ہیڈلائنز


20 سال گزر جانے کے باوجود سلطان راہی کے قاتلوں کا پتہ نہ چل سکا

Written by | روزنامہ بشارت

پاکستانی فلم انڈسٹری سلطان راہی کی 20ویں برسی آج منائی جارہی ہے، آج بھی وہ اپنے چاہنے والوں کے دِلوں میں زندہ ہیں۔

پنجابی فلموں کے سلطان اداکار سلطان راہی نے1938ء میں بھارتی شہر سہارن میں پیدا ہوئے، نہوں نے 1956 میں فلم انڈسٹری میں قدم رکھا اور 1959 میں ریلیز ہونے والی فلم “باغی” سے باقاعدہ طور پر اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا۔

گنڈاسا تھام کر دشمن کو للکارنے کا یہ انداز سلطان راہی نے ہی فلم انڈسٹری میں متعارف کروایا، ستر کی دہائی میں فلم “بشیرا” سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے اداکاری کی جس نے انھیں اسٹار بنا دیا۔

سن 1979 میں فلم “مولا جٹ” میں سلطان راہی اور مصطفی قریشی کی جوڑی فلم کی کامیابی کی ضمانت بنی اور انکی فلم مولا جٹ نے باکس آفس پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے، سلطان راہی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ بارہ اگست1981کو ان کی پانچ فلمیں شیر خان، ظلم دا بدلہ، اتھرا پتر، چن وریام اور سالا صاحب ایک ہی روز ریلیز ہوئی تھیں، جنہوں نے کامیابی کے ریکارڈ قائم کردیئے۔

سلطان راہی نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں بننے والی 750 سے زائد فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔

سات سو سے زائد اُردو اور پنجابی فلموں میں اداکاری کے جوہر دِکھانے پر سلطان راہی کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل کیا گیا اور150 سے زائد فلمی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

سلطان راہی 9جنوری 1996 کو اسلام آباد سے لاہور آ رہے تھے کہ گوجرانوالہ کے قریب نامعلوم افراد نے انہیں قتل کردیا، یہ امر قابل ذکر ہے کہ 20 سال گزر جانے کے باوجود ان کے قاتلوں کا پتہ نہیں چل سکا۔ وفات کے وقت بھی سلطان راہی کی54 فلمیں زیر تکمیل تھیں جو ایک ورلڈ ریکارڈ ہے۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ