ہیڈلائنز


دنیا کا پہلا ایس ایم ایس 3 دسمبر 1992 کو بھیجا گیا تھا

Written by | روزنامہ بشارت

ٹیکسٹ پیغامات کو مقبولیت راتوں رات نہیں ملی تھی بلکہ اس کے لیے کافی کام کرنا پڑا تھا۔
سب سے پہلے تو اس فیچر کو جی ایس ایم اسٹینڈرڈ کا حصہ بنایا گیا اور صحیح معنوں میں یہ سروس 1994 میں اس وقت متعارف ہوئی جب نوکیا نے اپنا موبائل فون 2010 فروخت کے لیے پیش کیا جس میں آسانی سے پیغام تحریر کرنا ممکن تھا۔
آج 97 فیصد اسمارٹ فون صارفین ٹیکسٹ پیغامات کسی نہ کسی شکل میں بھیجتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ایک موبائل فون کی مخصوص زبان بھی تشکیل پارہی ہے۔
مختلف رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں صرف ایک روز میں 18.7 ارب تحریری پیغامات بھیجے جاتے ہیں۔
ایس ایم ایس کی وجہ سے لمبے چوڑے خطوط لکھنے کی روایت بھی لگ بھگ ختم ہوکر رہ گئی ہے جبکہ عید یا مخصوص مواقعوں کے لیے کارڈز بھی اپنی موت آپ مرگئے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق موبائل فون صارفین کالز کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ تحریری پیغامات بھیجتے یا موصول کرتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ