ہیڈلائنز


اپنے مختلف کرداروں کی وجہ سے اپنی ایک الگ شناخت رکھتی ہیں۔ تبو

Written by | روزنامہ بشارت

بالی وڈ کی معروف اداکارہ تبو فلموں میں اپنے مختلف کرداروں کی وجہ سے اپنی ایک الگ شناخت رکھتی ہیں۔ لیکن ان کے خیال سے فنکاروں کو ٹائپ كاسٹ کیا جاتا ہے۔

 بات کرتے ہوئے تبو نے کہا ’ہمیں بار بار ایک ہی جیسے کردار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔‘

فلموں کے انتخاب کے تعلق سے ایک سوال پر تبو کہتی ہیں ’زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ اگر آپ مزاحیہ فلمیں کریں گے تو آپ کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا اور اسی کی وجہ سے لوگ بھی ایک ہی طرح کی فلمیں کرنے لگتے ہیں۔‘

’چاچی 420‘، ’ہیرا پھیری‘ اور ’ساجن چلے سسرال‘ جیسی فلموں میں کام کر نے والی تبو کہتی ہیں کہ وہ کامیڈی فلموں میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں اور مزاحیہ فلمیں انھیں اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ 

انھوں نے کہا ’میں بہت دنوں سے ایک مزاحیہ فلم کرنا چاہتی ہوں، مجھے لگتا ہے لوگوں بھول گئے ہیں کہ میں نے ’بیوی نمبر 1‘ اور ’ساجن چلے سسرال‘ جیسی فلموں میں بھی کام کیا ہے۔‘

فلم کے ڈائریکٹرز کے انتخاب پر ان کا کہنا ہے کہ ’شاید فلم ہدایت کاروں کو بھی لگتا ہے کہ کہ تبّو کو لوگ سنجیدہ کردار میں دیکھنا پسند کرتے ہیں تو اسے ایسی فلموں میں ہی لیا جائے۔‘

وہ کہتی ہیں ’ہاں مجھے کافی غصہ آتا ہے لیکن غصہ کسے نہیں آتا، غلط باتوں پر غصہ آنا فطری بات ہے لیکن ہر بات پر اپنی رائے دینا بھی غلط ہے۔‘ 

سال 2015 میں آنے والی فلم ’درشيم‘ میں تبو کو ناظرین نے کافی پسند کیا تھا اور فلم کے مبصرین نے بھی ان کے کردار کے لیے کافی تعریف کی تھی۔

انعام اور اعزاز کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہوئے تبو کہتی ہیں ’میں نے آج تک کبھی ایوارڈ کو ذہن میں رکھ کر فلموں میں کام نہیں کیا، مل جائے تو ٹھیک نہ ملے تو بھی ٹھیک، میرا کام تو اداکاری کرنا ہے۔‘

ابھیشیک کپور کی ہدایت کردہ فلم ’ فتور‘ 12 فروری کو ریلیز ہو رہی ہے اس فلم میں تبو کے ساتھ اداکارہ قطرینہ کیف اور آدتیہ رائے کپور اہم کردار میں نظر آئیں گے۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ