ہیڈلائنز


آٹزم کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کرے

Written by | روزنامہ بشارت

وہ کھلونوں سے کھیلنا پسند نہیں کرتی تھی۔ وہ یا تو اِن کو اُٹھا کر اِدھر اُدھر پھینک دیتی یا پھر ایک قطار میں رکھتی جاتی۔
فاطمہ نظریں ملانے سے گریز کرتی تھی، بلکہ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ آپ کو نظر انداز کر رہی ہے۔ وہ خود سے کبھی بات نہیں کرتی تھی۔ بچپن میں اس نے کیا پہننا ہے یا کیا کھانا ہے، اس کے بارے میں فیصلہ مشکل سے کیا جاتا تھا کیوں کہ فاطمہ کے لیے ابتدا میں یہ بتانا مشکل تھا کہ وہ کیا چاہ رہی ہے۔
فاطمہ کا ایک اور مسئلہ اُس کے پاس الفاظ کا محدود ذخیرہ تھا۔ فاطمہ اپنے پسندیدہ کارٹون کے ڈائیلاگز تو تمام دہراتی تھی مگر اپنے ماں باپ اور گھر کے دیگر افراد سے بات نہیں کرتی تھی۔
اِن تمام عجیب رویوں کے باوجود ہم انتظار کرتے رہے کہ شاید یہ بول پڑے، تاہم آہستہ آہستہ ہمیں یہ احساس ہونا شروع ہوگیا تھا کہ فاطمہ عام بچوں کی طرح نہیں ہے۔ اسے نشونما کے سلسلے میں جن مسائل کا سامنا تھا، اُن کے حل کے لیے بالآخر ہم نے چلڈرن ہسپتال کا رُخ کیا۔
وہ دن ہماری زندگیوں کا ایک مشکل دن تھا جب فاطمہ کو چلڈرن ہسپتال میں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد آٹزم (Autism) تشخیص کیا۔ جب ہم ہسپتال سے باہر نکلے تو آٹزم کے نام کے علاوہ ہمیں اِس کے بارے میں کچھ خاص معلومات نہ تھیں۔ کیا کسی دوائی کی ضرورت ہوگی؟ کس قسم کی تھیراپی کی ضرورت پڑے گی؟ تھیراپسٹ کہاں سے تلاش کریں؟ ابتداء کہاں سے کریں؟ اور سب سے بڑی بات کہ کیا فاطمہ عام بچوں کی طرح زندگی گزار سکے گی؟
آٹزم کے بارے میں ہمیں بتایا گیا تھا کہ فاطمہ کو وہ تمام باتیں جنہیں عموماً بچے خود ہی سیکھ لیتے ہیں، محنت کر کے سکھانی ہوں گی۔ اِس لیے ابتداء سے ہی فاطمہ کو سکھانے کی کوشش کی گئی کہ اُس کا نام کیا ہے؟ سلام کرنا، ہاتھ ملانا، بھوک یا پیاس لگے تو اپنی ضرورت کا بتانا، رنگ، شکلیں، اسم صفت (Adjective)، حروف، فعل (verb)، حرفِ ربط (Preposition) اور آواز کے متعلق یعنی (Phonics) اور بہت کچھ۔ واش روم کے استعمال کے بعد ہاتھ دھونا، برش کرنا اور صفائی کا خیال رکھنا وغیرہ۔ یہ سب باتیں ایک ایک کرکے فاطمہ کو سکھانی تھیں اور صبر کے ساتھ سکھانی تھیں کیوں کہ ہمیں کچھ معلوم نہ تھا کہ فاطمہ اِن چیزوں کو کتنے عرصے میں سیکھے گی اور کیا سیکھ کر یاد بھی رکھ پائے گی
بولنے کی تھیراپی کی ماہر (Speech Therapist) رکھی گئی، اسے چوں کہ خود بچوں کو مارنے کی عادت تھی چنانچہ فاطمہ نے مارنا سیکھ لیا۔ اگرچہ یہ بات چھوٹی یا غیر اہم محسوس ہوتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ آٹزم میں بچوں کو جس طرح کوئی بات سکھانا مشکل کام ہے اِسی طرح کسی بُری عادت کو ختم کرنا بھی بہت مشکل کام ہے۔ اہم بات یہاں پر یہ ہے کہ ابتداء میں فاطمہ کے لیے جو تھیراپسٹ رکھے گئے انہوں نے فاطمہ کی گھبراہٹ یا اینگزائٹی (Anxiety) اور جارحانہ رویے (Aggression) میں اضافہ تو کیا مگر اُس کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ پہنچایا۔
آٹزم کے بچوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے عموماً ہم کپڑوں، کھانے یا دیگر سرگرمیوں میں اپنی مرضی تھوپنا شروع کردیتے ہیں کیونکہ آٹسٹک بچے سے یہ کہلوانا کہ وہ کیا پہننا یا کھانا چاہتا ہے مشکل کام ہے۔ اِس روش کی وجہ سے بچہ اپنی دنیا سے نکلنے کے بجائے مزید گہرائی میں اُتر جاتا ہے۔
لازمی ہے کہ ایک آٹسٹک بچے کو روزمرہ زندگی میں وہ تمام آپشن ملیں جو کہ اُسی عمر کے کسی بھی تمام بچے کو ملتی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کے آٹسٹک بچے کافی ذہین ہوتے ہیں۔ ان کو پوری آگاہی ہوتی ہے کہ وہ اپنا مافی الضمیر دوسروں تک نہیں پہنچا پائے اور اِسی دقت کی وجہ سے اکثر اینگزائٹی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اگر والدین اِن بچوں کی اِس اینگزائٹی کو ختم کرنے کی طرف توجہ دیں تو بڑی آسانی سے یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
انہی تھیراپسٹ کے چُنگل میں پھنسے رہنے کے دوران ہم آٹزم کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کرتے رہے۔ انٹرنیٹ پر موجود مواد نے فاطمہ کے مستقبل کے بارے میں کافی ڈھارس بندھائی کہ اگرچہ مکمل ریکوری تو شاید ممکن نہ ہو مگر بہت حد تک فاطمہ اپنے معاشرے کا فعال حصہ بن سکتی ہے۔
فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے بہت سے گروپس حصہ بن جانے سے فائدہ یہ ہوا کہ بہت سے اداروں کا اور تھیراپسٹ کا علم ہوا۔ کچھ ادارے تو بہت مہنگے ہوتے ہیں مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو کہ کم خرچ ہیں۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ