ہیڈلائنز


آج کے قاتل لہواورلوہے سے تاریخ لکھتے جارہے ہیں

Written by | روزنامہ بشارت

بھارتی ٹی شوآپ کی عدالت کے میزبان نے اداکارنوازالدین صدیقی سے پوچھاکہ آپ بیکارکے جھگڑوں میں پڑتے ہیں ۔آپ نے اپنے بیٹے کی تصویرکنہیاکمارکے روپ میں سوشل میڈیاپرلگادی ۔اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ اسلام کے خلاف ہے آپ کے خلاف فتویٰ جاری ہوگا۔جس کے جواب میں اداکارنوازالدین صدیقی نےکہاکہ میں صرف اتناجانتاہوں کہ میرے بچے نے سکو ل میں پہلی بارپرفارم کیا۔بطورباپ مجھے خوشی ہوئی جیسے ہرباپ کوہوتی ہے اوراس نے کاہناکارول کیا۔اورمیں نے اس کی تصویرسوشل میڈیاپرڈالی اس میں فتویٰ کی بات توکوئی نہیں ہوسکتی ۔میزبان نے کہاکہ آپ خودایسی متنازعہ باتیں کرتے ہیں جب سونونگم نے آذان کے بارے میں بولاتھاکہ جب آذان ہوتی ہے تومیری آنکھ کھل جاتی ہے۔توآپ نے اپناایک میسیج فیڈکردیاتھاایسالگاتھاکہ آپ سونونگم کے خلاف ہیں ۔نوازالدین نے کہاکہ میں ان کے خلاف نہیں میں ہرمذہب کی عزت کرتاہوں لیکن میری جوخودکی شناخت ہے میں ایک اداکارہوں۔میں فخرمحسوس کرتاہوں اس کی وجہ سے میں نے پوسٹ کیاتھا۔میزبان نے کہاکہ ملک کاجوماحول ہے اس کی وجہ سے یہ سوال اٹھتاہے ۔اداکارنے کہاکہ میں نے کسی کوبرانہیں کہامیں نے توتمام مذاہب کی عزت کی ۔کیونکہ میں اس وقت منٹوکررہاتھااوراوران کےجوخیالات تھے اس پوسٹ میں میں نے ان کوڈال دیا۔میزبان نے سوال کیاکہ کیاخیالات تھے منٹوصاحب کے ۔نوازالدین صدیقی نے کہاکہ ہندوستان زندہ باد،پاکستان زندہ باد۔ان چیختنے چلاتے نعروں کے بیچ میں کئی سوال ۔میں کسے اپناملک کہوں لوگ دھڑادھڑ کیوں مررہے تھے ۔ان سوالوں کے مختلف جواب تھے ایک ہندوستانی جواب اورایک پاکستانی جواب ۔ایک ہندوجواب اورایک مسلمان جواب۔کوئی اسے 1857کی جنگ میں ڈھونڈتاہے توکوئی ایسٹ انڈیاکمپنی کوذمہ دارٹھہراتاہے ۔ایسے بھی لوگ ہیں جواسے مغلیہ حکومت کے ملبے میں ٹٹولنے کی کوشش کرتے ہیں ۔یہ سب پیچھے دیکھتے ہیں لیکن آج کے قاتل لہواورلوہے سے تاریخ لکھتے جارہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ