ہیڈلائنز


سینٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے اہم فیصلے

Written by | روزنامہ بشارت

اسلام آباد: آئندہ ماہ ہونے والے سینٹ کے انتخابات کیلئے ملک میں سیاسی جوڑ توڑ اور ہارس ٹریڈنگ کی بازگشت کے نتیجے میں پیر کو اہم پیشرفت ہوئی۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے آئندہ سینٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ یا پیسہ کے استعمال کے خاتمہ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ سینٹ الیکشن کے بارے میں مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اعتراضات کیے جا رہے تھے۔ تاہم سب سے پہلے اس معاملے پر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سوال اٹھایا اور سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمہ کیلئے صاف و شفاف الیکشن کیلئے اقدامات کی آواز اٹھائی۔ اس کے بعد جماعت اسلامی اور دوسری جماعتوں کی طرف سے بھی یہی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں۔

اس میں کوئی شک نہیں صاف و شفاف سینٹ انتخابات کے حوالے سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا موقف اصولی تھا لیکن سینٹ الیکشن میں خفیہ رائے شماری سے ان کی پارٹی کو ڈانٹ پڑنے کا بھی خطرہ تھا جسے انہوں نے قبل از وقت محسوس کر لیا تھا اور اسی خطرہ کو محسوس کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سینٹ الیکشن کے بارے میں اپنے پارٹی اراکین کے حوالے سے بھی بیانات دیتے رہے ہیں اور دو ٹوک الفاظ میں واضح بھی کیا کہ اگر ان کی پارٹی کے ممبران ہارس ٹریڈنگ میں ملوث پائے گئے تو انہیں پارٹی میں نہیں رہنے دیا جائے گا اور نہ ہی انہیں آئندہ کبھی پارٹی ٹکٹ دیا جائے گا۔

اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کا موقف بھی یہی رہا ہے کہ سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ نہ ہونے دی جائے۔ اگرچہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سینٹ الیکشن کے ٹکٹوں کی تقسیم پر مسلم لیگ (ن) کو بھی یہ خطرہ تھا کہ کہیں ان کے ناراض اراکین بھی ہارس ٹریڈنگ میں ملوث نہ ہو جائیں کیونکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مسلم لیگ(ن) کو اراکین کے ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہونے کا خطرہ ہے مگر یہ بات بھی درست ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف سینٹ الیکشن کیلئے پارٹی ٹکٹوں کے اجراء سے پہلے بھی اس بات کے خواہاں تھے کہ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کی حوصلہ شکنی ہو اس کا اظہار انہوں نے اپنے دورہ بلوچستان میں بھی کیا۔

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ انقلابی اقدام ہے۔ تاہم وفاقی کابینہ نے سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے آئینی ترمیم کا فیصلہ کرکے بہت سی سیاسی جماعتوں کو بھی امتحان میں ڈال دیا ہے اور اب جماعتوں کیلئے بہت مشکل ہو جائیگا جو بہت زور و شور سے شفافیت کا نعرہ لگاتی ہیں، ان کے لئے امتحان کی گھڑی آن کھڑی ہوئی ہے۔

سینٹ الیکشن میں شفافیت و ہارس ٹریڈنگ کے خاتمہ کیلئے آئینی ترمیم کی تجویز وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے دی ہے اس بارے سب سے زیادہ کام بھی خواجہ سعد رفیق اور سردار مہتاب عباسی نے کیا ہے۔ انہی کی تجویز پر کابینہ کے اجلاس میں نہ صرف آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ کیا گیا بلکہ اس پر کمیٹیاں بھی قائم کر دی گئیں اور ان کمیٹیوں نے بلا تاخیر اسی روز مشاورت کا عمل بھی شروع کر دیا جبکہ آئینی کمیٹی نے تو مجوزہ ترمیم کیلئے مسودہ تیار کرکے حکومت کے حوالے بھی کر دیا ہے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس بھی طلب کر لئے گئے ہیں، توقع ہے کہ سینٹ الیکشن میں پیسے کا کھیل ختم کرنے اور ہارس ٹریڈنگ کی لعنت کے خاتمے کیلئے چار مارچ سے پہلے ہی آئینی ترمیم پارلیمنٹ سے منظور ہو جائے گی کیونکہ تحریک انصاف ہو یا جماعت اسلامی ہو وہ بظاہر اس کے حق میں ہیں اور ایم کیو ایم نے وفاقی کابینہ کے اس فیصلے سے اصولی طور پر اتفاق کیا ہے اور اس کی حمایت کی ہے۔ اس معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کا بھی امتحان ہوگا کہ وہ آئیں بائیں شائیں کرتے ہیں یا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے اصل آئین کی بحالی کیلئے ترمیم کی کھل کر حمایت کرتے ہیں، غالب امکان یہی ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے بانی قائد کے آئین کی بحالی کے حصہ دار بنیں گے۔

آئینی کمیٹی نے آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کرکے حکومت کے حوالے بھی کر دیا ہے جس میں سینٹ انتخابات میں بھی ارکان کی ڈویژن کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور ہارس ٹریڈنگ کے خاتمہ کے لئے خفیہ رائے شماری کی بجائے ارکان کی ڈویژن بنانے کی تجویز دی گئی ہے جو ارکان جس امیدوار کو ووٹ دینا چاہیں گے وہ اسکے نام کے ساتھ لابی میں جائیں گے۔ آئین کے آرٹیکل 226 میں وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کے انتخاب کے طریقہ کار کے ساتھ سینٹ کا لفظ بھی شامل کر لیا جائے گا جس کے تحت اوپن رائے شماری ہو گی۔

یہ تحریک انصاف کیلئے بھی ایک اور موقع ہے کہ وہ اپنے تمام اراکین کے ساتھ پارلیمنٹ میں آئیں اور اس آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیں یہ آئینی ترمیم تحریک انصاف کیلئے پارلیمنٹ میں واپسی کا باعزت و باوقار راستہ بھی ہے کیونکہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی جب مذکورہ آئینی تجویز دی گئی تھی تو اس وقت وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت کچھ اراکین کا موقف تھا کہ سینٹ الیکشن کے لئے دن بہت کم رہ گئے ہیں اور اتنے مختصر عرصہ میں آئینی ترمیم منظور کروانا مشکل ہو گا مگر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عزم پُختہ اور نیت صاف ہو تو کوئی کام مشکل نہیں ہوتا۔ مختلف کارنرز سے سینٹ الیکشن کی شفافیت پر آوازیں اُٹھ رہی ہیں تو ہمیں پہل کرتے ہوئے بارش کا پہلا قطرہ بننا ہے اور یہی ان کی جماعت کا منشور ہے۔

Sunny

15°C

اسلام آباد

Sunny
Humidity: 38%
Wind: NW at 22.53 km/h
Sunday 8°C / 16°C Partly cloudy
Monday 10°C / 19°C Partly cloudy
Tuesday 11°C / 19°C Partly cloudy
Wednesday 12°C / 19°C Sunny
Thursday 11°C / 18°C Sunny
Friday 10°C / 17°C Sunny
Saturday 10°C / 17°C Mostly cloudy

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ