ہیڈلائنز


اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات خواتیں پر تشدد میں اضافے کی بڑی وجہ ہیں،سینٹ کمیٹی

Written by | روزنامہ بشارت

میڈیا پر چلنے والے پروگرامات بھی خواتین پر تشدد میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں پیمرا ایسے ڈراموں پر پابندی عائد کرے،کمیٹی کی ہدایت
کمیٹیکی غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے صغریٰ امام کا بل منظور، اوکاڑا ملٹری فارمز کے مزارعین کیخلاف مقدمات واپس لینے کی سفارش

اسلام آباد: سینٹ فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے خواتین پر تشدد جائز قرار دینے کے حوالے سے سفارشات کو ملک میں خواتین کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی بڑی وجہ قرار دیا ہے ، میڈیا پر چلنے والے پروگرامات بھی خواتین پر تشدد میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں پیمرا ایسے ڈراموں پر پابندی عائد کرے، کمیٹی نے غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے سابق سینیٹر صغریٰ امام کا بل منظور کرنے اور اوکاڑا ملٹری فارمز کے مزارعین کے خلاف مقدمات واپس لینے کی سفارش کی۔ کمیٹی کا اجلاس چیرمین سینیٹر نسرین جلیل کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا اجلاس میں سینیٹر فرحت اللہ بابر سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی سینیٹر محسن لغاری سینیٹر ستارہ آیاز سمیت مختلف اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی کمیٹی کے اجلاس میں ملک بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا گیا

اس موقع پر سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ 1997میں اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی آخری رپورٹ کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل کا جواز آئینی اور قانونی طور پر ختم ہو چکا ہے اور کہا کہ ملک میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور غیرت کے نام پر قتل میں اضافہ اسلامی نظریاتی کونسل کے بیانات کا رد عمل ہے انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے جب بیوی کو خاوند کی طرف سے ہلکی پھلکی سزا اور مار پیٹ کی بات کی جاتی ہے تو تشدد کی فضا بن جاتی ہے خواتین کے خلاف ماحول میں اور بڑھتے ہوئے واقعات میں اضافہ میں اسلامی نظریاتی کونسل کا بھی ہاتھ ہے

انہوں نے کہا کہ میڈیا پر چلنے والے ڈرامے اور فلم کا اختتام بھی غیرت کے نام پر قتل پر ہوتا ہے میڈیا ایسے ڈرامے نہ چلائے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وزارت قانون سے اسلامی نظریاتی کونسل کی موجودہ پوزیشن کے حوالے سے رائے لی جانی چاہئے چیئر پرسن کمیٹی سینیٹر نسرین جلیل نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل اور خواتین کے جلانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اسلامی نظریاتی کونسل کی بعض چیزیں تکلیف دہ ہیں ترقی کی بجائے ہم پیچھے کی طرف جا رہے ہیں انہوں نے کہاکہ خواتین کی بے حرمتی پر پارلیمنٹیرینز کی خاموشی بھی قابل تشویش ہے صرف خواتین کے معاملے میں ہی غیرت کو اجاگر نہ کیا جائے اجلاس میں غیرت کے نام پر قتل پر مجرم کے ساتھ صلح اور معافی پر پابندی کے حوالے سے سابق سینیٹر صغری امام کے بل کو مشترکہ اجلاس میں پاس کرنے کی سفارش کی گئی کمیٹی کے رکن سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ عموماً مجرم بچ جاتے ہیں

قوانین مزید سخت بنائے جائیں ا ور غیر ت کے نام پر قتل کے مقدمات میں حکومت خود مدعی بن جائے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل میں بھائی قتل کرتا ہے والد معاف کرتا ہے معافی پر پابندی ہونی چاہئے انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں بل پاس ہو گیا تھا مگرپانامہ لیکس کی وجہ سے حکومت نے قومی اسمبلی میں دوسری جماعتوں سے مذاکرات کے لئے بل زیر التوا ء رکھا ہے انہوں نے کہاکہ غیرت کے نام پر قتل میں پھانسی کی سزا بھی راضی نامہ کے ذریعے قابل معافی نہیں ہونی چاہئے سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ خواتین کے حوالے سے اسلام کے اصل احکامات پر عمل ضروری ہے مذہبی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مل بیٹھ کر حل نکالا جائے اور اس حوالے صغری امام کا بل پاس ہونا چاہئے

چیئر پرسن نسرین جلیل نے کہا کہ غیرت کے واقعات میں خواتین کو دوسرے درجے کا شہری تصور کیا جاتا ہے خواتین کے خلاف تشدد اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے قصاص اور دیت لاگو نہیں ہونی چاہئے ریاست مدعی ہو تو معافی کا تصور نہیں ہو گا اس موقع پرسیکرٹری قانون نے کہا کہ قتل کسی بھی طرح جائز نہیں غیرت کے نام پر واقعات میں ایک ولی مجرم کو معاف کر دیتا ہے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے ریاست کے مدعی بننے کے بارے میں وزارت کا لیگل ونگ کام کر رہا ہے اس موقع پر ڈی جی نے آگاہ کیا کہ سینیٹر صغری امام اور وزارت قانون کے بلوں پر کام ہو رہا ہے اور معاشرے کی بہتری کیلئے بہتر سے بہتر سفارشات بنائی جائینگی اس موقع پر کمیٹی کو جیلوں میں ملزموں اور مجرموں پر تشدد کے حوالے سے تیار کئے جانے والے ٹارچر بل کے حوالے سے آگاہ کیا گیا کہ پولیس اور جیل کے اداروں کی تربیت بہت ضروری ہے اور اس سلسلے میں جیل ریفارمز کمیٹی نے جیلوں کے دورے شروع کر دیئے ہیں

اس موقع پر سیکرٹری قانون نے کہا کہ جیلوں میں قیدیوں پر ٹارچر بڑا جرم ہے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اینٹی ٹارچر بل سینیٹ سے منظور شدہ ہے قومی اسمبلی بھی جلد اس بل کو منظور کرے انہوں نے کہا کہ این سی ایچ آر زیر سماعت مقدمات میں آئینی طور پر فریق بن سکتا ہے اگر اجازت نہ ملے تو این سی ایچ آر مبصر کے طور پر عدالتوں میں بیٹھ کو ریکارڈ مرتب کرے کمیٹی نے سفارش کی کہ زبردستی غائب اور اغواء ہونے و الے معاملات کی روک تھام کیلئے بین الا قوامی کنونشن پر دستخط کئے جائیں سینیٹر فرحت اللہ بابر کے سوال کے جواب میں آگاہ کیا گیا کہ این سی ایچ آر با اختیار ادارہ ہے مالیاتی طور پر بھی با اختیار ہے این سی ایچ آر کو وزارت کی پوری مدد حاصل ہے جس پر سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا چیئرمین این سی ایچ آر کو پرنسپل اکاوئنٹنگ آفیسر بنایا جائے

کمیٹی اجلاس میں اوکاڑ ہ فارمز کے معاملے پر میجر جنرل عابد نذیر نے آگاہ کیا کہ افواج پاکستان کی طرف سے کسی کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی فوج عوام میں سے اور عوام ہم میں سے ہیں چیف آف سٹاف کی واضح ہدایت کے بعد سویلین کے خلاف کوئی بھی کاروائی نہیں کر سکتے ہیں انہوں نے کہاکہ اوکاڑہ فارمز سے 3.5ارب روپے کا دودھ پیدا ہوتا ہے اوکاڑا فارمز میں کام کرنے والے1700ملازمین کے خلاف 11ڈاکٹر افسران کیسے ڈنڈے اٹھا سکتے ہیں انہوں نے کہاکہ اوکاڑہ کے1276میں سے 201 مزارعین نے رقم جمع کرانی شروع کر دی ہے جبکہ رینالہ فارم کے230میں سے208 مزارعین کے ساتھ معاہدہ ہو گیا ہے اسی طرح سٹڈ لینڈز کے 71میں سے55مزارعین کے ساتھ معاہدہ ہو گیا ہے اس موقع پر حکومت پنجاب کے نمائندوں نے آگاہ کیا کہ مظاہرین کے خلاف بنائے گئے مقدمات شواہد کی بنا پر ہیں مزارعین کو ریمانڈ پر انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیاتھا عدالت نے ضمانت نہیں دی انہوں نے کمیٹی کو یقین دہانی کراتے ہوئے بتایا کہ کسی بھی مزارعہ کو زمین سے بے دخل نہیں کیا جائیگا انہوں نے بتایا کہ گذشتہ پندرہ سالوں میں مزارعین کے خلاف پندرہ مقدمات درج ہوئے ہیں۔

اس موقع پر انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے کہا گیا کہ مزارعین کے ساتھ زبردستی معاہدہ نہیں کیا جا سکتاہے دو ماہ میں ایک گروپ کے خلاف دہشت گردی کے آٹھ مقدمات درج کرائے گئے جس میں سابق ملازمین بھی شامل ہیں اور ان مقدمات میں خواتین گرفتار کی گئیں جس سے فوج کے خلاف غلط تاثر پیدا ہوا ہے سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ مزارعین کئی سالوں سے بٹائی ادا نہیں کر رہے ہیں یہ رقم اربوں میں بنتی ہے کسی کرایہ دار،مزارعہ کوکسی بھی طرح مالکانہ حقوق نہیں دیئے جا سکتے ہیں انہوں نے کہاکہ ان مزارعین کی جانب سے مالکانہ حقوق کا مطالبہ کسی بھی طرح جائز نہیں ہے اگر مزارعین کے پاس کسی معاہدے کی کاپی یا ثبوت ہو تو کمیٹی میں فراہم کیا جائے اس موقع پر مزارعین کے نمائندوں لیاقت اور محمد شہزاد نے کہا کہ زمین پر چوتھی نسل سے کام کر رہے ہیں ہمیں مالکانہ حقوق دیئے جائیں ریاستی اداروں کی طرف سے دہشت گردی کے مقدمات درج کئے گئے ہیں

اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا جائے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ مالکانہ حقوق سے ذیادہ 15اور27اپریل کو ہونے والے واقعات اہم ہیں کمیٹی کو گرفتار افراد ،مقدمات ا ور کس کس جیل میں بند ہیں ،کون کونسی دفعات لگائی گئی ہیں آگاہ کیا جائے انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو اپ ہولڈ کیا ہے احتجاج کرنے والوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات درست نہیں ہیں انہوں نے کہاکہ جنوبی پنجاب میں اصل دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی بجائے غریب مزارعین پر دہشت گردی کے مقدمات ا ور گرفتاریوں سے نیشنل ایکشن پلان پر سے لوگوں کا ا عتماد اٹھ جائیگا

مزارعین کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنایا جائے اورانسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ کیا جائے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ آڈیٹر جنرل نے ملٹری لینڈ میں بدعنوانی کے نو معاملات کی نشاندہی کی ہے مگر اس پر کاروائی تو درکنار جواب تک نہیں دیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ مزارعین اور پنجاب حکومت برادرانہ ماحول میں معاملات کو حل کریں اور مزارعین بٹائی دیں چیئر پرسن سینیٹر نسرین جلیل نے کہا کہ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ مقدمات واپس لئے جائیں اور معاملہ مل بیٹھ کر حل کیا جائے کمیٹی اجلاس میں چیئر پرسن نسرین جلیل کی سیکورٹی اور حملے میں ہلاک ہونے والے گارڈ اور مجرموں کی گرفتاری کے حوالے سے معاملہ بھی زیر بحث آیاجس پر چیئر پرسن نسرین جلیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر سیکورٹی دی گئی ہے سندھ حکومت نے کہا ہے کہ ہمارے پاس گاڑیاں اور گارڈز نہیں ہیں انہوں نے بتایا کہ پہلے سیکورٹی کے لئے سٹی وارڈن ساتھ چلتے تھے مگر اب وہ نہیں ہیں سندھ حکومت نے دو گارڈ زفراہم کئے ہیں جو ایک ایک دن ڈیوٹی کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ پولیس موبائل گاڑی نہ ہونے کی وجہ سے تحفظ نہیں ہے کمیٹی اجلاس میں امجد صابری شہید کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتح خوانی کی گئی۔

Clear

23°C

اسلام آباد

Clear
Humidity: 60%
Wind: NNW at 11.27 km/h
Friday 22°C / 30°C Sunny
Saturday 24°C / 30°C Sunny
Sunday 22°C / 30°C Sunny
Monday 23°C / 30°C Sunny
Tuesday 24°C / 30°C Sunny
Wednesday 23°C / 30°C Thunderstorms
Thursday 23°C / 30°C Sunny

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ