ہیڈلائنز


جینیفر لارنس: غربت سے عروج تک کیسے پہنچی ؟

Written by | روزنامہ بشارت

 جنیفر لارنس مسلسل دو برسوں سے سب سے زیادہ آمدنی کمانے والی اداکارہ قرار پائی ہیں اور صرف 26 سال کی عمر میں ہولی وڈ کا لگ بھگ ہر اعزاز اپنے نام کرچکی ہیں۔

تاہم آسکر ایوارڈ یافتہ اس اداکارہ نے اس کے لیے بہت لمبا سفر طے کیا ہے کیونکہ وہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھیں۔

امریکی ریاست کنٹکی سے تعلق رکھنے والی جنیفر لارنس ایک چھوٹے سے فارم ہاﺅس میں پلی بڑھی جو ان کے والدین کا تھا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنے والد کے خاندان میں وہ پہلی لڑکی تھی جس کی پچاس سال بعد پیدائش ہوئی۔

اس فارم ہاﺅس میں ان کے والدین غیر تربیت یافتہ گھوڑوں کو پالتے تھے کیونکہ وہ سستے ہوتے تھے اور یہ خاندان ڈاکٹر کے پاس جانا بہت برا سمجھتا تھا، یہی وجہ ہے کہ گھوڑے سے گرنے پر بھی جنیفر لارنس کو ڈاکٹر کو نہیں دکھایا گیا۔

بچپن سے ہی شوخ مزاج اور چنچل جنیفر کے لیے اسکول میں وقت گزارنا مشکل ہوتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ 14 سال کی عمر میں وہ ایک ماڈلنگ ایجنٹ کے نظروں میں آنے کے بعد نیویارک منتقل ہوگئیں۔

ہنگر گیمز اسٹار نے اداکاری کے کیرئیر کو آگے بڑھانے کے لیے نیویارک منتقل ہونے کے بعد کا احوال بتایا۔

ان کے بقول ‘ نیویارک آکر میں اور میرا بھائی ایسے خوفناک اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ہوئے جو چوہوں سے بھرا ہوا تھا، جبکہ والدین ہم دونوں کو چھوڑ کر چلے گئے تھے اور ہمیں لگتا تھا کہ جیسے ہم مرنے والے ہیں’۔

ہاتھ میں پیسے نہ ہونے کے باعث جنیفر لارنس نے اس اپارٹمنٹ کو ایک جہنم قرار دیا جہاں گرم پانی یا کچن کی سہولت تک موجود نہیں تھی۔

جنیفر لارنس کے مطابق ‘ میرے پاس پیسے نہیں تھے تو اگر کوئی چوہا میرے اپارٹمنٹ واپس پہنچنے سے پہلے بریڈ کا کوئی ٹکڑا کھا لیتا تو پوری بریڈ پھینکنا پڑتی مگر بتدریج میرا حال یہ ہوگا کہ میں اسے ہی یہ کہہ کر کھانے لگی کہ خدا میں مزید کسی بریڈ کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتی’۔

جنیفر لارنس وہ آہستہ آہستہ چوہوں کے ساتھ رہنے کی عادی ہوگئی تھیں۔

ان کے بقول ‘ میں اس مرحلے تک پہنچ گئی تھیں کہ اپنا کھانا ایک چوہے کے ساتھ شیئر کرنے لگی تھی، رات خوفناک ہوتی تھی کیونکہ چوہے ہر جگہ سے باہر نکل آتے تھے اور میں باتھ روم تک نہیں جا پاتی تھی، مگر آج سب کچھ بدل چکا ہے اور زندگی اسی طرح بدلتی ہے’۔

بتدریج انہیں اشتہارات ملنا شروع ہوگئے اور پھر 2006 سے 2008 تک ٹی وی ڈراموں سے انہیں شہرت ملی، جس کے بعد گارڈن پارٹی ان کی پہلی فلم تھی جو 2008 میں ریلیز ہوئی۔

تاہم انہیں شہرت 2010 کی فلم ونٹر بون سے ملی جو آسکر کے لیے بھی نامزد ہوئی، اس فلم کے بعد ہی انہیں ایکس مین سیریز اور ہنگر گیمز سیریز کی فلموں میں اہم کرداروں میں کاسٹ کرلیا گیا۔

اس طرح ان کا عروج شروع ہوا ور 2012 کی فلم سلور لائننگ پلے بک پر انہوں نے آسکر ایوارڈ بھی اپنے نام کرلیا۔

اب وہ متعدد کامیاب فلموں میں کام کرچکی ہیں اور رواں سال 46 ملین ڈالرز کما کر سب سے زیادہ آمدنی والی اداکارہ قرار پائی ہیں جبکہ 2016 کے آخر میں ان کی ایک سائنس فکشن فلم پسینجرز ریلیز ہونے والی ہے جسے ناقدین نے ابھی سے کامیاب قرار دینا شروع کردیا ہے

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ