ہیڈلائنز


حسینائیں مختلف فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہتی ہیں

Written by | روزنامہ بشارت

کیپ ٹاﺅن: ملکی و عالمی مقابلہ ہائے حسن جیتنے والی حسینائیں مختلف فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہتی ہیں۔ گزشتہ دنوں ’مس جنوبی افریقہ‘نے بھی ایڈز کے مریض، یتیم بچوں کے لیے ایک چیئرٹی ایونٹ میں شرکت کی لیکن وہ ایک ایسی چیز پہن کر وہاں بچوں سے ملتی رہی اور انہیں کھانا پیش کرتی رہی کہ انٹرنیٹ پر ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 22سالہ ڈیمی لیف نیل پیٹرز تقریب میں دستانے پہن کر بچوں سے ہاتھ ملاتی اور انہیں کھانا دیتی رہی۔ ایونٹ کی تصاویر منظرعام پر آئیں تو انٹرنیٹ صارف غضبناک ہو گئے اور انہیں ’نسل پرست‘ قرار دینے لگے۔

 


صارفین کا کہنا ہے کہ ”اگر مس جنوبی افریقہ کو سیاہ فام بچوں سے ہاتھ ملانا گوارا نہیں تھا تو ایونٹ میں شرکت ہی نہ کرتی۔“ اس الزام کے جواب میں ڈیمی لیف کا کہنا تھا کہ ”میں نے حفظان صحت کا خیال رکھنے کی غرض سے دستانے پہنے تھے۔“ تاہم لوگ ان کا یہ جواز قبول کرنے کو تیار نہیں۔ انٹرنیٹ صارفین دستانے پہن کر مختلف کام کرتے ہوئے تصاویر شیئر کر رہے ہیں اور طنزاً کہہ رہے ہیں کہ وہ بھی حفظان صحت کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ ٹومی مجادی بوڈو نامی لڑکی نے دستانے پہن کر کمپیوٹر استعمال کرتے ہوئے تصویر پوسٹ کی اور لکھا کہ”میں آج آفس میں کام کر رہی تھی کہ اچانک مجھے خیال آیا کہ حفظان صحت اولین ترجیح ہوتی ہے، چنانچہ میں نے دستانے پہن لیے۔“سولڈاٹ فیکو نامی صارف نے دستانے پہن کر کپڑے دھوتے ہوئے اپنی تصویر پوسٹ کی ہے اور مس جنوبی افریقہ کے اس بیان کا تمسخر اڑایا ہے۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ