ہیڈلائنز


اسلام آباد میں مذبح خانہ نہ بن سکا

Written by | روزنامہ بشارت

اسلام آباد: وفاقی دارلحکومت دنیا کا واحد دارالخلافہ ہے جہاں پر کوئی سلا ٹر ہاؤس (مذبح خانہ )موجود نہیں ،وزیراعظم نواز شریف نے سلائٹر ہاوس (مذبح خانہ )کو فوری تعمیر کرنے کے لئے 10کروڑ روپے مختص کئے جبکہ سی ڈی اے کی طرف سے طرف سے ایک سال قبل اس منصوبے کے لئے 50کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے اس سے قبل سلائٹر ہاوس(مذبح خانہ ) H-9/3میں 20ایکڑ کے پلاٹ پر مشتمل تھا میٹرو سروس کی زد میں آنے کے بعد اس کی جگہ سلاٹر ہاؤس (مذبح خانہ ) کے لئے 8ایکڑ کا پلاٹ آئی الیون میں دیا گیا جس کا پی سی ون بھی تیار ہو چکاتھا لیکن ادارے کی بدنیتی کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت کا بڑا اور اہم منصوبہ تا حال پائیہ تکمیل نہ پہنچ سکا۔سلائٹر ہاوس(مذبح خانہ ) نہ ہونے کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت میں لاغر ،بیمار جانوروں کا غیر معیاری گوشت فروخت ہو رہا ہے لوگ گھروں میں جانور ذبح کرتے ہیں ،گھروں میں جانور ذبح کرنے والے کئی مردہ جانوروں کا گوشت بھی فروخت کر دیتے ہیں جس کی روک تھام بہت مشکل ہے گوشت کی قیمتوں کا تناسب بھی سلاٹر ہاؤس کی موجودگی کے بغیر ممکن نہیں حکومت کو چاہئے کہ وہ سبزی،فروٹ، گوشت اور برف جیسی اشیاء جن کی زخیرہ اندوزی ممکن نہیں ان پر سے ٹیکس ختم کرے تو قیمتیں خود بخود کم ہو جائیں گی ان خیالات کا اظہار جمیعت القریش کے صدر خورشید قریشی،سینئر نائب صدرمحمد جاوید قریشی،نائب صدر محمد شکیل عباسی،سیکرٹری اطلاعت محمد اقبال قریشی،جنرل سیکرٹری سردار ظہیر احمد،ایگزیکٹیو ممبر عبدالعزیز قریشی، اور محمد افتخار عباسی نے گفتگو کرتے ہوئے کیا فورم نے متفقہ طور پر کہا کہ سلاٹر ہاؤس(مذبح خانہ ) اسلام آباد کے شہری و دیہی 25لاکھ آبادی پر مشتمل شہریوں کے لئے ایک سنگین مسئلہ ہے انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے مادہ جانوروں کیذبح کرنے پر پابندی لگا رکھی ہے اس سے نہ صرف گوشت کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ گوشت کی ملک بھر میں شدید قلت متوقع ہے اور آئندہ اس پابندی کے سلسلے میں مہنگائی کا طوفان آنے کا خدشہ ہےانہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں دوسرے شہروں کی نسبت گوشت مہنگا ہونے کی اصل وجہ سلاٹر ہاؤس کا نہ ہونا ہے قصائی سلاٹر ہاؤس(مذبح خانہ ) نہ ہونے کی وجہ سے اپنی من پسند سے بیمار اور لاغر جانور خریدتے اور ذبح کر کے فروخت کرتے ہیں حالانکہ سلاٹر ہاؤس (مذبح خانہ )اگر شہر میں موجود ہو تو وہاں ڈاکٹر ہر جانور کو پہلے چیک کرتے ہیں اس کے بعد اس کو ذبح کیا جاتا ہے اور ہر دکان پر لایا جانے والا گوشت تصدیق شدہ مہر سے نسب ہوتا ہے اس طرح شہریوں کو کنٹرول ریٹ میں صاف تازہ اور معیاری گوشت میسر ہوتا ہے جمیعت القریش کے صدر خورشید احمد نے کہا کہ مےئر اسلام آباد نے جب میٹرو پلان میں ہمارے سلائٹر ہاوس کا 20کنال کا پلاٹ قبضے میں لیا تو اس وقت انہوں نے کہا کہ اگر میں چےئرمین ہوتا تو میں فوری طور پر آپ کو سلاٹر ہاؤس کی تعمیر کر کے دیتا کچھ عرصے بعد وہ چےئرمین سی ڈی اے کے اختیارات پر بھی معمور ہو گئے لیکن سال ہونے کو ہے انہوں نے اپنے وعدے کی پاسداری نہیں کی انہوں نے نہ صرف سلاٹر ہاؤس(مذبح خانہ ) کے لئے مختص اربوں روپے کے بجٹ کو خورد برد کیا بلکہ اسلام آباد کے 25لاکھ آبادی کے ساتھ دھوکہ کیا ہے ہم شدید مشکل میں تھے جس وجہ سے ہم نے اسلام آباد کی معزز عدالت ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہےایک سوال کے جواب میں جمیعت القریش کے عہد یداران نے کہا کہ اسلام آباد میں کسی حرام جانور کا گوشت فروخت نہیں ہو رہا جو یہ افوائیں پھیلا رہے ہیں وہ ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں البتہ بیمار اور لاغر جانوروں کا گوشت متعدد بار ہم نے خود پکڑوایا ہے ہم اس حوالے سے کسی کے ساتھ رعائت نہیں برتتے جو غلط کام کرے ہماری تنظیم متفقہ طور پر اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی حامل ہوتی ہے انہوں نے کہا گدھوں اور گھوڑوں کا گوشت اسلام آباد میں فروخت ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا البتہ جہاں یہ جانور مرتے ہیں لوگ ان کی کھالیں اتار لیتے ہیں کیونکہ بیرون ملک میں ان کی کھالیں مہنگے داموں فروخت ہوتی ہیں اس کا قصابوں سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ صرف جمعیت القریش کو بدنام کرنے کی مذموم سازش ہے جمعیت القریش نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ اسلام آباد انتظامیہ کو از خود نوٹس کے ذریعے سلاٹر ہاؤس (مذبح خانہ )کے منصوبے کو مکمل کرنے کی ہدایات جاری کریں انہوں نے مئیر اینڈ چےئرمین سی ڈی اے شیخ عنصر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سلائٹر ہاوس(مذبح خانہ ) کے لئے مختص کروڑوں کے بجٹ کو فوری اس مقصد پر استعمال کرنے اور سلاٹر ہاؤس کی تعمیر کے لئے اقدامات کریں وگرنہ ہم عوامی مدد سے پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے کے سامنے دھرنا دینے پر مجبور ہو جائیں گے ۔جمعیت القریش کے سینئر نائب صدر محمد جاوید نے کہا کہ اسلام آباد کے شہری علاقوں کی نسبت دیہی علاقوں میں ریٹ اس لئے کم ہوتے ہیں کیونکہ شہری علاقوں میں کرائے بہت زیادہ ہیں اور دیہی علاقوں میں کرائے شہری علاقوں کی نسبت 50فیصد کم ہیں علاوہ ازیں پوری دنیاں میں گوشت کی قیمتوں پر استحکام کے لئے کیٹل گوٹ فام ہاوس بنائے جاتے ہیں لیکن بد قسمتی ہے کہ اس ملک میں کسی جگہ لائف سٹاک کیٹل فام ہاوس نہیں یہی وجہ ہے کہ ملک کے بارڈروں سے جانوروں کی کثیر تعداد سمگل ہو جاتی ہے اور جس ملک میں جانوروں کی پیدوار کے انتظامات ہوں اور نہ ہی سمگلنگ کی روک تھام ہو وہاں کیسے مہنگائی روکی جا سکتی ہے البتہ اگر سلاٹر ہاؤس بن جائیں تو گوشت کی قیمتوں میں بتدریج کمی اس لئے آ سکتی ہے کہ سلاٹر ہاؤس(مذبح خانہ ) سے الائشوں کی کثیر تعداد میں فروخت کی جا سکے گی جس وجہ سے گوشت مارکیٹ میں کنٹرول ریٹ فروخت کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت اسلام آباد میں گوشت مارکیٹ کے لئے لائنس جاری کرنے والے چار ادارے سامنے آ چکے ہیں جبکہ پہلے صرف ڈی ایم اے کی طرف سے لائسنس جاری کئے جاتے رہے جو مناسب قیمت 12ہزار پر لائسنس جاری کرتے ہیں اب میٹر پولیٹن، آئی سی ٹی اور مارکیٹ کمیٹی نے اپنے اپنے کاروبار کھول لئے ہیں جو 48ہزار میں ہول سیل کے نام پر لائنس جاری کرتے ہیں حالانکہ اسلام آباد میں کسی جگہ ہول سیل مارکیٹ قائم ہی نہیں جو کہ قصائی خانوں پر شدید ظلم ہے اگر یہی ظلم برقرار رہا تو عوام گوشت دیکھنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے کھانا تو دور کی بات ہے

Mostly clear

26°C

اسلام آباد

Mostly clear
Humidity: 87%
Wind: ESE at 17.70 km/h
Sunday 23°C / 30°C Scattered thunderstorms
Monday 23°C / 28°C Thunderstorms
Tuesday 23°C / 26°C Thunderstorms
Wednesday 22°C / 26°C Thunderstorms
Thursday 22°C / 27°C Thunderstorms
Friday 23°C / 27°C Thunderstorms
Saturday 24°C / 30°C Thunderstorms

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ