ہیڈلائنز


بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کنگال اور قلاش کرسکتی ہے

Written by | روزنامہ بشارت

بینکاریاور مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل آزمائشی مرحلہ بھی اسی وقت شروع ہوگا کیونکہ بٹ کوائن خریدنے والے بیشتر لوگ اس بینچ مارک (10 ہزار ڈالر فی یونٹ) کے آتے ہی بٹ کوائن فروخت کرنا شروع کرسکتے ہیں کیونکہ ان کا اصل کام ہی کرنسی کی خرید و فروخت سے منافع کمانا ہے۔تاہم یہ صورتِ حال خود بٹ کوائن کےلیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اس کرنسی کے پیچھے نہ تو کوئی حکومت ہے اور نہ ہی کوئی قابلِ بھروسہ مالیاتی ادارہ جو اس کی گرتی ہوئی قدر (ویلیو) کو کنٹرول کرسکے۔

یہ اوران جیسی کئی باتوں کی بنیاد پر مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بِٹ کوائن دراصل ایک مالیاتی بلبلہ ہے جو اس وقت پھیل ضرور رہا ہے لیکن اپنی آزادانہ حیثیت اور ٹھوس معیشت کی عدم موجودگی میں یہ بلبلہ جلد ہی پھٹ جائے گا، بٹ کوائن کی فی یونٹ قیمت بڑی تیزی سے کم ہوجائےگی اور اس میں سرمایہ کاری کرنے والے لوگ ایک ہی جھٹکے میں مجموعی طور پر کھربوں ڈالروں سے محروم ہونے کے بعد پائی پائی کے محتاج بھی ہوسکتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں

کالم / بلاگ