ہیڈلائنز

Reporter HA

Write on ھفتہ, 24 فروری 2018

جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے سیٹلائٹس کی جانب سے لی گئی تصاویر کی روشنی میں  میانمار حکومت پر الزام لگایا ہے کہ مسلم اکثریتی علاقے راکھین کے شمالی حصے میں روہنگیا مسلمانوں کے دیہاتوں کو بلڈوزروں کی مدد سے مسمار کیا گیا ہے، جس کا مقصد میانمار فوج کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے گئے مظالم کے شواہد ختم کرنا تھا۔
ہیومن رائٹس واچ ایشیا ریجن کے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز کا کہنا ہے کہ مسمار کیے گئے دیہات روہنگیا مسلمانوں کے خلافجاری بربریت کا واضح ثبوت ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ روہنگیا مسلمانوں کی جغرافیائیتاریخ کا تحفظ کیا جانا چاہیے تاکہ اقوامِ متحدہ غیر جانبدار تحقیقات کرکے ذمہ داروں کی شناخت کر سکے۔
دوسری جانب میانمار کی وزیر برائے سماجی بہبود نے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے دیہاتوں کو مسمار کرنے کا مقصد ان کی تعمیر نو ہے۔

Write on ھفتہ, 24 فروری 2018

عدالتِ عالیہ کے جسٹس شوکت عزیز کے خلاف جاری ہونے والے شوکاز نوٹس میں بتایا گیا کہ ان کا تبصرہ بادی النظر میں اہم آئینی ادارے کے احترام کو کمزور کرتا ہے۔
ایس جے سی ایک سپریم آئینی ادارہ آرٹیکل 209 کے تحت بنایا گیا ہے جو جج صاحبان اور اہم سرکاری عہدوں کے پر فائز ہونے والی شخصیات کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرتا ہے۔
یاد رہے کہ 22 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ انہوں نے جج صاحبان کے خلاف 43 ریفرنسز نمٹادیے ہیں، تاہم رواں برس جون تک تمام ریفرنسز نمٹادیے جائیں گے۔
جسٹس شوکت عزیز کے خلاف تازہ شو کاز نوٹس ایڈووکیٹ کلثوم خلیق کے توسط سے رکنِ قومی اسمبلی جمشید دستی کی جانب سے جمع کرائے گئے ریفرنس پر جاری کیا گیا۔
جمشید دستی کی جانب سے دائر ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا کہ فیض آباد میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے دیے گئے دھرنے سے متعلق ایک سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز نے دھرنا دینے والی مذہبی جماعتوں اور وفاقی حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے پر اعتراض اٹھایا تھا جس میں مسلح افواج کی جانب اہم کردار ادا کیا گیا تھا۔
مذکورہ ریفرنس کا مکمل جائزہ لینے کے بعد رواں ماہ 6 فروری کو ایس جے سی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں یہ رائے دی گئی کہ جسٹس شوکت عزیز ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ جسٹس شوکت عزیز کو وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے ایک ریٹائرڈ ملازم کی جانب سے بھی دائر ریفرنس کا بھی سامنا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عدالتِ عالیہ کے جج نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر بغیر اجازت رنگ و روغن کروایا۔

Write on ھفتہ, 24 فروری 2018

انڈیا کی ریاست پنجاب میں سنہ 1980 کی دہائی میں سکھوں کی ایک زبردست علیحدگی پسند تحریک چلی تھی۔ اس تحریک کے دوران پنجاب میں ہندوؤں اور سکھوں کے درمیان گہری خلیج پیدا ہوئی۔
شدت پسند سکھ تنظیمیں پنجاب میں سکھوں کا ایک علیحدہ ملک بنانا چاہتی تھیں۔ اس تحریک کو کینیڈا، برطانیہ اور امریکہ میں آباد بہت سے سکھوں سے بھی مدد مل رہی تھی۔ یہ تحریک انتہائی پر تشدد رخ اختیار کر گئی۔ اس تحریک کے دوران ہزاروں سکھ اور ہندو مارے گئے۔
انڈیا میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی بھی گولڈن ٹمپل میں شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کے بعد اپنے ہی دو سکھ محافظوں کے ہاتھوں ماری گئیں۔ ان کے مرنے کے بعد ہونے والے سکھ مخالف فسادات میں ہزاروں سکھ مارے گئے۔
ایک آزاد سکھ مملکت یا 'خالصتان' کے قیام کی تحریک کافی عرصے تک چلی جس میں بڑی تعداد میں سکھ نوجوان مسلح تحریک کا حصہ بنے۔ فوج اور بالخصوص ریاستی پولیس کو اس تحریک کو ختم کرنے میں ایک طویل عرصہ لگا۔ پنجاب اور بالخصوص سکھوں کو اس تحریک کی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔
انڈیا کی سیاست اور معیشت میں سکھوں کا بڑا حصہ ہے۔ وہ ہمیشہ ملک کی مین سٹریم میں رہے اور ملک کی معیشت کی ترقی میں بڑا کردار ادا کیا۔ خالصتان کی تحریک کے بعد سکھوں کا اعتماد اور بھروسہ متزلزل ہو گیا تھا۔ تحریک کے خاتمے کے کافی عرصے بعد ریاست کی صورت حال معمول پر آئی ہے۔ پرانے زخم بھرچکے ہیں اور جو تکلیف دہ یادیں ہیں لوگ انھیں فراموش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پنجاب ہی نہیں پورے ملک کی صورت حال کافی بدل چکی ہے۔ پنجاب کا شمار ملک کی سب سے ترقی یا فتہ ریاستوں میں ہوتا ہے۔ ریاست کے لاکھوں لوگ کینیڈا، برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا میں آباد ہیں۔ کینیڈا میں دس لاکھ سے زیادہ انڈین آباد ہیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد سکھوں اور پنجابیوں کی ہے۔ وہ کینیڈا کی سیاست میں بھی زبردست کردار ادا کر رہے ہیں۔
کینیڈا میں سکھوں کی سیاست پر بعض ایسے مذہبی گردوارے بھی اثر انداز ہو رہے ہیں جن کی سوچ ریڈیکل اور سخت گیریت کی جانب مائل ہے۔ وہاں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اب بھی ایک آزاد خالصتان کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ پنجاب کے سکھوں کی اکثریت سخت گیر مذہبیت میں یقین رکھتی ہے اور وہ علیحدگی پسندی کی حمایتی ہے۔ انھیں یہ بھی لگتا ہے کہ پنجاب کے سکھوں اور ہندوؤں کے درمیان پھوٹ ڈال کر علیحدگی پسندی کے مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو جب ایک ہفتے کے لیے انڈیا آئے تو ان کے ذہن میں پنجاب کے بارے میں بہت حد تک یہی تصور تھا جو انھوں نے کینیڈا کے سکھوں کے خیالات سے قا‏ئم کیا تھا۔ انڈیا میں سرکاری سطح پر بہت عرصے سے یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ کینیڈا کی حکومت پنجاب کے علیحدگی پسندوں کی حمایتی ہے۔
ٹروڈو صرف اپنے ملک میں ہی مقبول نہیں ہیں انھیں اور ان کی سیاست کو انڈیا میں بھی بہت عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن جب وہ انڈیا کے دورے پر آئے تو انھیں حکومت کی جانب سے غیر معمولی سرد مہری کا سامنا کرنا پڑا۔ انڈین حکومت ان کو یہ بتانا جاہتی تھی کہ پنجاب میں امن وامان قائم ہے اور یہاں علیحدگی پسندی کی کوئی تحریک نہیں ہے۔ اور یہ کہ ان کی حکومت کے موقف سے پنجاب اور سکھوں کو ہی نہیں ملک کی جمہوریت اور سلامتی کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔
پنجاب میں علیحدگی کی تحریک کے بہت سے رہنما اب بھی موجود ہیں لیکن اب وہ اپنا اثر ورسوخ کھو چکے ہیں۔ ریاست اب پوری طرح پر امن ہے۔ سنہ 1980 کی دہائی کی یادیں ڈراؤنے خواب کی طرح ہیں۔ شاید ہی کسی کے ذہن میں پرانے دنوں کی طرف لوٹنے کا تصورہو۔
کینیڈا، امریکہ اور برطانیہ کے سکھوں کو بھی اب یہ سمجھ لینا چاہيے کہ پنجاب میں حالات بدل چکے ہیں، وقت بدل چکا ہے اور علیحدگی پسندی کی سیاست اب ختم ہو چکی ہے۔

Write on ھفتہ, 24 فروری 2018

فارما ایسوسی ایشنز کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ہنگامی اجلاس لاہور میں منعقد ہوا، شعبے کے تمام اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
اجلاس میں تفصیلی گفتگو اور بحث کے بعد جن اقدامات کی منظوری دی گئی ان میں 5 مارچ کو پورے صوبے میں فارما سیکٹر شٹرڈاؤن کرے گا،تمام میڈیکل اسٹورز، میڈیسن ڈسٹری بیوٹرز، تمام فارمیسی چینز اور فارما مینوفیکچررز اپنا ہر قسم کا کاروبار بند رکھیں گے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈرگ ایکٹ 2017 ترمیمی بل میں ایک سال سے زیادہ گزرنے کے باوجود حکومت کی سرد مہری عیاں ہو گئی ہے، متعدد میٹنگز کے بعد ایک متفقہ بل پرمعاہدہ ہو چکا تھا مگر اس پر کسی قسم کی پیشرفت نہیں ہو رہی ہے اور تمام وزرا کے متعدد وعدوں کے باوجود متفقہ بل پنجاب اسمبلی سے منظور نہ کرایا جا سکا، ان حالات میں حکومت پنجاب نے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اپنا لائحہ عمل تبدیل کریں۔
واضح رہے کہ موجودہ ڈرگ ایکٹ 2017 ترمیمی بل کے تحت ہم اپنا جائز کاروبار جاری نہیں ر کھ سکتے اور 5 مارچ 2018کو پورا فارما سیکٹر ہڑتال کرنے پر مجبور ہے۔

Write on ھفتہ, 24 فروری 2018

زرعی سائنسدان اور سیڈ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے ترجمان شفیق الرحمن نے ایگریکلچر جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مقامی وسائل سے اعلیٰ کوالٹی کا بیج تیار ہورہا ہے، پاکستان میں مکئی کی پیداوار61 لاکھ سالانہ سے تجاوزکر گئی ہے اور مستقبل میں مقامی بیج سے پیداوار میں 100 تا300 فیصد اضافہ ممکن ہے، پاکستانی بیج درآمدی سے سستا اور معیاری ہے جس سے پیداوار کوکئی گنا بڑھایا جاسکتا ہے۔
گندم اور چاول کے بعد مکئی تیسری بڑی فصل ہے جس کی ملکی پیداوار کا 85 فیصد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے جبکہ 13 لاکھ 34 ہزار ہیکٹر پر زیرکاشت فصل کا ملکی مجموعی پیداوار میں 0.5 فیصد حصہ ہے۔

Write on جمعہ, 23 فروری 2018

نتہائی اہمیت کے حامل گیس پائپ لائن منصوبے کی افتتاحی تقریب جمعے کو افغانستان میں منعقد کی گئی جس میں پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، افغان صدر اشرف غنی، ترکمانستان کے صدر قربان گلی بردی محمد وف اور انڈیا کے خارجہ امور کے ریاستی وزیر مبشر جواد اکبر نے شرکت کی۔
ان شخصیات کے علاوہ نیٹو اور امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس تقریب میں مجود تھے۔
افغان صدر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ہر رکاوٹ کو ہٹائے گا۔
دوسری جانب افغان طالبان نے بھی اس منصوبے کی مخالفت نہ کرتے ہوئے اسے خطے کے لیے اہم معاشی منصوبہ قرار دیا ہے۔
افغان طالبان کی جانب سے ان کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تاپی منصوبہ خطے کے لیے اہم معاشی اہمیت رکھتا ہے جسے افعان طالبان کے دور میں شروع کیا گیا تھا لیکن افغانستان میں امریکی یلغار کی وجہ سے اس منصوبے کی تکمیل تاخیر کا شکار ہے۔‘
بیان میں طالبان کی جانب سے ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں اس منصوبے کو فعال بنانے کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
پاکستان، افغانستان، انڈیا اور ترکمانستان کے سربراہان نے دس ارب ڈالر لاگت کے توانائی کے اس منصوبے 'تاپی گیس پائپ لائن' کا سنگ بنیاد 2015 میں رکھا تھا۔
یہ پائپ لائن ابتدائی طور پر 27 ارب مکعب میٹر سالانہ گیس فراہم کر سکے گی جس میں سے دو ارب افغانستان اور ساڑھے 12 ارب مکعب میٹر گیس پاکستان اور بھارت حاصل کریں گے۔

Write on جمعہ, 23 فروری 2018

فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا پیرس میں اجلاس جاری ہے اور پاکستان کا نام اس ادارے کی 'واچ لسٹ' میں شامل کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں حتمی اعلان جمعہ کی شام تک متوقع ہے۔
امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے پاکستان کا نام دہشت گرد تنظیموں کے مالی معاملات پر کڑی نظر نہ رکھنے اور ان کی مالی معاونت روکنے میں ناکام رہنے یا اس سلسلے میں عدم تعاون کرنے والے ممالک کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی قرارداد پیش کر رکھی ہے جس پر اس اجلاس میں غور کیا جا رہا ہے۔
برسلز میں موجود صحافی خالد حمید فاروقی نے تنظیم کے ترجمان الیکزندر دانیالے سے بات کر کےبتایا کہ ابھی تک حتمی اعلان نہیں کیا گیا ہے اور ذرائع ابلاغ میں جو خبریں گردش کر رہی ہیں وہ محض قیاس آرائیاں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے علاوہ ایران اور شمالی کوریا کا نام بھی اس 'گرے لسٹ' میں شامل کرنے کی قرار داد زیر غور ہے لیکن حتمی اعلانیہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔
دریں اثنا پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے ایک ٹوئٹ میں پاکستان کی حمایت کرنے پر ترکی کا شکریہ ادا کیا۔ دو دن قبل پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے ایک بیان میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ تنظیم کی طرف سے حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ انھوں نے اس پیغام میں یہاں تک کہا کہ ان کی کوششیں رنگ لے آئیں۔
لیکن جمعہ کی صبح ایک بھارتی اخبار کا حوالہ دے کر برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے یہ خبر دی کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل کر لیا گیا ہے جس سے پاکستانی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے مقامی ذرائع ابلاغ کو ان خبروں کے رد عمل میں ایک محتاط بیان دیتے ہوئے کہا کہ ابھی حتمی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا کہ اس اجلاس کے نتیجے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کو فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس کے نئے طریقہ کار پر اعتراضات ہیں اور امریکہ کی جانب سے جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ان میں سے بیشتر پر پاکستان پہلے ہی اُس وقت عمل کر چکا ہے جب اسے جون 2015 میں گرے لسٹ سے نکالا گیا تھا۔
پاکستان 2012 سے 2015 تک بھی اس فہرست میں شامل رہ چکا ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فہرست میں شمولیت کی وجہ سے پاکستان کو جن مالی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے ان کا نفاذ جون سے ہو گا۔
تاہم امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوریٹ نے منگل کو بھی اس کی تصدیق سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے پاس کوئی مصدقہ اطلاع نہیں کہ فیصلہ وقت سے پہلے کیا گیا ہے۔
فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس کے اس اجلاس سے قبل پاکستان میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ان تمام تنظیموں کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا جنھیں اقوامِ متحدہ نے دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔
اس آرڈیننس کے نفاذ کے بعد ملک میں انڈیا اور امریکہ کو مطلوب شدت پسند رہنما حافظ سعید سے منسلک تنظیم جماعت الدعوۃ اور اس کے فلاحی ونگ فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف کریک ڈاؤن بھی کیا گیا۔
فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سنہ 2012 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے تحت کالعدم قرار دی گئی تھی لیکن پاکستان میں اس تنظیم کے تحت سینکڑوں ایمبولینسز ملک کی مختلف علاقوں میں کام کر رہی ہیں۔
فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا۔
اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔
اس تنظیم کے 35 ارکان ہیں جن میں امریکہ، برطانیہ، چین اور انڈیا بھی شامل ہیں، البتہ پاکستان اس تنظیم کا رکن نہیں ہے۔
اس ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ایک 'پالیسی ساز ادارہ' ہے جو سیاسی عزم پیدا کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔
اس کے ارکان کا اجلاس ہر تین برس بعد ہوتا ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے۔
اس معاملے پر مالیاتی و اقتصادی امور کے ماہر عابد سلہری نےبات کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'اس گرے لسٹ میں نام آنا پاکستان کے لیے اقتصادی، سفارتی اور سماجی دھچکا ہو گا۔
'سب سے بڑا اثر تو پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات پر پڑے گا، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ، پاکستانی کی مالی ساکھ، ان سب کو بڑا دھچکا لگے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے تاثر کو بھی نقصان پہنچے گا۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان امن بحال ہونے کے بعد سرمایہ کاروں کو اپنے یہاں لانے کی جو کوشش کر رہا ہے، انھیں زک پہنچے گی۔ اس کے علاوہ پاکستان کی طرف جو بھی ادائیگیاں، یا نرم شرائط پر قرضے ملنے والے ہوں گے اس کی زیادہ کڑی چھان بین ہو گی۔ اس موقعے پر اس فہرست میں آنے کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔'
عابد سلہری کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سال جولائی میں نیپال میں ایشیا پیسیفک گروپ کا اجلاس ہو گا جس میں پاکستان میں پاکستان رکنیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں آیا تو شمولیت خطرے میں پڑ جائے گی۔

Write on جمعہ, 23 فروری 2018

اشتیاق احمد اپنے وکیل کے ہمرا پیش ہوئے اور میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ مجھے جے آئی ٹی میں شامل افسران کی نیت پر شک نہیں ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں بھی اللہ کو جواب دینا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ لوگوں کے تعاون سے امید ہے انصاف ضرور ملے گا تاہم انھوں نے کارروائی کی تفصیلات سے آگاہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ آن کیمرہ سیشن کی کارروائی شائع نہیں کی جاسکتی۔
جے آئی ٹی ممبران پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی تمام معاملے کو بڑی باریکی سے دیکھ رہی ہے اور تحقیقات میں واضح ہوگیا ہے کہ واقعہ غفلت نہیں تھا۔
اشتیاق احمد نے اکلوتے بیٹے کے قتل پر انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر انصاف نہ ملا تو ہمارا دنیا میں رہنے کا کوئی مقصد نہیں ہوگا کیونکہ انتظار ہم چار بہن بھائیوں کی واحد اولاد تھی۔
انھوں نے کہا کہ انصاف نہ ملنے پر یا تو قبرستان میں بیٹھ جائیں گے یا تنہائی اختیار کر لیں گے تاہم لائحہ عمل انصاف نہ ملنے کے بعد ہی طے کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ صرف ہماری موجودگی میں ہی نہیں بلکہ غیر موجودگی میں بھی جے آئی ٹی کام کرتی رہتی ہے۔
انتظار قتل کیس کی تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی کے دوسرے سیشن میں مدیحہ کیانی اور ایس ایس مقدس حیدر بھی موجود رہے۔
جے آئی ٹی کو اپنی تفتیش مکمل کرنے کے لیےمزید تین دن رہ گئے ہیں تاہم تحقیقات کی تکمیل کے لیے مزید وقت لگ سکتا ہے۔
انتظار کے قتل کیس کی تحقیقات کے لیے رواں ماہ نئی جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی تھی جس میں آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلیجنس(ایم آئی)، انٹیلی جنس بیورو(آئی بی)، رینجرز اور اسپیشل برانچ کے افسران شامل ہیں۔
انتظار احمد کو ڈیفنس کے علاقے خیابان اتحاد میں 13 جنوری 2018 کی شب کو اے سی ایل سی اہلکاروں کی جانب سے ایک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تھا، جس کے نہ رکنے پر اہلکاروں نے فائرنگ کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے تھے۔
ابتدائی طور پر پولیس کی جانب سے اس واقعے کو دہشت گری کا واقعہ قرار دیا جارہا تھا تاہم بعد ازاں درخشاں تھانے میں اس کا مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد مقتول انتظار کے والد اشتیاق احمد کی جانب سے چیف جسٹس اور آرمی چیف سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی گئی تھی جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملوث اہلکاروں کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔
14 جنوری کو اس کیس میں 6 اے سی ایل سی اہلکاروں کو حراست میں لیا تھا، جس میں 2 انسپکٹر، 2 ہیڈ کانسٹیبل اور 2 افسران بھی شامل تھے۔

صفحہ نمبر 1 ٹوٹل صفحات 277

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ