ہیڈلائنز


دریا صرف چند ماہ کے اندر غائب

Written by | روزنامہ بشارت

موسمیاتی تبدیلیوں کی 'مہربانی' سے کینیڈا میں یہ حیرت انگیز واقعہ سامنے آیا ہے۔

دریائے یوکون کینیڈا کے بڑے برفانی گلیشیئرز کے پگھلنے سے حاصل ہونے والی پانی پر مشتمل تھا اور محض چند ماہ کے دوران اس نے اپنا رخ بدل لیا ہے۔

سائنسدانوں نے اسے دریا کی 'ہائی جیکنگ' قرار دیا ہے، یہ اصطلاح اُس وقت استعمال کی جاتی ہے جب ایک دریا دوسرے کے پانی اور بہاﺅ پر قبضہ کرلیتا ہے۔

ایسا کینیڈا کے ایک بڑے گلیشیئر کاشکاویولش کے پانی پر بہنے والے دریا کے ساتھ ہوا اور یہ اس لیے حیرت انگیز ہے کیونکہ ایسا ہونے میں ہزاروں برس لگتے ہیں مگر 2016 کے چند ماہ کے دوران یہ کرشمہ ہوگیا۔

محققین کے مطابق عام طور پر اس گلیشیئر سے پگھلنے والی برف کا بہاﺅ شمال کی جانب ہوتا ہے مگر موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں برف کی تہہ کم ہوئی اور اب یہ پانی جنوب کی جانب بہنے لگا ہے۔

گزشتہ سال غیرمعمولی طور پر موسم گرم رہنے کے باعث پگھلنے والی برف کے پانی کا بہاﺅ جنوب کی طرف بہنے والے دریائے الیسک کی جانب ہوگیا۔

واشنگٹن یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل اب ممکنہ طور پر ہمیشہ برقرار رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر کسی دریا کے غائب ہونے یا پانی کے بہاﺅ کا رخ بدلنے کا باعث زمینی پلیٹوں کی تبدیلی یا ہزاروں یا لاکھوں برس تک زمین کے کٹاﺅ کے نتیجے میں ہوتا ہے۔

یہ موجودہ عہد کا پہلا واقعہ ہے جب کسی دریا کے غائب ہونے کا مشاہدہ کیا گیا ہے، محققین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں جب مزید گلیشیئرز پگھلیں گے تو ہم اس سے بھی زیادہ حیران کن تبدیلیاں دیکھیں گے۔

پانی کے بہاﺅ میں تبدیلی سے اس جگہ کے ماحول پر لاتعداد اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ پانی کی قلت کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔


Read Basharat Online

 

 

PentaBuilders

روزنامہ بشارت ٹویٹر


Follow Daily_Basharat on Twitter

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ