ہیڈلائنز


احتساب بیورو نے نواز شریف کے ایف زیڈ ای کمپنی سے تنخواہ لینے کے ثبوت جمع کر لیے

Written by | روزنامہ بشارت

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو نے ایک رپورٹ تیار کر کے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش کی جائے گی۔ 6 تنخواہوں کیلئے جاری کر دہ چیکوں کی تفصیلات بھی شامل کی جارہی ہیں۔ذرائع نے
”بتایا کہ قومی احتساب بیورو نے سپریم کورٹ کی جانب سے جس اقامے اور تنخواہ پر میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا اس کے بارے میں تفصیلات جمع کر لی ہیں۔ان تفصیلات کو حتمی شکل دے کر اس پر اگلے ہفتے تک رپورٹ تیار کیے جانے کا امکان ہے جو بعدازاں عدالت میں پیش کی جائے گی۔ جمع کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ میاں نواز شریف کا اقامہ نمبر 06/201/71042311 ہے۔ میاں نواز شریف کو ایف ذیڈ ای کمپنی سے تنخواہوں کی ادائیگی اور دیگر معاملات کو ڈیل کرنے والی لاءفرم خلیفہ بن ہویڈن ایڈووکیٹ کے بیانات حلفی بھی حاصل کیے گئے ہیں جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ میاں نواز شریف بطور ایف زیڈ ای چیئرمین 2014 تک 10 ہزار درہم تنخواہ وصول کرتے رہے۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی تذکرہ کیا جا رہا ہے کہ میاں نواز شریف نے 6 تنخواہیں وصول کیںانہوں نے فروری 2013 ءتنخواہ 6 مارچ 2013 ءکو مارچ کی تنخواہ 10 اپریل، اپریل 2013 ءکی تنخواہ 7 مئی 2013 ءکو وصول کی۔ جبکہ مئی کی تنخواہ 11 جون ، جون کی تنخواہ یکم جولائی اور جولائی کی تنخواہ 11 اگست 2013 ءکو وصول کی۔ تنخواہ کی وصولی کے حوالے سے نمبر بھی دیے گئے ہیں ۔ رپورٹ میں اس بارے میں بھی بتایا گیا ہے کہ میاں نواز شریف کمپنی کے 18 جون 2006 ءتک مارکیٹنگ مینجر رہے اور بعدازاں ان کو 4 فروری 2007 ءکو چیئرمین کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ جس کا سرٹیفکیٹ نمبر دیا گیا ہے ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ نواز شریف اس منصب پر سات سال آٹھ ماہ تک فائز رہے۔ دستاویز جبل علی فری زون اتھارٹی نے جاری کی تھی۔ نواز شریف اس منصب پر سات اگست دو ہزار چھ سے بیس اپریل دو ہزار چودہ تک فائز رہے ۔ اس کے علاوہ میاں نواز شریف کی رہائش ، ٹرانسپورٹ اور کھانا بھی کمپنی کے ذمہ تھا۔ دستاویز پر شہاب سلطان نامی سینئر نائب صدر نے دستخط کئے ہیں۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے والیم 9 میں یہ دستاویز بھی شامل ہے۔ رپورٹ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں عدالت نے کہا تھا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تنخواہ اگر وصول نہ بھی کی جائے تو قابل وصول ضرور رہتی اور قانوناً اور عملاً ایک اثاثہ بنتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس صورت میں کاغذات نامزدگی میں اس تنخواہ کا ذکر کیا جانا ضروری تھا۔ رپورٹ میں الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ نواز شریف نے عام انتخابات 2013 ءکے کاغذات نامزدگی میں یو اے ای اقامہ ظاہر کیا ہوا ہے، کاغذات نامزدگی کے صفحہ نمبر 87 پر وزیراعظم نے اقامہ ظاہر کیا جس میں وزیراعظم نے خود کو ایف زیڈ ای کیپٹل کا چیئرمین آف دی بورڈ بھی ظاہر کیا ۔ وزیراعظم کی جانب سے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی میں اقامہ اور ایف زیڈ ای کی چیئرمین شپ سفری ریکارڈ میں ظاہر کیا گیا جبکہ کاغذات نامزدگی پر سجاد احمد ریٹرننگ آفیسر این اے 120 کے دستخط بھی موجود ہیں۔ کاغذات نامزدگی کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے 18 جنوری 2008 ءکو جاری کردہ پاسپورٹ پر اقامہ ظاہر کیا، وزیراعظم کو اقامہ 5جون 2012 ءکو جاری کیا گیا جس کے ختم ہونے کی مدت 4 جون 2015 ءتھی۔ اقامے کے مطابق وزیراعظم کمپنی کے بورڈ چیئرمین ہیں اور اس اقامے پر وزیراعظم نے کئی بار یو اے ای کا سفر کیا، ان دستاویزات پر این اے 120 کے ریٹرننگ افسر کی تصدیق کی مہر بھی ثبت ہے۔ حسن نواز کیپٹل ایف زیڈ ای کے مالک تھے جبکہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کیپٹل ایف زیڈ ای سے تنخواہ لے رہے تھے۔ حسین نواز کی طرف سے نواز شریف کو کروڑوں روپے کی رقم بھجوائی جاتی رہی ہے اور بڑی رقوم کی قرض اور تحفے کی شکل میں بھاری رقوم کی بے قاعدگی سے ترسیل کی گئی

Sunny

11°C

اسلام آباد

Sunny
Humidity: 60%
Wind: NW at 11.27 km/h
Monday 12°C / 20°C Partly cloudy
Tuesday 12°C / 21°C Mostly cloudy
Wednesday 13°C / 19°C Partly cloudy
Thursday 12°C / 19°C Partly cloudy
Friday 12°C / 18°C Cloudy
Saturday 11°C / 13°C Scattered showers
Sunday 11°C / 16°C Mostly cloudy

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ