ہیڈلائنز


45 سال پرانا ریکارڈ عدالت میں پیش نہیں کر سکتا، وکیل حسین نواز شریف نے انکار کر دیا

Written by | روزنامہ بشارت

اسلام آباد: پاناما کیس کی سماعت کے دوران حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جو ریکارڈ موجود ہے اس پر جواب دوں گا اور 45 سال پرانا ریکارڈ عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ کر رہا ہے جس میں وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ دلائل دے رہے ہیں۔ سماعت کے دوران سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 1999 میں شریف فیملی کا تمام ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا تھا جس کے باعث شریف فیملی کا ریکارڈ غائب ہو گیا، جو ریکارڈ موجود ہے اس پر عدالت میں جواب دوں گا کیونکہ 45 سال پرانا ریکارڈ عدالت میں پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔ سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ شریف فیملی پر عمومی الزامات عائد کئے گئے جبکہ حسین نواز کے انٹرویو کو سیاق و سباق کے مطابق دیکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کیا انکوائری کے بغیر عدالت کسی فیصلے پر پہنچ سکتی ہے، میری رائے کے مطابق انکوائری کے بغیر کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا، وزیراعظم کے خلاف کوئی چارج نہیں اس لئے ان کے بچوں کے خلاف بھی کارروائی ممکن نہیں۔ حسین نواز کے وکیل نے کہا کہ اگر نیب کے قانون کے مطابق اگر وزیراعظم کے بچوں کو ملزم مان بھی لیا جائے تو ان پر بار ثبوت نہیں ہے کیونکہ یہ فوجداری مقدمہ نہیں ہے۔ انہوں نے عدالت کو تجویز پیش کی کہ عدالت معاملے کی تحقیقات کے لئے کیس کو متعلقہ فورمز کو بھیج سکتی ہے، عدالت نے کبھی بھی فوجداری مقدمات کی تحقیقات نہیں کی جبکہ آئین کا آرٹیکل 10 ہر شہری کو شفاف تحقیقات کا حق دیتا ہے جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ پہلے آپ اپنے دلائل مکمل کر لیں پھر سوالات کے جوابات دیں۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت میں میاں  شریف اور الثانی خاندان کے درمیان کاروباری شراکت کا پوچھا گیا ہے، نیسکول اور نیلسن کے شیئرز اور مالی فائدے کے بارے میں پوچھا گیا ہے، اس کے علاوہ ٹرسٹ ڈیڈ پر بھی عدالت نے سوالات اٹھائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیکٹ شیٹ جمع کرائی جس میں الزامات کا مختصر جواب موجود ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ لندن میں 2 بچوں کے لئے 4 فلیٹس کا بندوبست کیوں کیا گیا جس پر سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ 2 نہیں 3 طالبعلم تھے، حمزہ شہباز کے لئے بھی ایک فلیٹ خریدا گیا تھا جس پر انہوں نے کہا کہ آج آپ ایک اور طالبعلم سامنے لے کر آ گئے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یقین سے نہیں کہہ سکتا لیکن میرا خیال ہے حمزہ شہباز بھی لندن میں طالبعلم تھے۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے پوچھا کہ سب باتیں مان لیں لیکن بتائیں کہ حسین نواز کی ملکیتی دستاویزات کہاں ہیں؟، سوال ایک ہی ہے جس کا جواب مچھلی کی طرح پلٹا نہیں جا رہا، کان وہاں سے پکڑیں یا یہاں سے بات وہی ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ حسین نواز کو ساری باتیں بتانے والاکون ہے؟ ہم پہلے دن سے جواب کے منتظر ہیں لیکن آپ ادھر ادھر چھلانگیں لگا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ پاناما کیس کی سماعت 31 جنوری کو جسٹس عظمت سعید شیخ کے دل میں تکلیف کے باعث ملتوی ہو گئی تھی جس کے بعد انہیں دل کی سرجری کے لئے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے انہیں کچھ روز آرام کا مشورہ دیا تھا۔


Read Basharat Online

 

 

PentaBuilders

روزنامہ بشارت ٹویٹر


Follow Daily_Basharat on Twitter
Partly cloudy

34°C

اسلام آباد

Partly cloudy
Humidity: 26%
Wind: WSW at 11.27 km/h
Wednesday 23°C / 33°C Mostly sunny
Thursday 28°C / 36°C Sunny
Friday 28°C / 38°C Sunny
Saturday 26°C / 40°C Sunny
Sunday 27°C / 39°C Mostly sunny
Monday 27°C / 36°C Sunny
Tuesday 25°C / 34°C Mostly sunny

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ