ہیڈلائنز


اسٹیج ڈراموں میں آج بھی سکندر صنم کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی ہے

Written by | روزنامہ بشارت

 خوشیاں اور مسکراہٹیں بکھیرنے والے معروف پاکستانی کامیڈین سکندر صنم کو ہم سے بچھڑے چار برس بیت گئے آج 5 نومبر کو اُن کی چوتھی برسی منائی جارہی ہے۔ غریب گھرانے میں آنکھ کھولنے والے سکندر صنم نے گھریلو حالات کے باعث بہت کم عمری میں ایک فیکٹری میں مزدوری شروع کی تاہم بعد ازاں انہیں اپنے اندر چھپی صلاحیتیں دکھیں اور انہوں نے شوبز کا انتخاب کیا۔ کراچی کے علاقے کھارادر میں 1960ء میں پیدا ہونے والے سکندر صنم نے 1981ء میں اسٹیج کی دنیا میں قدم رکھا اور پھر آخری ایام تک اُسی سے وابستہ رہے، آپ نے کیرئیر کا آغاز بطور گلوکار کیا تاہم عمر شریف سے دوستی ہونے کے بعد دونوں فنکاروں نے مختلف تقریبات میں اسٹیج کامیڈی کا آغاز کیا۔ دو مسخروں کی اس جوڑی سے لوگ اتنا محظوظ ہوئے کہ اگر کسی ڈرامے میں کوئی ایک فرد کم ہوتا تو عوام کی دلچسپی اُس میں کم ہی ہوتی۔ سکندر صنم نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اپنے فن کی وجہ سے پہچانے جانے لگے۔ سکندر صنم کو اُس وقت زیادہ پذیرائی ملی جب انہوں نے بھارتی فلموں کی پیروڈی کو مزاحیہ انداز میں تیار کیا جن میں کھل نائیک، تیرے نام 2، گجنی 2، منا بھائی وغیرہ جیسی فلمیں بنائیں اور لوگوں کو ہنسنے کا موقع فراہم کیا۔ دنیا بھر میں غموں کو دور اور اُن میں مسکراہٹیں بانٹنے والا یہ فنکار جگر کے کینسر میں مبتلا ہوا اور 5 نومبر 2012 کو مداحوں کی آنکھوں میں آنسو چھوڑ گیا۔ اسٹیج ڈراموں میں آج بھی سکندر صنم کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ