ہیڈلائنز


آج یہ قوم جن اسلاف کو بھول چکی ہے ان میں اقبالؒ کا نام سرفہرست ہے

Written by | روزنامہ بشارت

آپ بین الملی اخوت کے داعی تھے اور تمام اسلامی ریاستوں کے مابین ایک نہ ٹوٹنے والا رشتہ قائم کرنا چاہتے تھے۔ آپ چاہتے تھے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو یکجا کیا جائے۔ آپ جمال الدین افغانی کو مجدد سمجھتے تھے۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کےلیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

 

قومیں اوطان سے بنتی ہیں یا مذہب سے؟ آپ کا واضح جواب مذہب تھا کہ قوم مذہب سے بنتی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

انکی جمیعت کا ہے ملک و نسب پہ انحصار
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تیری

قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں محفلِ انجم بھی نہیں

 

آپ امت میں تفرقہ بازی کو کسی صورت برداشت نہ کرتے تھے اور آپ کو مسلمانوں میں فرقہ بندی کا شدید احساس تھا۔ چنانچہ آپ نے زندگی ساری اتفاق و اتحاد کا سبق دیا۔ آپ خود بھی فرقہ بندی سے پاک تھے، اپنا تعلق کبھی کسی ایک فرقے یا مسلک سے نہیں جوڑا اور قوم کو بھی اس مرض سے پاک کرنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی مشہور نظم ’’جوابِ شکوہ‘‘ میں فرماتے ہیں:

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

آپ اجتہاد کو آج بھی جائز سمجھتے تھے اور آپ کے نزدیک آج بھی اجتہاد کے ذریعے امت مسلمہ کے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔

 

اس میں شبہ نہیں کہ اقبالؒ نے شروع میں روایتی اشعار بھی کہے اور قومی و ملی موضوعات کو بھی شاعری کا رنگ دیا لیکن یہ دور انتہائی مختصر تھا اور جلد ہی اقبالؒ نے اپنی شاعری کو ایک نیا موڑ دیا۔ انہوں نے شاعری میں نہ صرف یہ کہ جداگانہ انداز بیان اپنایا بلکہ شاعری کے موضوعات کو وہ عالمگیر وسعت دی جس کا تصور دوسرے شعراء کے ہاں اول تو ملتا ہی نہیں، اور اگر ملتا بھی ہے تو انتہائی محدود ہے۔ یہ اقبالؒ ہی کا کمال ہے کہ انہوں نے انسان مذہب، سیاست، معاشرت، اقتصادیات، تہذیب، تمدن، تاریخ، فلسفہ، حکمت کو شاعری کا موضوع بنایا۔

 

آپ جوانوں کو قوم و ملت کا ایک عظیم سرمایہ تصور کرتے تھے۔ آپ نے اپنی شاعری میں اکثر جوانوں ہی کو مخاطب کیا۔ آپ نے انسان کی انفرادی زندگی کو بھی اپنا موضوع بنایا اور خودی کا درس دیا:

شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پُر دم ہے اگر تُو تو نہیں خطرہٴ افتاد!

 

آپ نے جہاں افراد کی انفرادی زندگی کو اپنا موضوع بنایا وہیں آپ نے قوم کی اجتماعی زندگی کو بھی موضوع سخن بنایا ہے۔ فرماتے ہیں:

میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیرِ اُمم کیا ہے
شمشیر و سناں اول، طاؤس و رُباب آخر

اور

وہ قوم نہیں لائق ہنگامہٴ فردا
جس قوم کی تقدیر میں امروز نہیں ہے

تدبرِ قرآن اور عشقِ مصطفیٰ (ﷺ)

علامہ کو قرآنِ پاک سے خاص عشق تھا اور آپ قرآن پاک سے ہی رہنمائی لیتے تھے۔ آپ نے قرآن پاک کا پورے غور و فکر کے ساتھ مطالعہ کیا تھا، آپ خود فرماتے ہیں کہ میں نے 15 سال تک قرآن پاک میں غور کیا اور بعض آیات اور سورتوں پر ایک ایک سال تک غور کیا۔ آپ کو اس بات کا شدید احساس تھا کہ مسلمانوں کا قرآن حکیم کے ساتھ رابطہ ٹوٹ رہا تھا چنانچہ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو قرآن حکیم کے ساتھ پھر سے رابطہ استوار کرنے کی تلقین کی:

 

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قران ہو کر

علامہ کو قرآنِ پاک سے خاص عشق تھا اور آپ قرآن پاک سے ہی رہنمائی لیتے تھے۔ آپ نے قرآن پاک کا پورے غور و فکر کے ساتھ مطالعہ کیا تھا، آپ خود فرماتے ہیں کہ میں نے 15 سال تک قرآن پاک میں غور کیا اور بعض آیات اور سورتوں پر ایک ایک سال تک غور کیا۔ آپ کو اس بات کا شدید احساس تھا کہ مسلمانوں کا قرآن حکیم کے ساتھ رابطہ ٹوٹ رہا تھا چنانچہ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو قرآن حکیم کے ساتھ پھر سے رابطہ استوار کرنے کی تلقین کی:

 

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قران ہو کر

اور

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے عطا تجھ کو جدت کردار

آپ کو نبی محمدﷺ کی ذات مقدس سے بھی خاص عشق تھا۔ جب کبھی نبی پاکﷺ کا نام لیتے یا نام سنتے تو آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگتے۔ آپ کے بیٹے ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم فرماتے ہیں کہ آپ اپنی زوجہ کی وفات پر تو نہ روئے تھے لیکن جب کبھی نبی پاکﷺ کا نام آتا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔ آپ خوش الحان قاری سے قرآن سنتے اور کبھی اپنے اشعار بھی سنتے تو آپ کی آنکھیں بھر جاتیں۔

کی محمد(ﷺ) سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

آپ کو اولیاء اللہ سے بھی خاص لگاؤ اور عشق تھا۔ آپ نے اپنے دورہ عرب میں جہاں اہم ملاقاتیں کیں اور تاریخی مقامات کا دورہ کیا وہیں اولیاء اور اسلاف کی قبور کی بھی زیارت کی۔ یہ شرف عظیم بھی اسی مردِ قلندر کو حاصل ہے کہ قرطبہ کی صدیوں سے بند اور ویران مسجد کو اپنی اذان سے آباد کیا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اقبال کے افکار و تعلیمات کو عام کیا جائے اور بالخصوص نوجوان نسل کو اقبال سے متعارف کرایا جائے جو اقبال کی شاعری کے براہِ راست مخاطب ہیں اور قومی سطح پر بھی مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے اقبال کی تعلیمات و افکار کو عام کیا جائے۔

 

خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کردے

 

Mostly cloudy

10°C

اسلام آباد

Mostly cloudy
Humidity: 54%
Wind: NW at 11.27 km/h
Friday 11°C / 19°C Partly cloudy
Saturday 11°C / 21°C Mostly sunny
Sunday 13°C / 20°C Partly cloudy
Monday 12°C / 18°C Sunny
Tuesday 11°C / 19°C Sunny
Wednesday 11°C / 17°C Sunny
Thursday 10°C / 18°C Sunny

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ