ہیڈلائنز


قومی اسمبلی کے سپیکر نے رکن پارلیمان کو اسمبلی سے باہر پھنکوانے کی دھمکی دے ڈالی

Written by | روزنامہ بشارت

پاکستان کی پارلیمنٹ کی تاریخ میں ایسا بہت کم دیکھنے کو ملا ہے کہ ملک کے ایوان زریں یعنی قومی اسمبلی کا سپیکر حکومتی اتحاد میں شامل رکن پارلیمان پر اتنا ناراض ہو کہ وہ انھیں ایوان سے سیکیورٹی اہلکاروں کی مدد سے زبردستی باہر نکالنے کی دھمکی۔

جمعرات کے روز حزب مخالف کی جماعتوں کی جانب سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کو معطل کرکے نہ صرف قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے بارے میں بات ہونی تھی بلکہ بلوچستان کے علاقے چمن میں افغانستان کی افواج کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ کے واقعہ پر مشیر خارجہ نے پالیسی بیان بھی دینا تھا۔

اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی تو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی طرف سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں کا فاٹا ریفارمز پر متفق نہ ہونا حکمرانوں کی بہت بڑی ناکامی ہے۔ حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت کی طرف سے فاٹا ریفارمز کے بل کو قبائلیوں کے ساتھ ایک سنگین مذاق قرار دیا گیا۔

حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے ایف سی آر کے قانون کے بدلے رواج بل لانے پر تحفظات تھے تاہم حزب مخالف کی جماعتیں بظاہر اس بات پر متفق دکھائی دیتی تھیں کہ اس قانون پر ایوان میں بحث کروائی جا سکتی ہے۔

حکومت اور حزب مخالف کی دو بڑی جماعتوں جن میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف شامل تھیں بظاہر وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں اصلاحات لانے پر متفق دکھائی دیتی تھیں لیکن حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا، ان میں جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) اور پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے علاوہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کا ایک دھڑا بھی شامل ہے۔

ابھی حکومتی بینچز پر بیٹھے ہوئے ارکان اسمبلی قائد حزب اختلاف کی تنقید سے سنبھل بھی نا پائے تھے کہ حکومتی اتحاد میں شامل اور بظاہر اپوزیشن بینچز پر بیٹھے ہوئے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی طرف سے یہ بیان داغا گیا کہ اگر فاٹا سے متعلق اصلاحات کا نفاذ کیا گیا تو پھر ایک بین الاقوامی تنازع شروع ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا کیونکہ پاکستان کی آزادی سے پہلے اس علاقے میں ایف سی آر کے قانون کا معاہدہ افغان حکومت اور انگریزوں کے درمیان ہے۔

محمود خان اچکزئی کی طرف سے یہ بیان داغنے کی دیر تھی کہ حکومت سے ہٹ کر حزب مخالف کی جماعتوں اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے ایک دھڑے نے نہ صرف احتجاج کرنا شروع کر دیا بلکہ محمود خان اچکزئی کی پاکستان سے وفاداری پر بھی سوالات اُٹھا دیے۔

ایوان میں شدید شور شرابہ شروع ہوگیا جبکہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بارہا ' آرڈر ان دا ہاؤس' کے الفاظ بولتے رہے لیکن کوئی ان کی آواز پر کان دھرنے کو تیار نہیں تھا۔

فاٹا سے تعلق رکھنے والے حکومت کے حمایتی رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی مائیک کے بغیر ہی اونچی آواز میں بول رہے تھے جس پر قومی اسمبلی کے سپیکر غصے میں سیخ پا ہوگئے اور مذکورہ رکن اسمبلی کو مخالب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ چپ نہ ہوئے تو میں ' اُٹھا کر باہر پھنکوا دوں گا'۔

Sunny

29°C

اسلام آباد

Sunny
Humidity: 31%
Wind: WNW at 11.27 km/h
Thursday 21°C / 29°C Sunny
Friday 21°C / 29°C Sunny
Saturday 21°C / 28°C Sunny
Sunday 20°C / 28°C Mostly sunny
Monday 18°C / 26°C Mostly sunny
Tuesday 18°C / 25°C Sunny
Wednesday 21°C / 27°C Sunny

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ