ہیڈلائنز


راحت کا گانا ’’تینوں سمجھاواں کی‘‘ بھی بھارتی فلم میں نقل

Written by | روزنامہ بشارت

لاہور: بھارت کی فلم انڈسٹر ی میں آئندہ ماہ ریلیز ہونے والی فلم ’’ہمٹی شرما کی دلہنیا‘‘ میں گلوکار راحت فتح علی خان کی پنجابی فلم ’’ورثہ‘‘ کا سپرہٹ گیت’’تینوں سمجھاواں کی ‘‘ کو معمولی ردوبدل کے ساتھ گلوکار ارجیت سنگھ اور شریا گھوشال کی آواز میں ریکارڈ کرکے شامل کرلیا گیا۔

بالی وڈ فلموں میں مشہور پاکستانی فلمی گانوں کو کاپی کرنے کا رحجان ختم نہ ہوسکا ۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی پروڈیوسر اور ڈائریکٹر اپنی فلموں میں پاکستانی گلوکاروں کی آواز میں گانے ریکارڈ کرنے کے علاوہ مقبول پاکستانی فلمی گانے ہوبہو اپنی فلموں میں شامل کر رہے ہیں۔سال 2010ء کی بلاک باسٹر فلم ’’دبنگ‘‘ کا آئٹم سانگ ’’منی بدنام ہوئی ‘‘ عمرشریف کی1993ء میں ریلیز ہونے

والی فلم ’’مسٹر چارلی‘‘ کا گانا ’’لڑکا بدنام ہوا ‘‘ کو کاپی کیا گیا ۔ جس کے میوزک ڈائریکٹر کمال احمد تھے۔پاکستانی گلوکارہ نصیبولعل کا مشہور گیت ’’کدی تے ہس بول وے‘‘ کو پریتم نے فلم ’’لوآج کل‘‘میں شامل کیا۔ استاد نصرت فتح علی خان کا گانا’’غم ہے یا خوشی ہے تو‘‘ کو انوملک نے فلم ’’کارتوس‘‘ کے لیے الکا یاگنک اور ’’سانسوں کی مالا ‘‘ کو راجیش روشن نے فلم ’’کوئلہ‘‘ کے لیے کویتا کرشنا مورتی اور ندیم شیرون نے ’’ کنہا سوہنا تینوں رب نے بنایا ‘‘ کو الکا یاگنک اور ادت نارائن کی آواز میں ’’کتنا پیارا تجھے رب نے بنایا‘‘ ریکارڈ کیا ۔ آل ٹائم فیورٹ میوزک ڈائریکٹر آر ڈی برمن نے پاکستانی فلم ’’قربانی‘‘ کا گیت ’’ اس دن مجھ کو بھلا نہ جانا‘‘ کو فلم ’’سمندر‘‘ کے لیے کشور کمار اور لتا منگیشکر اور لکشمی کانت پیارے لال نے پنجابی فلم ’’ات خدا دا ویر‘‘ کا گیت ’’جدوں ہولی جئی لینا اے میرا ناں‘‘ کو ’’موم کی گڑیا‘‘ کے لیے کاپی کیا ۔ اب گیارہ جولائی کو ریلیز ہونے والی فلم ’’ہمٹی شرما کی دلہنیا‘‘ میں گلوکار راحت فتح علی خان کی پنجابی فلم ’’ورثہ‘‘ کا سپرہٹ گیت’’تینوں سمجھاواں کی ‘‘ کو معمولی ردوبدل کے ساتھ گلوکار ارجیت سنگھ اور شریا گھوشال کی آواز میں ریکارڈ کرکے شامل کرلیا گیا ہے جس کا میوزک شارب توشی اور کمار نے اسے لکھا ہے ۔ یہ گانا فلم میں اداکارہ عالیہ بھٹ اور وردن دھون پر ہی فلمایا گیا ہے جس کا آڈیو وڈیو لانچ ہونے سے پہلے عوام میں مقبول ہوچکا تھا۔ راحت فتح علی خان کے گانے کے نغمہ نگار احمد انیس اور میوزک ڈائریکٹر جواد احمد تھے یہ فلم 2010ء میں ریلیز ہوئی تھی جس میں جواد احمد نے یہ گانا راحت فتح علی خان کی سولو آواز کے ساتھ فرح انور کے ساتھ دوگانے کی صورت میںبھی ریکارڈ کیا تھا اور یہ دونوں گیت ہی سپرہٹ ہوئے تھے ۔ پنجابی فلم ’’ورثہ‘‘ میں یہ گانے ہیروئن مہرین راحیل اورآریا ببر پر فلمائے گئے تھے ۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ