آصف، اسحاق ڈار اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی تھے۔ وزیراعظم نوازشریف اور براک اوباما کی ملاقات میں امریکی صدر نے کہا کہ وہ پاکستانی وزیراعظم کو وائٹ ہاؤس میں خوش آمدید کہتے ہیں اور دورہ امریکا پر ان کےمشکور ہیں جب کہ وزیراعظم نوازشریف نے بھی مہمان نوازی پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم نوازشریف اور امریکی صدر کی ملاقات کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں وسیع تر امور پر بات چیت کی گئی، دونوں رہنماؤں نے اعتماد سازی کے لیے اقدامات کی حمایت کی جب کہ اس دوران پاک امریکا پائیدار شراکت داری کے عزم اور خطے کے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور امریکا نے دو طرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے اور عوامی سطح پر تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے جب کہ وزیراعظم نوازشریف اور صدر اوباما نے پائیدار شراکت داری کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور امریکا نے دفاعی شعبے میں مزید تعاون اور تربیت بڑھانے، توانائی کے شعبے میں نجی شعبے کی سرماریہ کاری، مقامی و عالمی سرمایہ کاری میں تعاون، بیماریوں کی روک تھام اور صحت کے منصوبوں کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور کشمیر سمیت تمام تنازعات پر مذاکرات شروع کرنے اور دونوں ممالک کے بہتر تعلقات کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا جب کہ اس دوران ایشیا میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہےکہ وزیراعظم نوازشریف اور امریکی صدر براک اوباما نے دہشت گردی، انتہا پسند گروپوں کے خلاف تعاون جاری رکھنے پر تبادلہ خیال کیا جب کہ صدر اوباما نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کیا، صدر اوباما نے پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو بھی تسلیم کیا جب کہ آپریشن ضرب عضب میں پاک فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
اعلامیے کے مطابق صدر اوباما نے القاعدہ اور اس سے وابستہ گروپ کو شکست دینے میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور انسداد دہشت گردی میں اہم اتحادی ہونے کا پاکستان کے کردار کا اعادہ کیا، امریکی صدر نے پاکستان کے نیشنل ایکشن پلان کے تحت اقدامات کو بھی نوٹ کیا، دونوں رہنماؤں نے خطے سے انتہا پسندی ختم کرنے اور قیام امن کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا، امریکی صدر نے افغان حکومت کے زیر قیادت طالبان سے مذاکرات کی حمایت کا اعلان کیا جب کہ براک اوباما نے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے متعلق اپنی عالمی ذمہ داریاں نبھانے کا اعادہ کیا۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ باہمی شراکت داری علاقائی امن کے لیے اہم ہے، خطے میں امن و خوشحالی کے لیے پاکستان سے تعاون کریں گے جب کہ پاکستان کے ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، تجارت، سرمایہ کاری اور تعلیم کے فروغ میں بھی تعاون بڑھایا جائے گا۔ صدر اوباما نے کہا کہ جمہوریت کے لیے دو طرفہ عزم و شراکت داری کا بنیادی ستون ہے اور نوازشریف کی قیادت میں جمہوریت مضبوط ہورہی ہے۔
امریکی صدرنے کہا کہ پاک امریکا تعلقات صرف سیکیورٹی پر محدود نہیں، پاکستان کے ساتھ بہت مضبوط اور وسیع البنیادی تعلقات ہیں جسے مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد مقیم ہے جو بہت متحرک ہے جب کہ پاکستانی امریکا کی تعمیرو ترقی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ براک اوباما کا کہنا تھا کہ آپریشن ضرب عضب نے انتہا پسندوں کی منصوبہ بندی اور ان کی عمل کی صلاحیت کو کم کردیا ہے، القاعدہ اور اس کے نیٹ ورک کے خاتمے میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے اپنا مزید اثرو رسوخ استعمال کرے۔
اس موقع پر وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پاک امریکا تعلقات 70 سال پر محیط ہیں جنہیں اور مضبوط بنایا جائے گا اور امریکا کے ساتھ تمام شعبوں میں فروغ اور تعاون چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں حقانی گروپ سمیت سب کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، پاکستان اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا تاہم خطے کے دیگر تمام ممالک کے لیے بھی اس پر عمل پیرا ہونا لازمی ہے۔

Clear

10°C

اسلام آباد

Clear
Humidity: 61%
Wind: NNW at 11.27 km/h
Wednesday 11°C / 18°C Sunny
Thursday 10°C / 18°C Partly cloudy
Friday 10°C / 20°C Mostly sunny
Saturday 12°C / 21°C Sunny
Sunday 14°C / 21°C Mostly sunny
Monday 12°C / 18°C Partly cloudy
Tuesday 12°C / 16°C Sunny

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ