ہیڈلائنز


ناسا جس شدومد سے خلائی مخلوق کی تلاش میں سرگرداں

Written by | روزنامہ بشارت

ناسا جس شدومد سے خلائی مخلوق کی تلاش میں سرگرداں ہے اس کے پیش نظر سائنس دانوں کو امید ہے کہ جلد ہی ان کی کوششیں کام یاب ہوں گی اور وہ خلا کی وسعتوں میں نامعلوم مخلوق تلاش کرنے یا اس سے رابطہ کرنے میں کام یاب ہوجائیں گے۔ خلائی مخلوق کی کھوج اور اس سے رابطہ انسان کا دیرینہ خواب ہے جسے تعبیر دینے کے لیے وہ عرصۂ دراز سے کوششیں کرتا آرہا ہے۔

 

گذشتہ صدی کے دوران سائنس و ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی نے اسے اس سلسلے میں عملی طور پر کچھ کرنے کے قابل بنا دیا۔ طاقت وَر دوربینوں سے خلا میں جھانکنے اور ارضی مدار سے باہر مواصلاتی اشارات بھیجنے کے علاوہ اس نے نزدیکی دنیاؤں میں خلائی گاڑیاں بھیج کر نامعلوم مخلوق کا سراغ لگانے کی کوششیں شروع کردیں۔ آج ناسا کی کئی خلائی گاڑیاں مریخ کی سرزمین کو کھنگال رہی ہے، کئی خلائی جہاز مختلف سیاروں اور سیارچوں کے مدار میں موجود رہ کر ان کے متعلق معلومات زمین پر ارسال کررہے ہیں۔ فی الحال یہ تمام کوششیں لاحاصل ثابت ہوئی ہیں مگر سائنس دانوں کا حوصلہ پست نہیں ہوا۔ ان کی امید اسی طرح جوان ہے کہ بہت جلد وہ خلا میں زندگی کا سراغ لگا لیں گے۔

خلائی مخلوق کے بارے میںمختلف تصورات پائے جاتے ہیں کہ وہ علم و دانش میں انسان سے کہیں بڑھی ہوئی ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی میں اس حد تک پہنچی ہوئی ہے جس کا زمین پر تصور نہیں کیا جاسکتا، نیز یہ کہ وہ انسان کی دشمن ہے۔ ان تصورات کو ناولوں اور قصے کہانیوں سے ڈراموں اور فلموں تک ہر جگہ پیش کیا جاتا رہا ہے۔ عوام الناس ان میں بے انتہا دل چسپی لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس موضوع پر بنائی گئی اسٹاروارز جیسی فلمیں سپرہٹ ثابت ہوتی ہیں۔ ان فلموں میں زمین پر خلائی مخلوق کو حملہ آور ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ امریکی حکمران بھی غالباً انھیں حقیقت سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے زمین کو خلائی مخلوق کے حملوں سے بچانے کے لیے اقدامات شروع کردیے ہیں۔

امریکا خود کو عالمی امن کے تحفظ کا ٹھیکیدار سمجھتا ہے۔ غالباً اسی زعم میں اس نے خلائی مخلوق سے تحفظ ارض کا بیڑا بھی اٹھالیا ہے۔ اس مقصد کے لیے امریکی فوج کی ایک نئی برانچ کھولنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ دنیا بھر میں تین قسم کی افواج ہوتی ہیں: بری، بحریہ اور فضائیہ، مگر کرۂ ارض کی حفاظت کے لیے امریکا میں خلائی فوج بنائی جائے گی۔ یونائیٹڈ اسٹیٹس اسپیس کورپس کے نام سے امریکی فوج کا ایک نیا بازو قائم کرنے کی تجویز نیشنل ڈیفینس اتھارائزیشن ایکٹ میں شامل ہے جسے رائے شماری کے لیے ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ یہاں سے منظوری کے بعد یہ بل کانگریس میں پیش کیا جائے گا۔ بل کے مطابق خلائی فوج کی ذمہ داریوں میں زمین سے باہر جاکر دشمن طاقتوں سے جنگ کرنا شامل ہیں۔ خلائی فوج، فضائیہ کے ماتحت ہوگی تاہم اس کے سربراہ کے اختیارات ایئرفورس کے چیف کے مساوی ہوں گے۔ ایئرچیف کی طرح اسپیس کورپس کا سربراہ بھی سیکریٹری ایئرفورس کو جواب دہ ہوگا۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ