اسلام آباد……..چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا فیصلہ126 دن کے دھرنے کی بدولت ممکن ہوا ہے،یہ ٹربیونل کا کام نہیں کہ سعد رفیق کا نام لے، دوبارہ انتخابات کا حکم دینا ہی کافی ہے، دھاندلی کے ذمے داروں کا تعین جوڈیشل کمیشن کرے گا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےچیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا مزید کہنا ہے کہ سعد رفیق کہتے ہیں، ان کا کوئی قصور ہی نہیں ہے، وہ کب تک عوام کو بے وقوف بنائیں گے، صرف چار حلقے کھولنے کی بات کی تھی، ایک سال تک انصاف نہ ملا تو سڑکوں پر آئے تھے،جہانگیر ترین کے حلقے کا فیصلہ بھی جلد ہی آنےوالا ہے، یہ ٹربیونل کا کام نہیں کہ سعد رفیق کا نام لے، دوبارہ انتخابات کا حکم دینا ہی کافی ہے، دھاندلی کے ذمے داروں کا تعین جوڈیشل کمیشن کرے گا۔ عمران خان نے کہا کہ اگر 126 دن کا دھرنا نہ دیتے تو حکومت 5سال اور کھینچ لیتی، دھاندلی کے ثبوت ملے ہیں تب ہی تو نئے الیکشن کا حکم دیا گیا ہے، آج بہت خوشی ہوئی ہے،پاکستان کی جمہوریت کے مستقبل کے لیے شفاف الیکشن ضروری ہے، حلقہ این اے 125 کے لوگ دھاندلی کے خلاف خود نکلے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف 4حلقے کھولنےکا مطالبہ کیاتھا، 4 میں سے 3 حلقوں میں جیت چکا تھا،مجھے پاور چاہیے ہوتی تو 4حلقوں کی تحقیقات کا نہ کہتا، آج کا نتیجہ آنے میں 2سال لگے،صرف چار حلقے کھولنے کی بات کی تھی، ایک سال تک انصاف نہ ملا تو سڑکوں پر آئے تھے۔عمران خان نے الزام عائد کیا کہ نادرا نے حکومتی دباؤ پرفارنزک رزلٹ روک رکھا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نادراایک ہفتے میں فارنزک رزلٹ سامنے لائے ۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جمہوریت کے مستقبل کے لیے شفاف الیکشن ضروری ہے، جہانگیر ترین کو نتیجے کے لیے 2کروڑ روپے خرچ کرنے پڑے،جوڈیشل کمیشن طےکرےگی کہ کس نےانتخاب میں دھاندلی کی،نادرا نے حکومتی دباؤ پراین اے 122 کافارنزک رزلٹ روک رکھا ہے،بیگ کسی تیز دھار آلے سے کھولے گئے تھے، نادرا نے حکومتی دباؤ پراین اے 122 کافارنزک رزلٹ روک رکھا ہے،ٹریبونل کے جج کا کام یہ بتانا ہے کہ الیکشن شفاف ہوئے یا نہیں، این اے 125 کی نادرا رپورٹ کے مطابق ہر ووٹر نے اوسطاً 6 بار ووٹ ڈالا، جوڈیشل کمیشن میں آر اوز اورپی اوز کو بلوا کر پوچھا جائے کس کے کہنے پر دھاندلی کی،لوکل الیکشن اور چیز اور جنرل الیکشن اور چیز ہوتی ہے،لوکل الیکشن میں پارٹی کی اہمیت کم ہوتی ہے،دھاندلی نہیں کی تو حکم امتناعی کیوں لیاجا رہا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ انشاء اللہ 2015ءالیکشن کا سال ہے، مسلم لیگ (ن) نے سوائے جنگلا بس بنانے کے اور کیا کیا؟وزیر اعظم کے بھی ’’اسٹرینجر ان دا ہاؤس‘‘ ہونے کی امید ہے،کنٹونمنٹ الیکشن کا جنرل الیکشن سے موازنہ نا کیا جائے،جب تک آراوز کوبلاکر احتساب نہیں ہوتا، ضمنی انتخابات نہ کرائے جائیں۔