ہیڈلائنز


ایان علی کیخلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ،کسٹم انٹیلی جنس کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

Written by | روزنامہ بشارت
 راولپنڈی: کسٹم‘ ٹیکسیشن اور انسداد سمگلنگ راولپنڈی کی خصوصی عدالت کے جج رانا آفتاب احمد خان نے کرنسی سمگلنگ کیس میں مشہور ماڈل ایان علی کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے کے اندراج کیلئے کسٹم انٹیلی جنس کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جبکہ ایان علی کے خلاف پہلے سے زیر سماعت کرنسی سمگلنگ کیس کی سماعت بھی 28 اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔ جمعرات کے روز سماعت کے موقع پر ایان علی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ اور کسٹم کے وکیل عون محمد نے کسٹم انٹیلی جنس کی جانب سے منی لانڈرنگ کے نئے مقدمے کے اندراج پر بحث مکمل کر لی۔ اس موقع پر ایان علی کے وکیل لطیف کھوسہ نے موقف اختیار کیا کہ کسٹم حکام کی تفتیش سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ملزمہ کے پاس جو غیر ملکی کرنسی تھی وہ اس نے ذاتی جائیداد کی فروخت سے حاصل کی اور ملزمہ اس کرنسی کی مالکہ تھی اس طرح پکڑی گئی رقم نہ تو قومی خزانے سے چوری گئی نہ ہی منشیات سمگلنگ  سے حاصل کی گئی اور نہ ہی کرپشن اور بدعنوانی کا کوئی الزام ہے۔ اس طرح اس کیس میں وفاقی یا صوبائی حکومت نہ کوئی محکمہ یا سرکار اور نہ ہی کوئی فرد واحد شکایت کنندہ یا کسی کا دعویدار ہے اور جب ملزمہ سے 13 اور  14مارچ 2015ء کی درمیانی رات گئے 5 لاکھ ڈالر سے زائد کی یہ رقم برآمد کی گئی اس کے بعد یکم اپریل 2015ء کو محض ایک ایس آر او کے تحت قانون میں تبدیلی کی گئی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ محض ذاتی عناد کی بنیاد پر ایان علی کو شکنجے میں جکڑا گیا اس کیلئے آئینی و قانونی طور پر کوئی ترمیم بھی نہیں کی گئی۔ حالانکہ پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز  ایکٹ کے تحت غیر ملکی کرنسی پاس رکھی جا سکتی ہے۔ لہذا اس پوزیشن میں مقدمہ نہ پہلے درج ہو سکتا تھا نہ اب درج ہو سکتا ہے کیونکہ ایس آر او کے تحت قانون میں ترمیم کے 15 دن بعد 16 اپریل 2015ء کو کسٹم حکام نے منی لانڈرنگ مقدمے کی درخواست دائر کی جبکہ اس وقت یہ قابل دست اندازی جرم نہیں تھا۔ قبل ازیں کسٹم کے وکیل عون محمد نے منی لانڈرنگ ایکٹ کی سیکشن دفعہ 3 اور 20 کا حوالہ دیتے ہوئے ایان علی کی جائیداد سے متعلق دستاویزات عدالت میں پیش کیں جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ جو  دستاویزات آپ دے رہے ہیں یہ کیا پہلے چالان میں شامل ہیں۔ جس پر کسٹم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ہم نے یہی تحقیقات کر کے مقدمہ درج کرنا ہے لہذا تحقیقات کی اجازت دی جائے۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ فرض کریں کہ اگر یہ قابل دست اندازی جرم ہے بھی تو پھر اس کی تحقیقات کا کیا طریقہ ہو گا۔ کسٹم حکام پہلے یہ تو واضح کریں کہ یہ رقم کہاں سے آئی اس کے حصول کے لئے کونسے غیر قانونی طریقے اختیار کئے گئے اور اصل جرم کیا بنتا ہے اور کس بنیاد پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا جائے۔ فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ 30 مارچ تک محفوظ کر لیا۔ دریں اثناء ایان علی نے سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی جس پر عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری  کرتے ہوئے سماعت  28 اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔ کرنسی سمگلنگ کیس کی سماعت بھی 28 اپریل کو ہو گی۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ