ہیڈلائنز


خوبرو حسیناﺅں کی تہلکہ انگیز پرفارمنس ان کے قتل میں اضافہ کا باعث

Written by | روزنامہ بشارت

شہرت کی بلندیوں اور دولت کی ہوس نے سٹیج اور فلموں کی مشہور اداکاروں کو جرائم پیشہ افراد سے مراسم پید اکرنے پر مجبور کردیا، ذاتی تحفظ اور مفت خوروں سمیت پروڈیوسروں سے لی گئیں رقوم واپس نہ کرنے پر کئی بے دردی سے قتل کردی گئیں۔ کینیڈا، دبئی اور ربطانیہ جانے کے چکروں میں بیشتر قحبہ خانوں کی زینت بن گئیں،پولیس افسران اور سیاسی افراد تحفظ فرام کرنے کی آڑ میں بلیک میل ہونے والی اداکاراﺅں سے نجی محفلیں سجانے لگے، ماضی میں بھی خوبرو اداکارائیں شدت پسند عاشقوں سے بچنے کیلئے جرائم پیشہ افراد سے مراسم رکھتی رہی ہیں۔

روزنامہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق شوبز انڈسٹری میں شامل ہونے والی خوبرو حسیناﺅں کی تہلکہ انگیز پرفارمنس کےساتھ شہر میں قتل و غارت گری کے واقعات میں بھی اضافہ کا باعث بن رہا ہے جہاں خوبرو اداکارائیں اپنے تحفظ اور  جمع کی گئی دولت کو بچانے کیلئے شہر میں جرائم پیشہ افراد سے تعلقات رکھنے پر مجبور ہوگئیں ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ تحفظ فراہم کرنے والے اداروں کی جانب سے کسی بھی قسم کی کارروائی نہ ہونے پر فلم، ڈرامہ اور سٹیج پر پرفارم کرنے والی ماضی کی اداکاراﺅں نے اس روایت کو جنم دیا۔ جہاں پراپرٹیوں کو تحفظ دینے کیلئے گلبرگ کی رہائشی مشہور ادکاراﺅں نے اندرون شہر کے ایسے جرائم یشہ افراد سے مراسم پید اکئے جن کا اثر و رسوخ عوام کے ساتھ محکمہ پولیس میں بھی تھا جبکہ اس روایت نے 80ءکی دہائی میں آنے والی حسیناﺅں اور مشہور فلموں کی اداکاراﺅں کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہوئے بازار حسن سے تعلق رکھنے والے جرائم پیشہ افراد کو شوبز کی دنیا میں لے آئے جہاں پہلے کلاشنکوف اور پجاروکلچر نے 80ءاور 90ءکی دہائی کے بعد فلموں ڈراموں میں کام کرنے والی مشہور اداکاراﺅں سے تحفظ کی فراہمی، ٹیکس چوری سے بچنے اور پوش علاقوں میں گھر بنانے کیلئے بھی جرائم پیشہ افراد سمیت سرکاری اداروں میں تعینات افسر شاہی سے مراسم بنانے پر مجبور کیا تاہم اس دور میں کئی اداکارائیں انہی وجوہات کی بنا پر جان کی بازی ہارگئیں۔ 
2000ءکے بعد مسلسل 15 سالوں سے شوبز کی اس دنیا میں جہاں عریانی اور دولت کی چمک بڑھ گئی وہاں نت نئے چہرے بھی متعارف ہوگئے۔ نئے جرائم پیشہ افراد پیدا ہوگئے اور اس کی پہلی کڑی سٹیج اداکارہ نرگس کی جانب سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے کے ساتھا پنی نجی زندگی میں اپنے معاشقوں اور قربت رکھنے والے دوستوں سے جان چھڑوانا تھا، جس کے لئے کئی پولیس والے بھی اس میں کود پڑے اور نرگس کی زندگی میں ایک دردناک واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد اس صلح کیلئے کئی جرائم پیشہ اس واقعہ میں ملوث ہوئے اور بڑی بڑی پنچایتیں لگائی گئیں جس کے بعد لاہور میں سٹیج کو اس وقت زوال آیا مگر گوجرانوالہ میں فحاشی اور عریانی نے شہرت پکڑی جہاں مشہور سٹیج اداکارہ صائمہ خان نے شہرت حاصل کرنے کے بعد لاہور میں قدم جمائے تو جرائم پیشہ افراد بھی اس کے پیچھے ہوگئے اور لاہور میں سٹیج پر اداکاروں کے درمیان سبقت حاصل کرنے اور پروڈیوسر سے قربت لینے کیلئے چپقلش شروع ہوگئی اور اداکاراﺅں کی جانب سے جرائم پیشہ افراد کو بھی لاہور کی سٹیج انڈسٹری میں بطور پرموٹر شامل کرتے ہوئے خان خرابے کی نئی روایت پیدا کردی جہاں اداکاراﺅں کو اپنے ڈراموں میں لانے کیلئے پرائیویٹ شوٹر کی خدمات حاصل کرنی پڑی جس کا پہلا شکر اداکارہ صائمہ خان تھی جس کی ٹانگ میں گولی مار کر شدید زخمی کردیا گیا اور اس کے بعد وہ کافی عرصہ تھیٹر سے دور رہیں۔

پروڈیوسروں سے ایڈوانس رقوم حاصل کرنے ، من پسند تھیٹر میں ڈرامہ لگانے اور ڈراموں میں کام نہ کرنے پر پروڈیوسروں کی جانب سے اداکاراﺅں کو ڈرانے کیلئے گھروں پر فائرنگ جیسے واقعات معمول بن گئے جس میں دبئی میں رہنے والے جرائم پیشہ افراد کی خدمات کو حاصل کیا جاتا رہا۔ ان سے متاثرہ اداکارہ خوشبو، ندا چوہدری، ماہ نور اور گلوکارہ سائرہ نسیم کے گھروں پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی لیکن اس میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ تھیٹر کی دنیا میں جرائم پیشہ افراد اور پولیس کی مداخلت اس وقت اتنی بڑھ چکی ہے کہ اب گھروں پر فائرنگ کے ساتھ متعدد اداکاراﺅں کو غوا کرنے کا سلسلہ بھی زور پکڑچکا ہے لیکن سٹیج ڈراموں سے وابستہ پروڈیوسروں اور فنکاروں کی ملی بھگت سے ایسے واقعات کو جان بوجھ کر منظر عام پر نہیں لایا جاتا اور نہ ہی اس سلسلہ میں کوئی قانونی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ فلم اور تھیٹر کی خوبرو اداکاراﺅں کے محکمہ پولیس کے افسران سے ذاتی مراسم ہونے  کے ساتھ سیاسی افراد سے وابستگی ہونے پر بلیک میلنگ اور نجی محفلوں میں مجرے کرنے پر حسد نے بھی جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں قتل یا تشدد جیسے واقعات کا سامنا ہے۔ 
دوسری جانب جس طرح سے کئی برس قبل قتل ہونے والی اداکاراﺅں کے کیس فائلوں میں بند رہیں گے اسی طرح آنے والے دنوں میں بھی بہت سی اداکارائیں اور رقاصائیں قتل ہوں گی، مگر اس سلسلے کو روکنے والا کوئی نہ ہوگا۔ اداکارہ نرگس، صائمہ کان، ہنی شہزادی، ندا چوہدری اور ماہ نور کے نام قابل ذکر ہیں جبکہ رواں ماہ قتل ہونے والی اداکارہ قسمت بیگ اس حوالے سے بدقسمت اداکارہ تصور کی جاتی ہے کیونکہ انہیں نہ صرف متعدد بار بلیک میل کیا گیا بلکہ تھیٹر سے آﺅٹ کرانے کے لئے دباﺅ بھی ڈالا گیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہیں دباﺅ میں رکھنے کے لئے فائرنگ کرائی گئی لیکن وہ جان کی بازی ہارگئیں۔ اسی طرح اداکارہ ہنی شہزادی پر اس وقت قاتلانہ حملہ کیا گیا جب وہ اپنے گھر پر موجود تھیں۔ 
تھیٹر و فلم ٹی وی اداکاراﺅں کی دوستیاں محکمہ پولیس خصوصاً سی آئی اے کے انسپکٹروں اور سب انسپکٹرز سے بھی ہوتی ہیں جو انہیں جرائم پیشہ افراد سے مراس بڑھانے کیلئے زور دیتے ہیں اور ان کی کسی بھی موقع پر گرفتاری کیلئے ان حسیناﺅں کا سہارالیتے ہیں جس کی مثال ماضی کے ٹاپ ٹین عاطف چوہدری، طاہر پرنس، نوید لمبی والا سمیت جعلی مقابلوں میں پار ہونے والے ٹاپ ٹین ہیں جنہیں خوبرو خواتین کی مدد سے گرفتار کیا گیا جبکہ ایسے پولیس اہلکار بھی محکمہ میں موجود ہیں جو حسیناﺅں کو جرائم پیشہ افراد سے مراسم کے ساتھ انہیں جرائم کرنے پر بھی مجبور کرتی ہیں اور بعدازاں شہروں میں جرائم فگر بڑھنے پر ان جرائم پیشہ افراد کو بااسانی حسیناﺅں کی مدد سے گرفتار کرلیا جاتا ہے

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ