ہیڈلائنز

Reporter FK

Write on جمعہ, 22 ستمبر 2017

سوشل میڈیا پر آئی جی سندھ کی جانب سے محرم کے جلوسوں پر پابندی کے حوالے سے چلنے والی خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے دفتر سے جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ ماہ محرم کے سلسلے میں برآمد ہونے والے تمام روائتی جلوسوں/پرمٹ والے جلوسوں پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی.آئی جی سندھ نے مذید کہا کہ کیا ہی اچھا ہوکہ کسی بھی رپورٹ کی اشاعت یا اسے چلانے سے قبل اسکی باقاعدہ تصدیق کو فرائض منصبی کا حصہ بنا لیا جائےجوکہ عین صحافتی اقدار اور اصولوں کا اولین تقاضہ اور ترجیح ہے .دریں اثناء صوبائی وزیر داخلہ سندھ سہیل انور خان سیال کی زیر صدارت ماہ محرم الحرام میں مذہبی رواداری اور ہم آہنگی جیسے اقدامات کے قیام کے لئے اجلاس منعقد کیا گیا.اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ سندھ سہیل انور خان سیال کے ہمراہ آئی جی سندھ،ایڈیشنل آئی جی کراچی، سندھ کے تمام ڈی آئی جیز،زونل ڈی آئی جیز کراچی،کمشنرز،اور مذہبی جماعتوں کے نمائندگان بھی موجود تھے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل انور خان سیال کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ تمام مذھبی،سیاسی و سماجی جماعتوں کے جذبات و احساسات کا احترام کرتی ہے اور تمام عقائد کے ماننے والوں کو مقدم مانتی ہے .وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ آج کے اجلاس کا مقصد تمام مذہبی و سماجی تنظیموں کے نمائندگان کی موجودگی میں ایسا لائحہ عمل ترتیب دینا ہے جس کے تحت ماہ محرم میں تمام مکاتب فکر کے ماننے والوں کو کوئی پریشانی درپیش نہ آئے اور مجالس و عزارادی کے اجتماعات کی سیکورٹی مکمل محفوظ اور فول پروف بنائی جاسکے.اس موقع پر وزیر داخلہ سندھ کو ماہ محرم میں سندھ پولیس کی جانب سے کئے جانے والے سیکورٹی اقدامات سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی. وزیر داخلہ سندھ نے بطور خاص اس امر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے بھر کی عوام کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیئے اور اس حوالے شرپسند،امن دشمن عناصر کی بیخ کنی کے عمل میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے .وزیر داخلہ سندھ کی جانب سے تمام مذھبی جماعتوں کو ماہ محرم میں مکمل تعاون اور سیکورٹی کی یقین دھانی بھی کروائی گئی

Write on جمعہ, 22 ستمبر 2017

کراچی: پاکستان تحریک انصاف سندھ میں سیاسی رہنماؤں سے رابطوں اور اورانہیں پاکستان تحریک انصاف میں شامل کرنے کیلئے کمیٹی قائم کردی۔ کمیٹی کا پہلا اجلاس چیئرمین لیاقت جتوئی کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں عمران اسماعیل،ثمر علی خان، سید کاظم شاہ، ذولفقار ہالیپوٹو ، دیوان سچل نے شرکت کی ۔ کمیٹی کا اجلاس دوگھنٹے جاری رہا اور اجلاس میں متوقع شمولیتوں کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا اور سندھ کی سیاسی جماعتوں کے متعدد رہنماؤں کے ناموں پر اتفاق ہوا۔کمیٹی کے سربراہ لیاقت جتوئی نے کمیٹی کے سامنے متعدد رہنماؤں سے ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سندھ میںمسلسل بیٹ گورننس نے صوبے کو معاشی طور پر کمزور اور عوام کو بد حال کردیا اور صوبے کی معاشی ترقی کے لئے ایک اچھی حکومت کا خلاء موجود ہے جو انشاء اللہ تحریک انصاف پر کرے گی اور سندھ کو کرپشن فری اور مثالی صوبہ بنائے گی۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ شمولیت کے لئے متوقع ناموں کو منظوری کے لئے چیئرمین عمران خان کو بھیجے جائیں گے جس کے بعد باقائدہ شمولیت کا اعلان کیا جائیگا۔ اجلاس چیئرمین لیاقت جتوئی کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں عمران اسماعیل،ثمر علی خان، سید کاظم شاہ، ذولفقار ہالیپوٹو ، دیوان سچل نے شرکت کی ۔ کمیٹی کا اجلاس دو گھنٹے جاری رہا اور اجلاس میں متوقع شمولیتوں کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا اور سندھ کی سیاسی جماعتوں کے متعدد رہنماؤں کے ناموں پر اتفاق ہوا۔کمیٹی کے سربراہ لیاقت جتوئی نے کمیٹی کے سامنے متعدد رہنماؤں سے ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سندھ میںمسلسل بیٹ گورننس نے صوبے کو معاشی طور پر کمزور اور عوام کو بد حال کردیا اور صوبے کی معاشی ترقی کے لئے ایک اچھی حکومت کا خلاء موجود ہے جو انشاء اللہ تحریک انصاف پر کرے گی اور سندھ کو کرپشن فری اور مثالی صوبہ بنائے گی۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ شمولیت کے لئے متوقع ناموں کو منظوری کے لئے چیئرمین عمران خان کو بھیجے جائیں گے جس کے بعد باقائدہ شمولیت کا اعلان کیا جائیگا۔

Write on جمعہ, 22 ستمبر 2017

نیو یارک : ایرانی صدر حسن روحانی ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑے، جنرل اسمبلی میں امریکی صدر کی تقریر کو نفرت انگیز اور لا علمی پر مبنی قرار دے دیا۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے امریکی ہم منصب کو آڑے ہاتھوں لیا۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی تقریر نفرت انگیز، لا علمی پر مبنی اور جنرل اسمبلی کے لیے ناموزوں تھی۔ حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ایران عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی میں پہل نہیں کرے گا تاہم ایک نو آموز سیاست کی وجہ سے اگر یہ معاہدہ ختم ہو گیا تو وہ پوری دنیا کے لیے افسوس کا مقام ہو گا۔ معاہدے کے تحت ایران نے یورینیم کی افزودگی کو محدود کیا ہے اور بدلے میں ایران پر عائد معاشی پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں تاہم ٹرمپ نے معاہدے پر از سر نو غور کرنے کے لیے 15 اکتوبر کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

Write on جمعہ, 22 ستمبر 2017

ڈھاکہ: بنگلادیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کے لئے امداد لے جانیوالے ہلال احمر کے ایک ٹرک کے حادثے میں کم ازکم نو افراد ہلاک اور 10زخمی ہوگئے غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس حکام نے بتایا کہ سرحدی قصبے کاکس کے بازار میں ایک روہنگیا پناہ گزینوں کے لئے امدا لے جانیوالے ایک ٹرک ڈروئیور سے بے قابو ہوکر گہری کھائی میں جاگرا جسکے نتیجے میں 9افراد موقع پر ہلاک جبکہ 10زخمی ہوگئے ہلاک ہونیوالوں میں سے بیشتر مزدور تھے جو کہ پناہ گزینوں میں امداد تقسیم کررہے تھے زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال داخل کردیا گیا حادثے کی وجوہات تفصیلات کے مطابق بنگلادیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کے لئے امداد لے جانیوالے ہلال احمر کے ایک ٹرک کے حادثے میں کم ازکم نو افراد ہلاک اور 10زخمی ہوگئے غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس حکام نے بتایا کہ سرحدی قصبے کاکس کے بازار میں ایک روہنگیا پناہ گزینوں کے لئے امدا لے جانیوالے ایک ٹرک ڈروئیور سے بے قابو ہوکر گہری کھائی میں جاگرا جسکے نتیجے میں 9افراد موقع پر ہلاک جبکہ 10زخمی ہوگئے ہلاک ہونیوالوں میں سے بیشتر مزدور تھے جو کہ پناہ گزینوں میں امداد تقسیم کررہے تھے زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال داخل کردیا گیا حادثے کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں جاننے کیلئے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں

Write on جمعہ, 22 ستمبر 2017

نیویارک: شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی کو کتے کے بھونکنے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کتے بھونکتے رہتے ہیں مگر قافلے چلتے رہتے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی کو کتے کے بھونکنے سے تشبیہ د یدی۔یہ صدر ٹرمپ کے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران شمالی کوریا کو دی گئی دھمکی پر اس کا پہلا سرکاری ردعمل ہے۔امریکی صدر نے بدھ کو اپنے خطاب میں کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بنا تو اسے تباہ و برباد کر دیا جائے گا۔شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے اس بارے میں نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'وہ کہاوت ہے نا کہ کتے بھونکتے رہتے ہیں مگر قافلے چلتے رہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی صدر کا خیال ہے کہ وہ ہمیں بھونکتے ہوئے کتے کی آواز سے پریشان کر سکتے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔'صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے ان کے بارے میں کہا تھا کہ 'راکٹ مین خودکش مشن پر ہے۔کم جونگ ان کو راکٹ مین کہنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں شمالی کوریا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ' میں ان کے ساتھیوں سے اظہارِ افسوس کرتا ہوں۔شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہ جمعے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔خیال رہے کہ شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حال ہی میں جوہری ہتھیاروں کے تجربات کیے ہیں۔دو دن پہلے ہی شمالی کوریا نے متنبہ کیا تھا کہ اگر اس پر مزید پابندیوں اور دبا کا نتیجہ یہ ہو گا کہ 'ہمارے ایٹمی پروگرام میں مزید تیزی آ جائے گی'۔شمالی کوریا کی جانب سے سخت بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اس پر لگائی جانے والی نئی پابندیاں 'انتہائی برے، غیر اخلاقی اور غیر انسانی جارحیت ہے۔

Write on جمعہ, 22 ستمبر 2017

نیویارک: خالصتان تحریک کے حامی ہزاروں سکھوں نے نیویارک کے ٹائمز سکوائر میں بھارت مخالف ریلی نکالی۔ اس موقع پر انہوں نے بھارت مخالف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر آزادی کے نعرے بھی درج تھے۔ سکھوں نے اپنے مظاہرے کے دوران نہ صرف آزادی کا مطالبہ کیا بلکہ بھارت کودہشتگرد ریاست اور سکھوں کی قاتل سٹیٹ قرار دیا ۔سکھ مظاہرین نے عالمی برداری سے مطالبہ کیا کہ ان پر جاری بھارتی مظالم کا سلسلہ بند کرایا جائے اور 1984 کے گولڈن ٹیمپل سانحے میں مارے جانے والے سکھوں کے اہلخانہ کی انصاف کی فراہمی میں مدد کی جائے۔سکھ قوم فطرتاً امن پسند ہے، لیکن وہ ایک مدت سے ظلم کا شکار ہے۔ تقسیم سے قبل سکھوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے آل انڈیا نیشنل کانگریس کے راہ نماؤں نے سکھوں کو الگ ریاست کے خواب دکھائے، بعدازانہوں نے سکھوں ہی کو قانون شکن قراردے دیا۔ ان تمام عوامل نے سکھوں کو خالصتان تحریک چلانے پر مجبور کیا۔خالصتان تحریک سکھ قوم کی بھارتی پنجاب کو، بھارت سے الگ کر کے ایک آزاد سکھ ملک بنانے کی تحریک ہے۔ 1980 کی دہائی میں خالصتان تحریک اپنے عروج پر تھی جس کو بیرون ملک مقیم سکھوں کی مالی اور اخلاقی امداد حاصل تھی۔ تاہم 1984میں اُس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے آپریشن بلیو اسٹار کرکے اس تحریک کو منتشر کردیا تھا۔ سکھوں کی جانب سے خالصتان تحریک کے ساتھ پنجابی صوبے کا مطالبہ بھی عروج پر رہا۔ خالصتان تحریک اور اس کا پس منظر جانے کے لیے ہمیں سکھ مذہب کی تاریخ کا عمومی جائزہ لینا پڑے گا۔ سکھ مذہب کا آغاز تو پندرھویں صدی میں بابا گرُو نانک نے کیا۔

Write on جمعہ, 22 ستمبر 2017

لاہور: تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ یقین سے کہنا مشکل ہے بینظیر بھٹو کا قتل کس نے کیا لیکن قتل کروانے میں شواہد زیادہ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ہیں، مشرف نے بینظیربھٹو کو سکیورٹی بھی فراہم نہیں کی اور نہ ہی ان کو اپنی سکیورٹی لانے کی اجازت دی گئی اور ان کو سکیورٹی کے لئے جیمر بھی مہیا نہیں کئے گئے ،اقتدار میں ہونے کے باعث مشرف کی ذمہ داری تھی۔انہوں نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی پی سے کچھ ملین کے جیمر نہیں خریدے گئے لیکن ملک کی لیڈر کو مروا لیا ۔ 18اکتوبر کو جب بینظیر بھٹو تشریف لائی تھیں ان کو سمجھ جانا چاہے تھا کہ جیمر کام نہیں کر رہے بی بی کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے اس وقت بھی کچھ نہیں کیا گیا ۔ بینظیر بھٹو نے مشرف سے کہا تھا کہ میں اپنے سکیورٹی گارڈ باہر سے لانا چاہتی ہوں جو اپنے کام میں ماہر ہیں لیکن مشرف نے اس کی بھی اجازت نہیں دی ۔اور دوسری طرف مشرف نے بینظیر کو سکیورٹی فراہم کرنے سے بھی انکار کیا ہوا تھا جس روز ان کو قتل کیا گیا تھا اس میں کوئی بھی پولیس اہلکار موجود نہیں تھا ۔ انہوں نے گفتگو میں کہا کہ باقاعدہ طور پر مشرف اور بینظیر کے درمیان معاملات طے پائے تھے کہ آپ الیکشن کے بعد تشریف لائیں گی لیکن بینظیر بھٹو وطن الیکشن سے پہلے تشریف لائی جب مشرف نے 3نومبر2007کو ایمرجنسی نافذ کروائی تھی تو اس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ مشرف اور بینظیر ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چل سکتے ۔اس حوالے سے بھی مشرف کے خلاف بھی کافی شواہد موجود ہیں کہ بینظیر کو قتل کروانے میں مشرف کا ہاتھ ہو سکتا ہے ۔ لیکن جو بینظیر کو جس گاڑی میں قتل کیا گیا وہ گاڑی بھی ملک ریاض کی طرف مہیا کی گئی تھیں اس گاڑی میں روف ونڈو پہلے موجود نہیں تھی لیکن بعد میں روف ونڈو تیار کروائی گئی اور سب سے بڑی بات بی بی کا پوسٹ مارٹم بھی نہیں کروایا گیا جو کہ ساری ذمہ داری مشرف کی تھی لیکن اس وقت کچھ نہیں کیا گیا

Write on جمعہ, 22 ستمبر 2017

اسلام آباد :دفتر خارجہ نے بھارتی ہائی کمشنر گوتم بمباانوالا کو طلب کر کے ورکنگ باونڈری پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے 6پاکستانی شہریوں کی شہادت پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے ۔میڈ یا رپورٹس کے مطابق قائم مقام سیکریٹری خارجہ اعتزاز احمد نے بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کیا اور انہیں احتجاجی مراسلہ تھما یا ہے ۔واضح رہے کہ عالمی یوم امن کے دن ورکنگ باونڈری پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے4خواتین سمیت6افراد شہید جبکہ 26زخمی ہو گئے۔بھارتی فوج نے ورکنگ باﺅنڈری کے چاروا ،ہڑپال اور چھپار سیکٹر پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 6افراد شہید جبکہ 15خواتین اور 5بچوں سمیت 26شہری زخمی ہو گئے ۔

صفحہ نمبر 1 ٹوٹل صفحات 1202

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ