ہیڈلائنز


آج کل پاکستانی ماڈلز میں نخرے ہیں

Written by | روزنامہ بشارت

یہ کہنا بے جا ہوگا کہ پاکستانی ماڈلز کو شہرت نہیں ملتی لیکن ایک بات ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اس حدتک مشہورنہیں ہوسکیں جتنی ماضی میں ونیزہ احمد کو شہرت ملی جن کا شمار ماڈلنگ انڈسٹری کو متعارف کرانے والوں میں ہوتاہے ، ماڈلنگ کو خیرباد کہنے کے بعد ونیزہ احمد نے اپنا گارمنٹس برانڈ متعارف کرایا۔ماڈلنگ میں آنے کے خواہشمندنوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ونیزہ احمد(ونی ) کاکہناتھاکہ آج پروفیشنلزم کی کمی ہے ، ہماری ماڈلز کوکام کی مقدار کے بجائے کوالٹی پر توجہ دینی چاہیے ، ہم اپنے دورمیں پہلے ہی ریہرسل کرتے تھے لیکن آج کل لڑکیاں چار گھنٹوں سے زائد آنے کو بھی تیار نہیں حتیٰ کہ فیشن ویک کیلئے بھی نہیں، اب جو کچھ میں نے دیکھاہے ، وہ لڑکیوں کے صرف نخرے ہیں۔

ایکسپریس ٹربیون کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ونیزہ احمد نے بتایاکہ ’ہمارے وقت میں ماڈل ہونا بھی جنگ سے کم نہیں تھا، یہ اپنے خاندان اور سوسائٹی کیخلاف جنگ تھی اور میرا خیال ہے کہ اپنے کیریئرکے عروج پر میں یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہی کہ ماڈلنگ کوئی بری انڈسٹری نہیں، ان دنوں نوجوان کو کیریئرکے لیے صرف تین آپشن دیئے جاتے تھے جن میں میڈیسن، انجینئرنگ یا ٹیچنگ تھی، آپشنز میں بھی ماڈلنگ کا تصور نہیں تھا‘۔شایدیہی وجہ تھی کہ میرے ہم  عصروں میں سے نادیہ حسین ایک ڈنٹسٹ تھیں ، عالیہ زیدی ایم بی اے کررہی تھیں اور عرج سکول میں تھیں ، ہم کو بحیثیت ماڈل بہت سخت محنت کرنا پڑی اور آپ خود تصور کریں کہ اس وقت صرف دو چینلز اور چارمیگزین موجود تھے ، اب حالات مختلف ہیں، اب لوگ آتے ہیں اور مجھے کہتے ہیں کہ ماڈلنگ میں آگے آنے کے لیے میری بیٹی کی مدد کریں، میرے خیال میں فیشن انڈسٹری بالخصوص پاکستان میں اس میں زندہ رہنا بہت آسان ہے ، ماڈلز کے لیے ریمپ پر واک ، میگزین شوٹس، کمرشل ، ٹی وی سیریل اور فلمی پلیٹ فارمز موجود ہیںاور بیشتر ماڈلز پیسہ چھاپ رہی ہیں، اگر مقتولہ قندیل بلوچ اپنے آپ کو ماڈل کہہ سکتی تھیں تو کوئی بھی کہہ سکتاہے ، معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ماڈل کہلاسکتی ہے یانہیں۔


یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ونیزہ احمد وہ پہلی پاکستانی ماڈل تھیں جنہوں نے عالمی ڈیزائنرز کیساتھ ریمپ پر واک کی ، دوبچوں کی ماں 45سالہ ونیزہ احمد ن ے بتایاکہ مجھے یقین ہے کہ ماڈلنگ چھوڑنے کا کوئی بھی مثالی وقت نہیں، پاکستان میں ہر کوئی 16سال کی ہی رہنا چاہتی ہے لیکن میں ذہنی و جسمانی طورپر اپنی اوائل عمری کی نسبت کہیں زیادہ تندرست ہوں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ عارف محمود، ٹپوجویری، اطہرشہزاد، طارق امیدن اور خاور ریاض سمیت ہم سب انڈسٹری کا حصہ تھے ، آج بھی یادرہے کہ ہم تمام ماڈلزایک سوزوکی وین میں شوکے لیے فیصل آباد گئے تھے جہاں فیس کی بجائے ہمیں صرف ایک ایک سوٹ دیاگیا، اسی طرح پہلے میگزین شوٹ کے لیے مجھے بدلے میں لان کا سوٹ دیاگیا تھا لیکن اس کے باوجود ہم نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے کام پر توجہ رکھی ۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ