ہیڈلائنز


آئندہ مالی سال کا بجٹ؛سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ ،400 سے زائد مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ

Written by | روزنامہ بشارت

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئندہ مالی سال برائے 17-2016 کا وفاقی بجٹ پیش کررہے ہیں جس کے تحت دفاعی بجٹ میں اضافہ کردیا گیا ہے جب کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن 10 فیصد بڑھا دی گئیں

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت شروع ہوا جس میں وفاقی ویزخزانہ اسحاق ڈارکا آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ  پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی پیش گوئیاں کرنے والے ناکام ہوگئے، ہماری حکومت نے ملک کو نا صرف دیوالیہ ہونے سے بچایا بلکہ معیشت بھی مستحکم کی اور معاشی ترقی بھی ہوئی اور مہنگائی کو روکا گیا جب کہ اقتصادی اشاریے ہماری کارکردگی کےعکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر بجٹ میں ہماری کارکردگی پچھلے سال سے بہتر رہی ہے، رواں سال معاشی ترقی کی شرح 4.7 فیصد ہے اور یہ مزید بہتر ہوتی اگر کپاس کی فصل کو نقصان نہ ہوتا جس کی وجہ سے قومی پیداوار میں کمی واقع ہوئی جب کہ رواں مالی سال 3104 ارب کی ٹیکس وصولی کاہدف حاصل کر لیں گے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی کی شرح 8 سال کی بلند ترین سطح پر ہے، ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر21.6 ارب ڈالر ہوچکے ہیں، گزشتہ 3 سال میں ٹیکسوں کی وصولی میں 60 فیصد اضافہ ہوا جب کہ مالیاتی خسارہ 4.3 فیصد کی شرح پر آگیا جو آئندہ مالی سال 3.8 فی صد تک لائیں گے، برآمدات 11 فیصد کمی کے ساتھ 18.2 ارب ڈالر اور درآمدات 32.7 ارب ڈالر رہیں، پالیسی ریٹ 5.75 فیصد کی کم ترین سطح پر آگیا۔

وزیز خزانہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی ملازمین کو یکم جولائی 2016 سے رننگ بیسک پر 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جائے گا جب کہ وفاقی ملازمین کے لیے ایم فل الاؤنس 2500 روپےماہانہ کردیا گیا ہے اور ایڈیشنل چارج اور ڈیپورٹیشن الاؤنس 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 12 ہزار روپے کردیا گیا ہے، گریڈ 1 سے 15 کے وفاقی ملازمین،کنونس  الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے لیے 115 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ معذور افراد کا اسپیشل کنونس الاؤنس 1 ہزار روپے ماہانہ کیا جارہا ہے۔ شرح سود 40 سال کی کم ترین سطح پر ہے، مشینری کی درآمد میں 40 فیصد اضافہ ہوا،  تیل کے درآمدی بل میں 40 فیصد کمی ہوئی جب کہ ملک کی تینوں اسٹاک ایکسچینج ایک بن چکی ہیں، قرضےکو جی ڈی پی کے 50 فیصد تک لایا جائے گا۔

وزیرخزانہ نے  کہا کہ ملکی دفاع کے لیے بجٹ میں 860 ارب روپے، ہائرایجوکیشن کے لیے 12.5 ارب ، ریلوے کے لیے 78 ارب ، متاثرین فاٹا کے لئے 100 ارب، سرحدی امورکے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 22 ارب، پانی کے منصوبوں میں 32 ارب، پاکستان بیت المال کے فنڈزکو 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ مارچ 2018 تک 10 ہزارمیگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ سسٹم میں شامل ہوجائے گی  جب کہ دیامر، بھاشا اور دیگرمنصوبوں سے 15 ہزارمیگاواٹ بجلی سسٹم میں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ گوادرکی معاشی ترقی کے لیے خصوصی رقم مختص کی جائے گی جب کہ داسو ڈیم کے لیے 42 ارب، بھاشا دیامر ٹیم کے لیے 32 ارب، وزارت کیڈ کے شعبہ تعلیم کے لیے 1 ارب 9 کروڑ 38 لاکھ 13 ہزار روپے  اور توانائی کے شعبے کے لیے سب سے زیادہ رقم 130 ارب روپےمختص کئے گئے ہیں۔

وزیرخزانہ نے مزدور طبقے کی کم سے کم اجرت 13 ہزار سے بڑھا کر 14 ہزار روپے کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 85  سال سے زائد عمر والوں کی پنشن میں 25 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے جب کہ وفاقی ملازمین کی پنشن میں بھی 10 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔

اسحاق ڈار نے کاشت کاروں کے لیے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی 2016 سے کھاد کی فی بوری قیمت 1400 روپے کی جارہی ہے اور ڈی اے پی کھاد یکم جولائی سے 2500 روپے کی جارہی ہے جب کہ ڈیری اور لائیو اسٹاک درآمد ڈیوٹی کو 5 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد کیا جارہا ہے اور آئندہ مالی سال میں ترقیاتی پروگرام کے لیے 800 ارب روپے مختص کرنے کی کی تجویز ہے اور کارپوریٹ ٹیکس 31 فیصد کردیا گیا ہے، وزیراعظم کے انٹرن شپ پروگرام ، دیگرمنصوبوں پر 1 ارب روپے خرچ ہوں گے، موبائل فونزکی درآمد پرسیلز ٹیکس میں 500 روپے اضافہ کیا گیا اور مواصلاتی نظام کے لیے 188 ارب روپے رکھے ہیں۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ صنعت نے 6.8 فیصد کی شرح ترقی سے موجودہ سال میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا لہذا صنعتی سرمایہ کاری کے عمل میں مزید اضافہ بہت ضروری ہے، صنعتی یونٹس پرڈیوٹی کی شرح 5 سے کم کر کے3 فیصد کردی گئی جب کہ 3 ٹیکسٹائل کے شعبے میں ٹیکنالوجی اسکیم یکم جولائی سے نافذ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 3 سال میں زرعی قرضوں کا حجم 336 ارب روپے سے 600 ارب روپے رہا، زرعی صارفین کے لئے بجلی کی فی یونٹ قیمت 5 روپے 35 پیسے ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے 10 فیصد شرح پرٹیکس میں 2 سال کے لیے ٹیکس کریڈٹ دیا جارہا ہے اور آیندہ مالی سال کے لیے اس اسکیم میں ایک ارب روپے مختص کررہے ہیں۔

Clear

20°C

اسلام آباد

Clear
Humidity: 39%
Wind: NNW at 11.27 km/h
Wednesday 20°C / 29°C Sunny
Thursday 22°C / 29°C Sunny
Friday 22°C / 29°C Sunny
Saturday 21°C / 29°C Sunny
Sunday 21°C / 27°C Sunny
Monday 19°C / 25°C Scattered thunderstorms
Tuesday 18°C / 25°C Sunny

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ