ذہین افراد خوش کیوں نہیں رہ سکتے


ذہین افراد خوش کیوں نہیں رہ سکتے

Written by | روزنامہ بشارت

معروف امریکی مصنف ارنسٹ ہیمنگ وے کہتا ہے، ’ذہین افراد کا خوش ہونا، ایک ایسا عمل ہے جو میں نے اپنی زندگی میں بہت کم دیکھا ہے‘۔

آپ نے ذہین افراد کو عام افراد کے مقابلے میں کچھ مختلف دیکھا ہوگا۔ ان کی عادتیں، چیزوں کو محسوس کرنے کے طریقے، گفتگو وغیرہ سب کچھ عام افراد سے مختلف ہوتے ہیں۔

ایسے لوگ تنہائی پسند، کم میل جول رکھنے والے، اور بے ترتیب عادات کے مالک بھی ہوتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ذہین افراد کو خوش ہونے کا موقع بھی بہت کم ملتا ہے؟ اگر یہ ایک نہایت کامیاب زندگی گزار رہے ہوں، ان کی زندگی میں کوئی کمی نہ ہو، اور انہیں دنیا کی ہر نعمت حاصل ہو، تب بھی آپ انہیں خوش نہیں دیکھیں گے۔

ماہرین نفسیات اس کی مختلف وجوہات بتاتے ہیں، آئیے آپ بھی وہ وجوہات جانیں۔

ذہین افراد ہر شے کے بارے میں بہت زیادہ سوچتے ہیں۔ وہ مختلف خوشگوار اور تلخ واقعات کا بار بار تجزیہ کرتے ہیں اور ہر بار اس تجزیے کے مختلف نتائج حاصل کرتے ہیں، جس میں کہیں نہ کہیں دکھ یا تلخی کا عنصر چھپا ہوتا ہے۔

ماہرین کی تجویز ہے کہ اگر آپ زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں اور خوش رہنا چاہتے ہیں تو ناگوار واقعات کو درگزر اور نظر انداز کرنا سیکھیں۔

 

ذہین افراد کی ذہنی سطح عام افراد سے کچھ بلند ہوتی ہے۔ وہ عام افراد کے بے مقصد خیالات اور گفت و شنید میں حصہ نہیں لے سکتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان سے ان کے ذہنی معیار کے مطابق گفتگو کی جائے، اور جب انہیں اس میں ناکامی ہوتی ہے تو وہ تنہا اور اداس محسوس کرنے لگتے ہیں۔

 

ایسے افراد اپنے جیسے ذہنی معیار کے حامل افراد کے ساتھ نہایت خوش رہتے ہیں۔

ذہین افراد اپنی ذات کے لیے کڑا معیار رکھتے ہیں اور وہ نہایت سخت اصولوں پر اپنا محاسبہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بطور سزا زندگی کی کئی نعمتوں اور رشتوں سے محروم بھی کر لیتے ہیں جو انہیں اداسی کا شکار بنا دیتی ہے۔

۔ذہین افراد کی قوت تخیل بلند اور انداز فکر مختلف ہوتا ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی کامیابیوں یا چیزوں پر خوش نہیں ہو پاتے کیونکہ ان کے مدنظر بڑی کامیابی اور بڑا مقصد ہوتا ہے

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ حد سے زیادہ ذہین اور حساس افراد اکثر اوقات دماغی امراض اور الجھنوں کا شکار بھی ہوجاتے ہیں جس میں سب سے عام مرض بائی پولر ڈس آرڈر ہے

اس مرض میں موڈ میں بہت تیزی سے اور شدید تبدیلی واقع ہوتی ہے جس کا دورانیہ بعض اوقات کئی ہفتوں یا مہینوں پر محیط ہوسکتا ہے۔ایک اور عام مرض اینگزائٹی یا بے چینی ہے جس میں خوف، عدم تحفظ، گھبراہٹ اور بے دلی کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

 

 

 

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

اس بات کو یقینی بنائیں کے (*) کے ضروری معلومات کے کالم پر کردئے ہیں

آج کا اخبار

بدھ, 29 مارچ 2017


Read Basharat Online

روزنامہ بشارت ٹویٹر


Follow Daily_Basharat on Twitter
Mostly sunny

19°C

اسلام آباد

Mostly sunny
Humidity: 64%
Wind: N at 17.70 km/h
Partly cloudy

23°C

لاہور

Partly cloudy
Humidity: 55%
Wind: N at 17.70 km/h
Clear

23°C

کراچی

Clear
Humidity: 80%
Wind: W at 28.97 km/h
Mostly cloudy

14°C

کوئٹہ

Mostly cloudy
Humidity: 53%
Wind: ESE at 6.44 km/h
Partly cloudy

18°C

پشاور

Partly cloudy
Humidity: 70%
Wind: SW at 11.27 km/h