ہیڈلائنز


اب اگر حملہ کیا تو ۔۔۔

Written by | روزنامہ بشارت

اسلام آباد : وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ اگر کوئی بھی ملکہم پر حملہ کرے گا تو پاکستان اس کا جواب دے گا، طورخم پرگیٹ کی تعمیر جاری رہے گی کیونکہ اس گیٹ کی تعمیر سے نہ تو پاکستان افغانستان کے ساتھ کسی دو طرفہ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور نہ ہی کسی بین الاقوامی قانون کے منافی کام کر رہا ہے،جب تک افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر بارڈر مینیجمنٹ کا کوئی نظام قائم نہیں ہو جاتا،اس وقت تک دہشتگردی، انتہا پسندی اور سمگلنگ جیسے مسائل پر قابو نہیں پایا جا سکتا ہے۔سرحد پر دونوں جانب سے آمد و رفت دستاویزات کی مدد سے ہونی چاہیے، ہم نے افغانستان کو مئی میں بتا دیا تھا کہ یکم جون سے کسی کو دستاویزات کے بغیر سرحد عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،بھارت کے ساتھ مسائل اسی وقت حل ہو سکتے ہیں جب وہ مذاکرات کے لیے رضامند ہو اور مذاکرات تب ہی ہو سکتے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اچھے ہوں۔برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ طورخم پرگیٹ کی تعمیر جاری رہے گی کیونکہ اس گیٹ کی تعمیر سے نہ تو پاکستان افغانستان کے ساتھ کسی دو طرفہ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور نہ ہی کسی بین الاقوامی قانون کے منافی کام کر رہا ہے۔سرتاج عزیز نے کہا کہ جب تک افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر بارڈر مینیجمنٹ کا کوئی نظام قائم نہیں ہو جاتا،اس وقت تک دہشتگردی، انتہا پسندی اور سمگلنگ جیسے مسائل پر قابو نہیں پایا جا سکتا ہے۔ سرحد پر دونوں جانب سے آمد و رفت دستاویزات کی مدد سے ہونی چاہیے۔انھوں نے کہا کہ روزانہ چالیس سے پچاس ہزار افراد اس راستے کسی رکاوٹ یا پوچھ گچھ کے بغیر آ جا رہے ہیں اور اس میں ہر طرح کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ہم نے افغانستان کو مئی میں بتا دیا تھا کہ یکم جون سے کسی کو دستاویزات کے بغیر سرحد عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔خارجہ امور کے مشیر کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان چاہتا ہے کہ پاکستان سرحد پر گیٹ کی تعمیر روک دے لیکن ہم گیٹ اپنے علاقے میں بنا رہے ہیں اور اس کے لیے ہمیں کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔سرتاج عزیز نے کہا کہ یہ گیٹ پاکستان اپنے علاقے میں سرحد سے تیس پینتیس میٹر اندر بنایا جا رہا ہے اور پاکستان اس کی تعمیر جاری رکھے گا اور اسے دونوں ممالک کے درمیان آمد و رفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر پاکستان نے افغانستان کو بتا دیا تھا کہ وہ سرحد پر گیٹ تعمیر کرنے جا رہا ہے تو پھر سرحد پر اتنی کشیدگی اور فائرنگ کا تبادلہ کیوں ہوا، تو سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان کو 2014 میں بتا دیا تھا کہ وہ طورخم پر نئی سہولیات متعارف کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، لیکن افغانستان نے ہماری اس تجویز کا کوئی باقاعدہ جواب نہیں دیا۔ان کی جانب سے جو تحفظات سامنے آئے تھے، انھیں منصوبے میں شامل کر لیا گیا تھا۔سرتاج عزیز نے کہاکہ سرحد پر دستاویزات کی پابندی جیسے اقدامات دونوں ممالک کے حق

میں ہیں کیونکہ وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ پاکستان سے لوگ بلا روک ٹوک افغانستان میں داخل ہو جاتے ہیں۔ایسا نظام ضروری ہے کیونکہ جب تک سرحد پر انتظامات نہیں کیے جائیں گے، سہولیات نہیں فراہم کی جائیں گی، ہمارے سکیورٹی خدشات قائم رہیں گے اور افغانستان کے خدشات بھی موجود رہیں گے۔سرتاج عزیز نے سابق افغان صدر حامد کرزئی کے اس بیان پر کہ پاکستان بھارت کو افغانستان تک زمینی راستے سے رسائی نہیں دینا چاہتا پر کہا کہ مسائل تو اسی وقت حل ہو سکتے ہیں جب انڈیا مذاکرات کے لیے رضامند ہو اور مذاکرات جب ہی ہو سکتے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اچھے ہوں۔واضح رہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے طورخم کے مقام پر سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کے عمل پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے سرحد پار آنے جانے والوں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہوئی تھی۔فائرنگ کے بعد سرحد پر حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے جس سے دونوں جانب آمد و رفت معطل ہوگئی تھی۔

Mostly clear

10°C

اسلام آباد

Mostly clear
Humidity: 55%
Wind: NNW at 11.27 km/h
Sunday 11°C / 20°C Mostly sunny
Monday 11°C / 20°C Sunny
Tuesday 13°C / 18°C Partly cloudy
Wednesday 11°C / 20°C Sunny
Thursday 10°C / 20°C Sunny
Friday 11°C / 17°C Sunny
Saturday 12°C / 17°C Sunny

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ