ہیڈلائنز


جسے عوام پلس کریں اسے کوئی مائنس نہیں کرسکتا، نوازشریف

Written by | روزنامہ بشارت

کوئٹہ: سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ مائنس پلس کا بڑا کھیل ہوچکا ہے اور ملک میں 70 سال سے یہی ہوتا رہا ہے لیکن اب 2018 میں فائنل فیصلہ کرنا ہوگا۔

میاں نوازشریف پشتونخوا میپ  کے سربراہ محمود اچکزئی کی خصوصی دعوت پر جلسے سے خطاب کے لیے لاہور سے کوئٹہ پہنچے جہاں گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی اور محمود اچکزئی سمیت دیگر نے ان کا استقبال کیا۔

جلسے سے قبل نوازشریف سے گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی، وزیراعلیٰ نواب ثنااللہ زہری اور پشتونخوا میپ کے سربراہ محمود اچکزئی نے ملاقات کی۔

ایوب اسٹیڈیم میں نواشریف جب جلسے سے خطاب کے لیے آئے تو انہوں نے ڈائس پر موجود بلٹ پروف شیشہ ہٹوا دیا۔

جلسے سے خطاب کے آغاز میں نوازشریف نے کہا کہ میری سیکیورٹی کے لیے شیشہ لگایا لیکن میری سیکیورٹی اللہ کے ہاتھ میں ہے، شیشہ اس لیے ہٹوایا کہ آپ کو ٹھیک سے دیکھ سکوں۔

نوازشریف نے کہا کہ محمود اچکزئی سے نظریاتی اتفاق ہے، پشتونخوا میپ اور مسلم لیگ (ن) نظریاتی رشتے میں منسلک ہیں، مجھے نظریہ ہمیشہ عزیز رہا ہے، نظریہ کبھی نہیں چھوڑتا اور نہ چھوڑا، میری ساری سیاست نظریئے پر ہی اور رہے گی۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج بلوچستان میں ترقی ہورہی ہے، افغانستان سے بھی اچھی سڑکیں بلوچستان میں ہیں، آج بلوچستان میں پچھلے 4 سالوں سے جو ترقی ہورہی ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، صوبے میں سڑکوں اور موٹرویز کا جال بچھ رہا ہے، آج سے 4 سال پہلے کا منظر عوام کو یاد ہے، بلوچستان کےا ندر کچھ بھی نہیں ہوتا تھا، یہاں ترقی کے کوئی آثار نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بلوچستان کی ترقی کے وژن پر عمل کرکے دکھایا، زبانی جمع خرچ نہیں کیا، بلوچستان پورے پاکستان سے مل رہا ہے، یہ صوبہ پاکستان کا حب اور ترقی کا مرکز ہوگا، گوادار اہم شہر ہوگا، ہم بلوچستان کے حوالے سے پچھلی کسر نکال رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر کا کہنا تھا کہ کوئٹہ والوں میں قانون کی حکمرانی کوٹ کوٹ کر بھری ہے، انہوں نے نے ہمیشہ آمریت کا مقابلہ کیا ہے، بلوچستان کے لوگ سچے اور کھرے ہیں، ہر آزمائش اور مشکل میں پورے اترے ہیں، یہاں کے عوام نے کبھی پاکستان کا پرچم جھکنے نہیں دیا۔

نوازشریف نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں نے ہمیشہ نفرتوں کی آگ بھڑکانے والوں کا مقابلہ کیا اور ان کے منصوبوں کو ناکام بنایا، دہشت گردی کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو پاکستان میں 20،20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ تھی، فیکٹریاں اور کارخانوں سمیت سب بند تھا، ہر طرف اندھیرے ہی اندھیرے تھے، جنہوں نے ملک میں تاریکی پیدا کی کبھی کسی نے ان سے نہیں پوچھا، وہ سب کام ہمارے لیے چھوڑ گئے۔

انہوں نے کہا کہ مجھ سے احتساب لیتے ہیں، احتساب کے نام پر نوازشریف سے انتقام لیا گیا، 4 سالوں میں کرپشن کا کوئی اسکینڈل سامنے نہیں آیا، ایک پیسے کی کرپشن نہیں کی، اگر کی تو بتایا جائے لیکن پھر بھی نکال دیا گیا۔

نواشریف نے مزید کہا کہ بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں تو اس پر نکال دیا گیا، یہ بھی کوئی فیصلہ تھا، یہ فیصلہ کون دے رہے ہیں جو ہمیشہ پی سی او کے تحت آمروں سے حلف لیتے رہے، وہ مجھے کہہ رہے ہیں کہ تم صادق اور امین نہیں ہو۔

(ن) لیگ کے صدر نے کہا کہ عوام نے یہ فیصلہ مسترد کردیا، 6 بہترین ہیرے چنے گئے ان کی جے آئی ٹی بنا ئی گئی، ایک ہی بینچ نے بار بار فیصلے کیے، کبھی دو کبھی تین اور کبھی پانچ ججوں نے فیصلہ دیا، شاید پاکستان کی تاریخ میں ایسا فیصلہ نہیں ہوا، ایک پیسے کی کرپشن کا شائبہ بھی نہیں ہوا، ثبوت تو دور الزام بھی ثابت نہیں ہوا، کسی سرکاری پیسے میں خرد برد کا الزام نہیں ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر فیصلہ دینا ہی تھا تو اس بات پر دیتے کہ نوازشریف نے پانچ ہزار روپے سرکاری کھایا ہے یا ایک ہزار روپیہ کھایا ہے تو تسلیم کرتا اور گھر چلا جاتا، جب پیسہ نہیں کھایا تو کیسے ایک وزیراعظم کو بے دخل کرسکتے ہو۔

انہوں نے کہا کہ جب مائنس ون کے لیے کوئی بہانہ نہیں ملا تو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر ایک وزیراعظم کو فارغ کردیا، ملک ایسے ہی فیصلوں سے برباد ہوتے ہیں، ایسے ہی فیصلے انتشار اور افراتفری پیدا کرتے ہیں، ایسے فیصلوں سے منزل کھوٹی ہوجاتی ہے، مائنس ون کا جو سلسلہ چلانا چاہتے ہیں، وہ کیا مائنس ون کریں گے جسے عوام پلس کردے۔

میاں نوازشریف نے کہا کہ ابھی گیس گلستان تک پہنچی تھی تو نوازشریف کو نکال دیا گیا لیکن ہم اسے چمن تک پہنچائیں گے، بلوچستان کے لیے ہماری خدمات ہیں، کچھی کینال برسوں سے لٹک رہی تھی اس کو ہم نے آکر مکمل کیا، ہم بلوچستان کے اندر بہت ترقی کرکے جائیں گے جس کی تایخ میں کوئی مثال نہ ملتی ہو۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر کا کہنا تھا کہ 2018 میں عوام فیصلہ سنائیں گے اور ہمیں سرخروں کریں گے، عوام سے وعدہ کرتا ہوں اگر دوبارہ موقع ملا تو کوئٹہ کو پاکستان کا مثالی شہر بنائیں گے، جو کراچی، لاہور اسلام آباد اور پشاور سے کم نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پشاور تو پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوگیا ہے، وہاں نیا پاکستان بن رہا تھا، کرکٹر نے کہا تھا لاہور میں شہبازشریف نے جنگلا بس بنائی، وہ میٹرو کو جنگلا بس کہتا تھا اب وہی پشاور میں بنانے کی کوشش کررہا ہے لیکن پانچ سال ہونے کو آئے نہیں بنا پارہے، کرکٹر خان سے پشاور میں میٹرو نہیں بن سکی، آپ سے وعدہ کرتے ہیں ہمیں موقع ملا تو کوئٹہ میں میٹرو بس بنائیں گے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں بجلی ضرورت سے وافر ہے، وہ وقت قریب ہے جب پاکستان میں زیرو لوڈشیڈنگ ہوگی، ہم نے دہشت گردی کو ختم کیا، چار سال پہلے ملک کا کیا حشر تھا آج ہم نے اس معاملے کو ٹھیک کیا، کراچی کو ٹھیک کیا، پورے ملک میں موٹرویز بن رہے ہیں۔

نوازشریف نے کہا کہ اب ضرورت اس بات کی ہےکہ پاکستان میں جسے آپ پلس کریں تو اسے کوئی مائنس نہیں کرسکتا، حکومتیں ووٹ سے آئیں اور جائیں، کوئی حکومت کو فارغ نہ کرسکے، کروڑوں عوام وزیراعظم کو ووٹ دیتے ہیں اور صرف 5 لوگ فارغ کردیتے ہیں، یہ سب عوام کو ہرگز منظور نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مائنس پلس کا بڑا کھیل ہوچکا ہے، 70 سال سے یہی ہوتا رہا ہے لیکن اب 2018 میں فائنل فیصلہ کرنا ہوگا، اس فیصلے کو پھر سوائے عوام کے کوئی تبدیل نہیں کرسکے، نہ کوئی پانچ بندے تبدیل کرسکیں، نہ مارشل لا، نہ کوئی آمر اور نہ کسی اور طریقے سے تبدیلی کیا جاسکے، پاکستان میں آئین و قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں، ووٹ کے تقدس کو بحال کریں۔

انہوں نے تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ناچنے گانے والے 2018 میں فارغ ہوجائیں گے اور سندھ بھی فارغ ہوجائے گا، ہم بلوچستان کے عوام کے ساتھ مل کر قانون کی حکمران کے لیے مارچ کریں گے اور ووٹ کے تقدس کے لیے عوام کو ساتھ دینا ہوگا تاکہ 70 سالہ تاریخ کو نہ دہرایا جاسکے۔

Clear

3°C

کوئٹہ

Clear
Humidity: 41%
Wind: ESE at 11.27 km/h
Saturday 1°C / 13°C Sunny
Sunday 2°C / 13°C Sunny
Monday -1°C / 7°C Snow
Tuesday -4°C / 3°C Mostly sunny
Wednesday 0°C / 10°C Mostly sunny
Thursday 0°C / 11°C Sunny
Friday 1°C / 11°C Sunny

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ