اسلام آباد ……. پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور قومی اسمبلی اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہےکہ یمن کے معاملے پر پارلیمنٹ کا موقف اور سوچ سامنے آنی چاہیے، حکومت نے یمن کے معاملے پر ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا، وزیراعظم کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں نہ ہونا افسوسناک ہے ،وہ ایوان میں تشریف لاکر بحث کا آغاز کریںاور بتائیں کہ انہوں نے کیا فیصلہ کیا ہے۔پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو اور اجلاس سے خطاب میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پیپلزپارٹی نےپوری کوشش کی تھی کہ تحریک انصاف کےاستعفے منظورنہ ہوں، استعفےمنظور ہوجاتے تو آج ملک کا منظر الگ ہوتا جس سے ملک اورجمہوریت کابہت نقصان ہوتا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت سےکہوں گا کہ اپنےارکان کو پارٹی پالیسی کے تحت کنٹرول میں رکھیں،سرکاری ارکان کا رویہ باعث افسوس ہے،جو کچھ کیا جا رہا ہے، یہ روایت اچھی نہیں۔قائدحزب اختلاف بولےیا قائد ایوان،کسی رکن کاازخودبولنےکاطریقہ مناسب نہیں،تحریک انصاف کی واپسی سے جمہوریت کی فتح ہوئی جس کا سہرا اپوزیش کو جاتا ہے، لڑائی کو لڑائی سے نہیں بات چیت سے ختم کیا جاتا ہے، تحریک انصاف کے ارکان آئے تو خوش آیند بات ہے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ یہ فورم عوام کی نمایندہ ہے، یہاں سے آپ اپنے عوام کی خدمت کرسکتے ہیں۔اس موقع پر انہوں نے کہاکہ ہمیں وزیراعظم کی مصروفیات کا احساس ہے اس لئے گزارش کرتے ہیں وزیراعظم نواز شریف کو ساڑھے 3بجے یا اس کے بعد بلالیں۔