ہیڈلائنز


جنوبی ایشیاءکی 50 فیصدلڑکیاں چھوٹی عمر میں بیاہی جاتی ہیں :اقوام متحدہ

Written by | روزنامہ بشارت
نیویارک (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کی لڑکیوں کی نصف تعداد کی شادی 18 سال سے کم عمر میں ہوجاتی ہے ،اس رحجان کو لڑکیوں کے ساتھ نمایاں غیر مساوی سلوک قرار دیا گیا ہے۔عالمی ادارے کی بہبود اطفال کی ایجنسی یونیسیف کی شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں یہ

انکشاف کیا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کے خطے میں اس 21ویں صدی میں بھی ہر سال ایک ملین نو زائیدہ بچے صحت کے ناقص نظام کے سبب دنیا میں آتے ہی دم توڑ دیتے ہیں۔جنوبی ایشیا کی یونیسیف کی ریجنل ڈائریکٹر کارین ہلسہوف نے اس بارے میں اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماضی کی طرح اب بھی جنوبی ایشیا حاملہ خواتین اور بچوں کو جنم دینے کے عمل کے تناظر میں دنیا کے خطرناک ترین خطوں میں سے ایک ہے اور ماں کی اموات کی تعداد کے اعتبار سے جنوبی ایشیا دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے، اب بھی جنوبی ایشیائی ممالک میں ایک بڑی تعداد میں کم سن بچیوں کی شادیاں کر دی جاتی ہیں اور پیدائش سے پہلے ہی موت کے گھاٹ اتار دی جانےوالی بچیوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنسی امتیاز کی بنا پر بچے کی پیدائش کا فیصلہ کرنے کے رواج کے پیچھے لڑکوں کے حق اور لڑکیوں کےخلاف صنفی تعصب کا ہاتھ ہے۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ