ہیڈلائنز


شہرت کے آسمان پر چمکتی فلمسٹار حسینائیں اس مقام تک پہنچنے کی کیا قیمت ادا کرتی ہیں

Written by | روزنامہ بشارت

شہرت کے آسمان پر ستاروں کی طرح چمکتی فلمسٹار حسینائیں اس بلند مقام تک پہنچنے کی کیا قیمت ادا کرتی ہیں اس کا اندازہ مشہور اداکارہ سروین چاولہ کے چشم کشا اعتراف سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ سروین چاولہ نے 2014ءمیں اپنی پہلی فلم ہیٹ سٹوری 2 میں انتہائی بولڈ ایکٹنگ سے خوب شہرت کمائی۔ ان کی خوبصورتی اور اداؤں کے دیوانے لاکھوں ہیں جو ان کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب رہتے ہیں،مگر ایک وقت ایسا بھی تھا کہ جب وہ ایسی مشہور نہ تھیں اور بالی ووڈ کی دنیا میں قدم رکھنا ان کا خواب تھا۔ سروین نے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ اس دور میں انہیں بھی یہ شرمناک الفاظ سننا پڑے کہ فلم میں کام چاہئیے تو عزت بیچنا ہو گی۔ ویب سائٹ سپاٹ بوئے پر شائع ہونے والے انٹرویو میں انہوں نے اعتراف کیا کہ فلمسٹار بننے کے بدلے ان سے ڈائریکٹروں اور پروڈیوسروں کے بستروں کی زینت بننے کا مطالبہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا ”اوہ ہاں، لیکن حیرت کی بات ہے یہ بالی ووڈ میں نہیں ہوا، یہ ساؤتھ کی انڈسٹری میں ہوا۔ میں نے بالی ووڈ کا برا روپ ابھی نہیں دیکھا۔ مجھے لگتا ہے کہ میرے اردگرد حفاظت کرنے والی قوتیں ہیں۔“ان سے کئے جانے والے شرمناک مطالبات کا ذکر ہوا تو کہنے لگیں، ”مجھے ان فون کالز اور ٹیکسٹ میسجز کی یاد مت دلاؤ، میں ان کے ہاتھ لگنے والی نہیں تھی ، میں صحیح قسم کا کام ملنے کا انتظار کرتی رہی۔ آپ کو اس انڈسٹری میں کچھ خوش قسمتی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔“اپنی فلم ہیٹ سٹوری ٹو کی کامیابی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس فلم میں ان کے بولڈ کردار کے بعد فلمسازوں اور ڈائریکٹروں نے انہیں ایک خاص نظر سے دیکھنا شروع کردیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں ہمیشہ بولڈ کرداروں کی پیشکش کی جاتی ہے جس پر وہ سیخ پا ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے اپنی مایوسی اور تلخی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ”فلمساز اس سے آگے کیوں نہیں دیکھ سکتے اور یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ ایکٹر کیا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟“

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ