ہیڈلائنز


پاناما لیکس کی شفاف تحقیقات نہ ہوئیں تو سڑکوں پر ہونگے، عمران خان کا اعلان

Written by | روزنامہ بشارت

اسلام آباد:  چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ میرے اوپر الزامات لگائے گئے کہ میں نے شوکت خانم کے پیسے ڈبودیے ، میں میاں نواز شریف سے سوال کرتا ہوں کہ تمام ادارے آپ کے ماتحت ہیں تو پھر میرا احتساب آپ کے ذمے ہے نہ کہ آپ لوگوں کو یہ کہیں کہ تم بھی کرپٹ ہو۔ کرپشن کی وجہ سے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور پاناما لیکس کے بعد ہمارے پاس بہترین موقع ہے کہ شفاف تحقیقات کے ذریعے ملک کو کرپشن سے پاک کردیا جائے اور اگر پاناما لیکس کی شفاف تحقیقات نہ ہوئیں تو ہم سڑکوں پر آئیں گے۔
قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ جتنی بہتر جمہوریت ہوتی ہے اتنا ہی ممالک ترقی کرتے ہیں شاہ ولی اللہ اور علامہ اقبال جیسے اسلاف مسلمانوں کی تنزلی کی وجہ بادشاہت کو سمجھتے ہیں ریاستِ مدینہ میں تمام جمہوری اقدار تھیں ، اس دور میں قانون کی بالا دستی تھی اور خلیفہ بھی جواب دہ ہوتا تھا۔ جمہوریت میں حکومت کا کام قانون بنانا اور اس پر عملدر آمد کرانا ہے جبکہ اپوزیشن کا کام ان پر تنقید کرنا ہوتا ہے اگر ایک جمہوریت کے اندر اپوزیشن اپنا کام نہیں کرتی تو پارلیمنٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ہم غریب عوام کا 60 ہزار روپیہ فی منٹ پارلیمنٹ پر خرچ کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں بہت غلط روایت بن گئی ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہم نے 90 کی سیاست میں نہیں جانااگر اپوزیشن تنقید نہیں کرتی تو اسے کیا فائدہ حاصل ہوجائے گا۔ 
عمران خان نے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ عمران خان کے ہیلی کاپٹر ہیں اور بنی گالہ میں بڑے بڑے گھر ہیں اور انہوں نے سوال کیا تھا کہ یہ سب میرے پاس کہاں سے آیا ہے؟۔ میرا وزیر اعظم سے سوال ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کرنا کیا میرا کام ہے؟ اگر میں کوئی غلط کام کررہا ہوں تو وزیر اعظم کا کام مجھ پر الزام لگانا نہیں ہے بلکہ آپ مجھے سزا دیں کیونکہ تمام ادارے آپ کے ماتحت ہیں اور قانون کو لاگو کرنا آپ کا کام ہے۔
اپنے اوپر لگے الزامات کا جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ 1971 سے 1976 تک میں نے کاو¿نٹی کرکٹ کھیلی اس کے علاوہ مجموعی طور پر 12 سال تک کاو¿نٹی کرکٹ کھیلی اس لیے میری ساری آمدنی ملک سے باہر ہوتی تھی چونکہ میں برطانوی شہری نہیں تھا اس لیے میرے اکاو¿نٹنٹ نے مجھے آف شور کمپنی بنانے کا بتایا تاکہ وہاں پر ٹیکس بچایا جاسکے ۔ میں نے نیازی سروسز کے ذریعے لیا گیا فلیٹ کبھی بھی نہیں چھپایا اور 2012 میں بھی پریس کانفرنس کے ذریعے سب کے سامنے اپنے فلیٹ کے بار ے میں بتایا ۔ فلیٹ کو بیچ کر سارا پیسہ پاکستان لے کر آیا اور میرا ملک سے باہر کوئی بھی فلیٹ نہیں ہے ۔ میری تمام جائیداد ڈکلیئرڈ ہے اور کوئی بھی اثاثہ چھپایا نہیں گیا ہے۔جن ٹی او آرز پر ہم میاں نواز شریف کا احتساب چاہتے ہیں اسی پر میرا بھی احتساب کیا جائے اور شوکت خانم کی تحقیقات بھی کی جائیں۔مجھے شک کی نظروں سے دیکھا جارہا ہے حالانکہ میں کبھی وزیر نہیں رہا مجھے 1987 میں وزیر اعلیٰ نواز شریف نے ایک پلاٹ دیا جبکہ 1992 میں وزیر اعظم نواز شریف نے پلاٹ دیا ۔ میں نے دونوں پلاٹ شوکت خانم ہسپتال کو دے دیے جبکہ کرکٹ میں جیتی گئی 2 گاڑیاں بھی شوکت خانم کو عطیہ کیں ۔ میرے پاس دولت تھی جس سے میں شوگر ملز اور فاو¿نڈریز بنا سکتا تھا لیکن میں نے اپنی دولت کا بڑا حصہ شوکت خانم کو دیا۔
وزیر اعظم کے فلیٹس کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ مے فیئر فلیٹس کی رجسٹری کے مطابق 17 پارک لین 6 جون 1993 ، 31 جولائی 1995 کو 2 فلیٹس، 17 اے 23 جولائی 1996 میں جبکہ فیلڈ ہاو¿س 29 مئی 2004 کو خریدی گئی ۔ یہ بہت بڑا جرم ہے کہ اسمبلی میں جھوٹ بولا جائے اور میاں صاحب نے اسمبلی میں کہا کہ انہوں نے 2005 میں یہ تمام پراپرٹی خریدی ۔ 1998 میں لندن میں حدیبیہ پیپرز مل پر ان کے خلاف فیصلہ ہوا اور انہوںنے یہ تمام فلیٹس بطور ضمانت جمع کرائے۔وزیر اعظم نواز شریف نے اسمبلی میں جو تقریر کی اگر جمہوریت صحیح ہوتی تو اسی غلط بیانی کی وجہ سے استعفیٰ دینا پڑ سکتا تھا۔ مریم صفدر، نواز شریف کی ڈیپنڈنٹ ہے لیکن اس کی نیسکول اور نلسن کمپنیاں مے فیئر فلیٹس کی مالک ہیں جس کا مطلب ہوا کہ ان کے حقیقی مالک میاں نواز شریف ہی ہیں ۔میاں صاحب نے 23 سال میں 3 کروڑ روپے کے قریب ٹیکس دیا جبکہ تحریک انصاف کے 2 لوگ ایسے ہیں جو سالانہ 4 کروڑ روپے ٹیکس دیتے ہیں۔ میاں صاحب نے کہا کہ ہم نے 10 ارب روپے ٹیکس دیا حالانکہ 8 ارب روپے جنرل سیلز ٹیکس تھا جو عوام ادا کرتی ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی 20 سالہ سیاست ایک ہی نقطے پر کی کہ کرپشن ملک کو تباہ کررہی ہے لیکن جب میں نے کرپشن کے خلاف بات کی تو مجھ پر طرح طرح کی تنقید کی گئی ۔ میں ایک خاتون کو مسلمان کرکے پاکستان لایا لیکن مجھے یہودی ایجنٹ بنا دیا گیا۔1997 کے الیکشن میں کہا گیا کہ عمران خان ہسپتال کے پیسے سے الیکشن مہم چلا رہا ہے اور شوکت خانم کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی گئی جس کی وجہ سے ہسپتال کو چندہ ملنا بند ہوگیا لیکن جب مسلم لیگ ن حکومت میں آتی ہے تو سب کچھ بھول جاتی ہے اور کینسر ہسپتال کے چندہ میں خورد برد کی تحقیقات کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ ایک دفعہ پھر 2011 میں جب انہیں خطرہ ہوا تو پھر سے شوکت خانم کے خلاف مہم شروع کردی گئی اور ایک بار پھر جب وزیر اعظم کے بیٹوں کا نام پاناما لیکس میں آتا ہے تو پھر شوکت خانم کے خلا ف مہم شروع کردی گئی اور حکمران جماعت کے 4 ارکان نے کہا کہ شوکت خانم کے 3 ملین ڈالر ڈوب گئے۔ پاناما لیکس کا معاملہ سامنے آنے کے بعد بجائے جواب دینے کے ہسپتال پر تنقید کی جا رہی ہے۔دھاندلی کی بات کی تو کہا گیا کہ جمہوریت ڈی ریل ہوجائے گی اور جب کرپشن کی بات کی گئی تو پھر وہی بات کہی جارہی ہے۔تمام باتیں دیکھ کر یہی سمجھ آتی ہے کہ اگر حکومت کی کرپشن پر تنقید نہ کی جائے تو آپ ایک خیراتی ادارے میں سے بھی پیسہ بنا سکتے ہیں۔حکومت اپنے 30 سالوں میں ایسا ہسپتال نہیں بنا سکی کہ جس میں وزیر اعظم اپنا چیک اپ کروا سکیں ۔ بجائے صفائی دینے کے کہا جارہا ہے کہ دوسرے بھی کرپٹ ہیں جس کا مطلب یہی ہوا کہ ہم سب لوگ کرپٹ ہیں اور یہاں آئیں اور ملک کو لوٹ کر کھا جائیں خدا کیلئے جمہوریت کو بچائیں اور اسے مضبوط کریں ۔ پاناما لیکس کے بعد پاکستان کے پاس سنہری موقع ہے کہ ہم نظام کو شفاف کرسکیں۔ میاں صاحب کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ اسمبلی میں آکر یہ تقریریں کریں کہ ان کے اوپر کتنے ظلم ہوئے ہیں بلکہ ان کا کام یہ ہے کہ سوالوں کے جواب دیں ۔
انہوں نے آئی ایم ایف کی اعلیٰ عہدیدار کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کرپشن کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری نہیں آتی جس کی وجہ سے بیروزگاری اور غربت بڑھ جاتی ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری تب آتی ہے جب کرپشن کم ہوتی ہے ، جب کرپشن ہوتی ہے تو پیسہ نکل کر آف شور کمپنیوں میں چلاجاتا ہے جس کی وجہ سے معیشت تباہ ہوجاتی ہے۔کرپشن کی وجہ سے ملکوں میں پیسہ انسانوں پر خرچ ہونے کی وجہ سے میگا پراجیکٹس میں استعمال ہوتا ہے اور میگا پراجیکٹس کمیشن بنانے کیلئے کیے جاتے ہیں۔ کرپشن کی وجہ سے ادارے تباہ ہوجاتے ہیں ۔کرپشن کی وجہ سے امیر اور غریب میں فرق بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ لی کون یو نے سنگا پور میں اوپر سے کرپشن روک کر ترقی کی اور اگر ہم بھی ملک میں کرپشن کو روکنا چاہتے ہیں تو وزیر اعظم کا سب سے پہلے احتساب کرنا پڑے گا۔ملک میں روزانہ 12 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے جو کہ ٹیکس اکٹھا ہونے سے زیادہ شرح ہے کرپشن کی وجہ سے 21 ٹریلین روپے کا قرضہ چڑھ گیا ہے ملک کو بچانے کیلئے پورے ملک کو کرپشن کے خلاف متحرک کرنا ہوگا۔
انہوں نے اپنی تقریر کے آخر میں کہا کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے فوری طور پر ٹی او آرز پر کمیٹی بیٹھے اور وہ ٹی او آرز کا فیصلہ کرے اور اگر شفاف احتساب نہیں ہوتا اور طوطا مینا کی کہانی سنائی گئی تو ہم سڑکوں پر آئیں گے۔

Clear

19°C

اسلام آباد

Clear
Humidity: 38%
Wind: NNW at 17.70 km/h
Wednesday 20°C / 29°C Sunny
Thursday 20°C / 29°C Sunny
Friday 20°C / 29°C Sunny
Saturday 21°C / 29°C Sunny
Sunday 21°C / 27°C Sunny
Monday 19°C / 25°C Scattered thunderstorms
Tuesday 18°C / 25°C Sunny

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ