ہیڈلائنز


این اے 120 کا الیکشن ڈاکو راج اور انصاف کا پاکستان کے درمیان ہے

Written by | روزنامہ بشارت

اسلام آباد : چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ این اے 120 کا الیکشن ڈاکو راج اور انصاف کا پاکستان کے درمیان ہے جہاں ایک طرف سپریم کورٹ سے مجرم قرار دیا گیا شخص ہے تو دوسری طرف ملک کا روشن مستقبل ہے اب لوگوں کو سوچنا ہے کہ وہ کس کو منتخب کرتے ہیں.
عمران خان قومی اسمبلی کے حلقہ 120 کے ضمنی الیکشن کے انتخابی مہم کے لیے پریس کانفرنس کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ این اے 120 کا انتخاب بہت واضح ہے کہ ایک طرف مجرم اور دوسری طرف انصاف ہے.
انہوں نے کہا کہ اگر چوروں کا مقابلہ کریں گے تو بچوں کا مستقبل روشن ہو گا، ان لوگوں کی اربوں روپے کی پراپرٹی ملک سے باہر پڑی ہے اور ہماری خواتین تک کو انتخابی مہم چلانے نہیں دیا جا رہا ہے یہ ظلم کی انتہا ہے اب قوم کرپٹ حکمرانوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں.
عمران خان کا کہنا تھا کہ این اے 120 کا الیکشن ٹیسٹ کیس ہے قانون کی بالادستی ہو گی یا ڈاکو راج چلے گا اس حلقے کے لوگوں کو اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے باہر نکلنا ہوگا اور تحریک انصاف کی امیدوار یاسمین راشد کو ووٹ کاسٹ کرنا ہوگا.
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل شریف خاندان کو مکمل صفائی کا جتنا موقع ملا ہے اتنا شاید ہی کسی اور کو ملا ہو لیکن پھر بھی یہ مظلوم بن کر پوچھ رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا، مجھے کیوں نکالا؟
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ این اے 120 میں ہماری امیدوار یاسمین راشد کا مقابلہ مسلم لیگ (ن) سے نہیں بلکہ پوری ریاست سے ہے جہاں ریاست کے وسائل کا بے دریغ استعمال جاری ہے اور انتخابی مہم میں مسلم لیگ (ن) عوام کو دھوکہ دے رہی ہے.
عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکتا ہے، ملک کو قرضوں سے نجات مل سکتی ہے اس کے لیے یاسمین راشد جیسی صاف شفاف قیادت کو آگے لانے کی ضرورت ہے.
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مریم نواز نے این اے 120 الیکشن سے متعلق میٹنگ بلائی ہے جہاں سرکاری وسائل کو استعمال کرنے اور دھاندلی کے طریقوں کو دہرانے کی حکمت عملی طے کی جائے گی.
عمران خان نے کہا کہ این اے 120 میں ن لیگی غنڈوں نے کارکنان کو مہم سے روکا اور خواتین کارکنان کے ساتھ بد تمیزی کی اور یہ غنڈے این اے120 میں لوگوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں اس غنڈہ گردی کو روکنا آئی جی پنجاب کی ذمہ داری ہے.
انہوں نے کہا کہ آئی جی پنجاب شریف خاندان کے تنخواہ دار نہیں بلکہ سرکاری ملازم ہیں اور مان و امان کی بحالی ان کی اولین ذمہ داری ہے اگر آئی جی پنجاب نے امن قائم نہ کیا توان کے خلاف عدالت جائیں گے.
عمران خان نے کہا کہ میں کوئی عوامی یا انتظامی عہدہ نہیں رکھتا بلکہ اپنی جماعت کا چیئرمین ہوں اس لیے الیکشن کمیشن سے درخواست ہے کہ مجھے الیکشن مہم کی اجازت دی جائے آخر الیکشن کمیشن نے کس بنا پر قانون بنایا کہ پارٹی چیئرمین کومہم چلانے کی اجازت نہیں ہوگی.
انہوں نے کہا کہ اگر مجھے مہم چلانے کی اجازت نہپیں دی گئی ہے اس کے لیے ہم عدالت بھی گئے ہیں تاہم فی الحال انشاءاللہ این اے 120 سے باہر 8 تاریخ کو میں جلسہ کروں گا اور اس الیکشن میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے اداکروں گا.
انہوں نے کہا کہ اداروں کے مفلوج ہونے کا بار بار کہا گیا، نیب، ایف بی آر، ایس ای سی پی جیسے ادارے کام نہیں کر رہے ہیں اور ملکی اداروں کی مضبوطی تک حقیقی جمہوریت قائم نہیں ہو گی، جمہوریت میں ادارے فیصلے کرتے ہیں اور فرد واحد سے ڈکٹیشن نہیں لیتے.
اس موقع پر عمران خان نے اعتراف کیا کہ خیبر پختونخواہ میں ہمارا احتساب کا نظام ویسا کامیاب نہیں ہوا جیسا میں چاہتا تھا حالانکہ کے پی کے میں احتساب کے ادارے نے سب سے پہلے ہمارا اپنا وزیر پکڑا تھا اور کہیں سے سیاسی انتقام کی آواز بھی نہیں اُٹھی تاہم اس کے باوجود مقررہ اہداف حاصل نہیں کرسکا.

Partly cloudy

11°C

اسلام آباد

Partly cloudy
Humidity: 75%
Wind: N at 11.27 km/h
Saturday 9°C / 18°C Sunny
Sunday 10°C / 18°C Sunny
Monday 10°C / 19°C Sunny
Tuesday 10°C / 18°C Sunny
Wednesday 9°C / 17°C Mostly sunny
Thursday 11°C / 17°C Mostly cloudy
Friday 12°C / 18°C Partly cloudy

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ